غزہ میں پانی کے بحران کی خطرناک وارننگ ،اسرائیلی بمباری جاری

تاثیر 2 ستمبر ۲۰۲۵:- ایس -ایم- حسن

غزہ،02ستمبر:غزہ شہر میں اسرائیلی فضائی حملے فجر کے وقت سے جاری ہیں۔ العربیہ/الحدث کے رپورٹر کے مطابق منگل کے روز شہر میں اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں 38 فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں۔شہری دفاع کے ترجمان محمود بصل نے بتایا کہ اسرائیلی لڑاکا طیارے نے شہر میں ایک رہائشی عمارت کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں درجنوں افراد ہلاک ہوئے۔ علاوہ ازیں اسرائیلی ہیلی کاپٹروں نے غزہ کے مغربی علاقے میں ایک فلیٹ پر بمباری کی، جس سے تین افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے۔
غزہ میونسپلٹی نے انتباہ جاری کیا ہے کہ اسرائیلی کارروائی کے باعث المنارہ اور شیخ رضوان کے شمال مغربی حصے میں بارش کے پانی کے جمع ہونے والے ہول میں شدید خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔ میونسپلٹی کے بیان کے مطابق حفاظتی وجوہات کی بنا پر ٹیمیں ان ہولز تک رسائی اور ان کی مرمت نہیں کر پا رہیں۔میونسپلٹی نے واضح کیا کہ “اگر ہماری ٹیمیں سٹیٹیشن نمبر 5 جسے ‘بقارہ سٹیشن’ کہا جاتا ہے اور سٹیشن 7B جو زیتون کے مشرقی علاقے میں ہے تک پہنچ کر انہیں آپریٹ نہ کر سکیں تو علاقے میں پانی کا اخراج اور مکانات میں پانی بھرنے کا خطرہ ہے۔اسرائیلی فورسز شہر پر قبضے کے لیے حملے کی تیاری کر رہی ہیں اور تقریباً 60 ہزار ریزرو فوجی بلائے جا چکے ہیں۔ گذشتہ دنوں میں بمباری میں بھی اضافہ ہوا ہے۔اقوام متحدہ کے اندازے کے مطابق، تقریباً ایک ملین افراد غزہ اور اس کے گردونواح میں رہائش پذیر ہیں، یعنی وہی علاقے جو عالمی ادارے نے اگست کے آخر میں شدید قحط کے شکار قرار دیے تھے۔ بیشتر شہری جو جنوب کی طرف نقل مکانی کر چکے ہیں، ان کے لیے محفوظ پناہ گاہیں موجود نہیں ہیں۔