تاثیر 20 ستمبر ۲۰۲۵:- ایس -ایم- حسن
سائبر کرائم کی دنیا میں ہر روز نئی چالاکیوں کا اضافہ ہو رہا ہے، جو نہ صرف مالی نقصان کا باعث بنتی ہیں بلکہ انسانی جانوں کو بھی خطرے میں ڈال دیتی ہیں۔ ریاست بہار میں سائبر جرائم کی روک تھام کے لئے تشکیل دیے گئے خصوصی آپریشن سیل (ایس او سی) اور حیدرآباد میں ایک بزرگ خاتون کی ’’ڈیجیٹل گرفتاری‘‘ کے دھوکے سے ہونے والی موت کے واقعات اس بات کی غمازی کرتے ہیں کہ ڈیجیٹل دور میں حفاظت کی جدوجہد کتنی پیچیدہ اور ضروری ہے۔ یہ دونوں واقعات ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتے ہیں کہ ٹیکنالوجی کی ترقی کے ساتھ ساتھ جرائم پیشہ عناصر بھی کس تیزی سے اپنے ہتھیار تیز کر رہے ہیں، اور سرکاری اقدامات کس حد تک مؤثر ثابت ہو رہے ہیں۔
بہار پولیس کی اقتصادی جرائم یونٹ (ای او یو) کے تحت قائم یہ ایس او ایس ایک اہم قدم ہے، جو سائبر جرائم کی بڑھتی ہوئی وارداتوں پر قابو پانے کی کوشش کا مظہر ہے۔ اس سیل کے قیام کے لئے محکمہ داخلہ نے 14.74 کروڑ روپے کی انتظامی منظوری دی ہے، جس میں ضروری آلات کی خریداری اور دیگر کام شامل ہیں۔ای او یو کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل نیئر حسنین خان کا کہنا ہے کہ سائبر مجرموں کی حکمت عملی کو توڑنے کے لئے گہری تحقیق اور منظم کارروائی پر توجہ مرکوز کی جا رہی ہے۔ یہ سیل نہ صرف جرائم کی روک تھام کرےگا بلکہ عوامی شعور بیدار کرنے میں بھی کردار ادا کرے گا۔ پولیس کے بیان کے مطابق، مئی 2025 سے اب تک 825 پولیس افسران کو تربیت دی گئی ہے، جبکہ 61 افسران کو مصنوعی ذہانت (اے آئی) اور مشین لرننگ ٹولز کے استعمال میں سی ڈیک کے تعاون سے ماہر بنایا گیا ہے۔ یہ تربیت اس لئے اہم ہے کہ سائبر جرائم اب روایتی طریقوں سے نہیں بلکہ جدید ٹیکنالوجی سے انجام دیے جا رہے ہیں۔
جنوری سے جولائی 2025 تک بہار میں 152 سائبر مجرموں کو گرفتار کیا گیا، جبکہ اگست میں یہ تعداد 12 رہی۔ اسی عرصے میں متاثرین کو 3.89 کروڑ روپے واپس کیے گئے، اور اگست میں 72.03 لاکھ روپے کی بازیابی ہوئی۔ 2025 کے پہلے سات مہینوں میں 1,642 کیسز کا تصفیہ کیا گیا، جبکہ اگست میں 302 کیسز نمٹائے گئے۔ یہ اعدادوشمار بتاتے ہیں کہ حکومت کی سطح پر اقدامات کیے جا رہے ہیں، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا یہ کافی ہیں؟ سائبر جرائم کی شرح میں اضافہ دیکھتے ہوئے، ایسے سیلز کو ملک بھر میں پھیلانے کی ضرورت ہے تاکہ علاقائی سطح پر فوری ردعمل ممکن ہو سکے۔
دوسری جانب، حیدرآباد کا دلخراش واقعہ سائبر جرائم کی نفسیاتی دہشت کو عیاں کرتا ہے۔ ایک 76 سالہ ریٹائرڈ میڈیکل آفیسر کو ‘’’ڈیجیٹل گرفتاری‘‘ کے نام پر دھوکہ دیا گیا، جس کے نتیجے میں انہیں کارڈیک اٹیک کا سامنا کرنا پڑا اور موت واقع ہو گئی۔ حیدرآباد سائبر کرائم پولیس نے کیس نمبر 1669/2025 درج کیا ہے، اور ڈی سی پی کویتا کی تصدیق کے مطابق تفتیش جاری ہے۔ مجرموں نے 5 سے 8 ستمبر کے درمیان خاتون کو فون کالز، جعلی کورٹ نوٹسز، اور ویڈیو کالز کے ذریعے دھمکایا۔ 6 ستمبر کو ان کے بینک اکاؤنٹ سے 6 لاکھ 60 ہزار 543 روپے مہاراشٹر کے ایک شیل اکاؤنٹ میں منتقل کیے گئے، جو بعد میں کریپٹو کرنسی میں تبدیل کر دیے گئے۔ خاندان نے پولیس کو بتایا کہ دھمکیوں اور اذیت کی وجہ سے خاتون کی صحت بگڑی، اور 8 ستمبر کو ان کی موت ہو گئی۔ موت کے بعد بھی مجرموں کے میسجز آتے رہے، جس سے خاندان کو شک ہوا اور انہوں نے شکایت درج کرائی۔
یہ واقعہ ’’ڈیجیٹل گرفتاری‘‘کی نئی چالاکی کو ظاہر کرتا ہے، جہاں مجرم جعلی پولیس اسٹیشن کا بیک گراؤنڈ، وردی، اور آئی ڈی کارڈ استعمال کرتے ہیں۔ وہ سی بی آئی، آئی ٹی، کسٹمز، نارکوٹکس بیورو، یا آر بی آئی کے افسر بن کر لوگوں کو ڈراتے ہیں کہ ان کے پارسل میں منشیات ملی ہیں یا فون سے غیر قانونی کام ہو رہے ہیں۔ ڈیپ فیک ویڈیوز اور جعلی گرفتاری وارنٹ کا استعمال بھی عام ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے اکتوبر 2024 میں اس مسئلے پر خاص بات کی تھی، لیکن ایسے واقعات بتاتے ہیں کہ عوامی آگاہی اب بھی ناکافی ہے۔ پولیس کا مشورہ ہے کہ ایسے کیسز میں فوری طور پر 1930 ہیلپ لائن یا cybercrime.gov.in پورٹل پر رپورٹ کی جائے۔
الغرض سائبر جرائم کو روکنے کے لئے نہ صرف حکومت کی سطح سے مؤثر اقدامات بلکہ عوامی شعور کی بالیدگی کے ساتھ ساتھ ٹیکنالوجی کی تربیت ضروری ہے۔ بہار کے ایس او سی جیسی پہل کو ملک بھر میں پھیلانا چاہیے، جبکہ بزرگ اور کم خواندہ افراد کو خاص طور پر آگاہ کرنے کی خصوصی مہم چلائی جانی چاہئے۔ ڈیجیٹل دنیا میں حفاظت کی جنگ اب محض پولیس کی نہیں بلکہ ہر شہری کی ذمہ داری ہے۔ اگر ہم نے ابھی کنٹرول نہیں کیا تو یہ دہشت مزید پھیلے گی، اور مزید جانیں ضائع ہو سکتی ہیں۔ ضرورت ہے ایک جامع قومی حکمت عملی کی، جو اے آئی کی مدد سے مجرموں کا تعاقب کرے اور عوام کو بااختیار بنائے۔صرف اور صرف اسی طرح ہم ڈیجیٹل دور کو محفوظ بنا سکتے ہیں۔
**************

