تاثیر 5 ستمبر ۲۰۲۵:- ایس -ایم- حسن
جنیوا،05ستمبر:بچوں کے حقوق سے متعلق اقوام متحدہ کی ذیلی تنظیم ’یونیسف‘ نے خبردار کیا ہے کہ غزہ میں ’بچپن زندہ نہیں رہ سکتا‘ … یہ موقف ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اسرائیل غزہ شہر پر مکمل قبضے کے لیے تیاری کر رہا ہے۔یونیسف کی ترجمان تیس انگرام نے جمعرات کو آگاہی فراہم کرتے ہوئے کہا “دنیا اس بڑے فوجی حملے کے ممکنہ نتائج پر خطرے کی گھنٹی بجا رہی ہے، جو غزہ شہر میں قریب دس لاکھ افراد کے لیے تباہی ثابت ہو سکتا ہے۔اسرائیلی فوج فی الحال غزہ شہر پر قبضے کی تیاری کر رہی ہے، جو محصور غزہ کی پٹی کا سب سے بڑا شہر ہے۔ تل ابیب نے منگل کو ہزاروں اضافی فوجیوں کو طلب کر لیا۔
انگرام نے اپنے غزہ کے حالیہ دورے کے حالات بیان کیے جو نو روز پر مشتمل تھا۔ انھوں نے کہا “یہ ناقابلِ تصور حقیقت قریب نہیں بلکہ پہلے ہی موجود ہے۔ صورت حال تیزی سے بگڑ رہی ہے۔ان کا مزید کہنا تھا “بچوں کے جسم غذائی قلت اور بھوک سے کمزور ہو رہے ہیں، نقل مکانی نے انھیں پناہ اور دیکھ بھال سے محروم کر دیا ہے، اور بم باری ان کی ہر حرکت کو خطرے میں ڈال رہی ہے۔ یہی وہ شکل ہے جس میں قحط جنگی علاقے میں ظاہر ہوتا ہے، اور میں نے یہ منظر غزہ شہر کے ہر کونے میں دیکھا۔یونیسف کی اس خاتون عہدے دار نے کہا کہ غزہ کی صورت حال “اتفاقی نہیں بلکہ براہِ راست ان فیصلوں کا نتیجہ ہے جنھوں نے غزہ شہر بلکہ پورے علاقے کو ایسا مقام بنا دیا ہے جہاں ہر روز لوگوں کی زندگی پر ہر طرف سے حملہ ہو رہا ہے۔انگرام کے مطابق فلسطینیوں کی زندگی کو منظم انداز میں تباہ کیا جا رہا ہے۔ انھوں نے اسرائیل سے مطالبہ کیا کہ وہ “اپنے جنگ کے قواعد پر نظرثانی کرے تاکہ بچوں کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے” اور امدادی سامان کے داخلے کی اجازت دے۔ انگرام نے حماس سے مطالبہ کیا کہ وہ تمام قیدیوں کو رہا کرے۔

