بہار کی سیاسی حکمت عملی اور انتخابی چیلنجز

تاثیر 29 ستمبر ۲۰۲۵:- ایس -ایم- حسن

بہار کی انتخابی بساط پر سیاسی جوڑ توڑ اور حکمت عملی کے درمیان الیکشن کمیشن اپنی تیاریوں کو حتمی شکل دینے میں مصروف ہے۔چار سے پانچ اکتوبر کو چیف الیکشن کمشنر کی قیادت میں اعلیٰ سطحی ٹیم بہار کا دورہ کرنے والی ہے۔ یہ دورہ سیکیورٹی انتظامات، پولنگ بوتھو کی تیاری اور ووٹر لسٹ کو حتمی شکل دینے کےلئے اہم ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق، چھ یا سات اکتوبر کو انتخابات کا نوٹیفکیشن جاری ہو سکتا ہے، جس کے بعد ضابطہ اخلاق نافذ ہو جائے گا۔بہار اسمبلی کا موجودہ اجلاس 22 نومبر، 2025ء کو ختم ہو رہا ہے، لہٰذا الیکشن کمیشن کے سامنے نومبر کے وسط تک انتخابات مکمل کرنے کی ڈیڈ لائن ہے۔
اس انتخابی ماحول میں بی جے پی کی حکمت عملی خاص طور پر قابل غور ہے۔ بی جے پی کے لئے یہ انتخابات غیر معمولی اہمیت رکھتے ہیں۔ مرکزی وزراء اور اہم لیڈروں کو پارٹی میدان میں اتارنے کی تیاری کر رہی ہے۔ مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ کی قیادت میں بی جے پی ایک منظم حکمت عملی کے تحت کام کر رہی ہے۔ حالانکہ خفیہ رپورٹس کے مطابق زمینی سطح پر پارٹی کو کئی چیلنجز کا سامنا ہے۔ کئی موجودہ ایم ایل ایز کے خلاف عوامی ناراضی اور اینٹی انکمبنسی کا خطرہ بی جے پی کے لئے پریشانی کا باعث ہے۔ اس صورتحال سے نمٹنے کے لئے پارٹی کئی اہم سیٹوں پر اپنے بڑے لیڈروں کو اتارنے پر غور کر رہی ہے، جن میں مرکزی وزراء، سابق ارکان پارلیمنٹ اور دیگر نمایاں شخصیات شامل ہیں۔
بی جے پی کی حکمت عملی کے مطابق پورنیہ سیٹ پر بی جے پی کے صدر ڈاکٹر دلیپ جیسوال کے انتخاب لڑنے کی بات ہو رہی ہے، کیونکہ موجودہ ایم ایل اے کے خلاف عوا م میں زبردست ناراضگی پائی جا رہی ہے۔ اسی طرح راگھوپور، جو راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) کا گڑھ ہے، وہاں مرکزی وزیر نتیانند رائے کو اتارنے کی حکمت عملی تیار کی جا رہی ہے۔ چھپرہ، داناپور، اورنگ آباد، بھاگلپور اور کشن گنج جیسی سیٹوں پر بھی بی جے پی اپنے مضبوط امیدواروں کو میدان میں اتار کر جیت یقینی بنانے کی کوشش کر رہی ہے۔ ان سیٹوں پر آر جے ڈی اور کانگریس کے مضبوط امیدواروں کا مقابلہ کرنے کے لئے بی جے پی اپنے تجربہ کار لیڈروں جیسے راجیو پرتاپ رُوڈی، رام کرپال یادو اور شاہنواز حسین کو استعمال کرنے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے۔
دوسری جانب، الیکشن کمیشن شفاف اور منصفانہ انتخابات کرانے کی تیاریوں میں مصروف ہے۔تین اکتوبر کو دہلی میں ہونے والی میٹنگ میں ،انتخابی عمل کی نگرانی میں کلیدی کردار ادا کرنے والے ذمہ داروں کو ضروری ہدایات دی جائیں گی۔تہواروں کے موسم، جیسے درگا پوجا، دیوالی اور چھٹھ، کے مدنظر انتخابات ممکنہ طور پر دو مراحل میں نومبر میں کرائے جانے کا امکان ہے ۔ ووٹر لسٹ کے خصوصی نظرثانی کے عمل نے وقت کو محدود کر دیا ہے، لیکن الیکشن کمیشن کی تیاریاں اس بات کی عکاسی کرتی ہیں کہ وہ اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے پوری طرح تیار ہے۔
بہار کا انتخابی منظر نامہ اس بار ایک سخت مقابلے کی طرف بڑھ رہا ہے۔ بی جے پی کی جانب سے اپنےامیدواروں کو اس طرح میدان میں اتارنے کی حکمت عملی سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اس جنگ کو جیتنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑنا چاہتی ہے۔ دوسری طرف، آر جے ڈی اور کانگریس بھی اپنی پوزیشن مضبوط کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ خاص طور پر آر جے ڈی کے لیڈر تیجسوی یادو اپنے انتخابی حلقہ راگھوپور سے مضبوط پوزیشن میں ہیں، اور ان کے خلاف بی جے پی کی حکمت عملی کامیاب ہو گی یا نہیں، یہ وقت ہی بتائے گا۔ اس کے علاوہ، بی جے پی کو نہ صرف اپوزیشن بلکہ اپنی اتحادی جماعت جنتا دل یونائیٹڈ (جے ڈی یو) کے ساتھ بھی انتخابی حکمت عملی میں توازن رکھنا ہو گا، کیونکہ نتیش کمار کی قیادت میں جے ڈی یو بھی اپنی سیٹوں پر مضبوط پوزیشن میں ہے۔
واضح ہو کہ بہار کے انتخابات میں سماجی اور علاقائی عوامل بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ ذات پات کی سیاست، اس بار بھی فیصلہ کن کردار میں ہو گی۔ امیدواروں کے تعین میں بی جے پی کی حکمت عملی بھی اسی دائرے میں گھوم رہی ہے۔ پٹنہ صاحب سے سمراٹ چودھری  کو امیدورا بنائے جانے کا امکان کشواہا ووٹروں کو راغب کرنےکے مقصد سے ہے۔ اسی طرح، دیگر سیٹوں پر امیدواروں کے انتخاب میں بھی بی جے پی کی نگاہ سماجی توازن پر ہے۔ تاہم، عوامی ناراضگی اور اینٹی انکمبنسی کے رجحان کو سنبھالنا پارٹی کے لئے بڑا چیلنج ہے۔حالانکہ ماہرین کا ماننا ہے کہ اس انتخابی جنگ میں جیت اسی پارٹی کی ہو گی ،جو زمینی حقائق کو بہتر طور پر سمجھ کر اپنی حکمت عملی مرتب کرے گی۔ بی جے پی اسی تناظر میں کام کر رہی ہے۔ وہ اس انتخاب کو ہر قیمت پر جیتنا چاہتی ہے۔ لیکن بہار کی سیاسی اور سماجی ساخت کے پیش نظر، یہ جنگ کسی بھی سیاسی جماعت کے لئے بہت آسان نہیں ہو گی۔
************