کئی ریاستوں میں سیلاب کا قہر

تاثیر 4 ستمبر ۲۰۲۵:- ایس -ایم- حسن

پچھلے کچھ دنوں سے جاری موسلا دھار بارش نے بھارت کے شمالی علاقوں کو ایک بھیانک سانحے کی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ پنجاب، جو اس قدرتی آفت کا سب سے بڑا شکار بنا ہے، میں زندگی مفلوج ہو کر رہ گئی ہے۔ دریاؤں کے پانی کی سطح خطرناک حد تک اونچی ہو گئی ہے، علاقے پانی میں ڈوبے ہوئے ہیں۔ بارشوں کا یہ قہر نہ صرف پنجاب بلکہ ہماچل پردیش، اتراکھنڈ، جموں و کشمیر، دہلی، ہریانہ اور دیگر ریاستوں میں بھی تباہی کا باعث بنا ہوا ہے ۔ ۔
پنجاب میں بارش کا سلسلہ اس قدر شدید ہے کہ ریاست کے تمام 23 اضلاع کو سیلاب زدہ قرار دے دیا گیا ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق، امرتسر میں 27.6 ملی میٹر، لدھیانہ میں 29.8 ملی میٹر، اور گرداسپور میں 94.7 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی ہے۔ یہ بارشیں ستلج اور راوی جیسی ندیوں میں پانی کی سطح کو آسمان کی بلندیوں تک لے گئی ہیں۔ بھاکڑا ڈیم سے بڑی مقدار میں پانی چھوڑنے کی وجہ سے روپ نگر اور آس پاس کے دیہاتوں میں سیلابی انتباہ جاری کیا گیا ہے۔ تقریباً 1400 دیہی علاقے پانی کی زد میں ہیں، اور 3.5 لاکھ سے زائد لوگ متاثر ہوئے ہیں۔ اب تک 37 افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ لاکھوں ایکڑ زرعی اراضی تباہ ہو گئی ہے۔ پنجاب حکومت نے پورے ریاست کو آفت زدہ قرار دے کر تمام تعلیمی اداروں کو 7 ستمبر تک بند کر دیا ہے۔ وزیر تعلیم ہرجوت سنگھ بینس نے لوگوں سے مقامی انتظامیہ کی ہدایات پر عمل کرنے کی اپیل کی ہے۔ وزیر اعلیٰ نے مرکزی حکومت سے 60,000 کروڑ روپے کی امداد اور فی ایکڑ 50,000 روپے معاوضے کی درخواست کی ہے۔ یہ سیلاب ریاست کی تاریخ کا بدترین سیلاب قرار دیا جا رہا ہے، جو 1988 کے سیلاب کی یاد تازہ کر رہا ہے۔
یہ آفت صرف پنجاب تک محدود نہیں۔ شمالی بھارت کے پہاڑی علاقوں میں بھی صورتحال انتہائی تشویشناک ہے۔ جموں و کشمیر، ہماچل پردیش اور اتراکھنڈ میں تیز بارشوں سے لینڈ سلائیڈنگ اور فلیش فلڈز رونما ہو رہے ہیں۔ کشتواڑ ضلع کے چوسیتی گاؤں میں کلاؤڈ برسٹ سے 67 سے زائد افراد ہلاک اور 200 لاپتہ ہو گئے۔ اتراکھنڈ کے اترکاشی میں فلیش فلڈ سے 5 افراد ہلاک اور 50 لاپتہ ہیں۔ محکمہ موسمیات نے ان ریاستوں کے لئے ریڈ الرٹ جاری کیا ہے۔ دہلی میں یمنا ندی خطرے کی سطح سے اوپر بہہ رہی ہے، جس کی وجہ سے تقریباً 10,000 افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا ہے۔ ہریانہ کے روہتک میں پانی کی سطح 5-6 فٹ تک پہنچ گئی، جس سے لوگ احتجاج پر اتر آئے ہیں۔ اوڈیشا، مغربی بنگال اور شمال مشرقی ریاستوں میں بھی ریڈ الرٹ ہے، جبکہ اتر پردیش اور بہار میں گنگا، یمنا اور کوسی جیسی ندیاں خطرے کی سطح سے اوپر بہہ رہی ہیں۔ کانپور، پریاگراج اور وارانسی جیسے اضلاع میں سیلابی صورتحال ہے۔
یہ قدرتی آفت انسانی جانوں کے ضیاع کے ساتھ ساتھ معاشی تباہی بھی لا رہی ہے۔ زرعی شعبہ، جو پنجاب کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے، بری طرح متاثر ہوا ہے۔ لاکھوں ایکڑ فصلیں تباہ ہو گئیں ہیں، جس سے کسانوں کو اربوں روپے کا نقصان ہوا ہے۔ ٹرانسپورٹیشن
نظام درہم برہم ہے، متعددسڑکیں اور پُل بہہ گئے ہیں، اور روزگار کے مواقع ختم ہو رہے ہیں۔ لوگ اپنے گھروں سے بے گھر ہو کر ریلیف کیمپوں میں پناہ لے رہے ہیں، جہاں خوراک، پانی اور ادویات کی کمی ہے۔ عورتیں اور بچے سب سے زیادہ متاثر ہیں، جبکہ بوڑھے افراد طبی سہولیات سے محروم ہیں۔ یہ صورتحال موسمیاتی تبدیلی کی شدت کو ظاہر کرتی ہے، جہاں مانسون کی بارشیں غیر معمولی ہو گئی ہیں۔
حکومت کی سطح پر اقدامات ضرور کیے جا رہے ہیں۔ مرکزی وزارت داخلہ نے سیلاب زدہ ریاستوں کا جائزہ لینے کے لیے مرکزی ٹیمیں تشکیل دی ہیں۔ راہل گاندھی نے وزیر اعظم مودی سے شمالی ریاستوں کے لیے خصوصی ریلیف پیکیج کا مطالبہ کیا ہے۔ فوج اور این ڈی آر ایف کی ٹیمیں ریسکیو آپریشنز میں مصروف ہیں۔ تاہم، یہ اقدامات ناکافی نظر آتے ہیں۔ پیشگی انتباہ کے نظام میں بہتری کی ضرورت ہے، اور ڈیموں کی نگرانی کو مزید موثر بنانا چاہیے۔ بھارت اور پاکستان کے درمیان پانی کی تقسیم کے معاہدوں پر عمل درآمد بھی ضروری ہے، کیونکہ بھارت نے پاکستان کو مزید سیلاب کی وارننگ دی ہے۔
یہ قدرتی آفت ہمارے لئے ایک بڑا سبق بھی ہے۔ موسمیاتی تبدیلی کے خلاف جنگ کو تیز کرنا ہوگا، ماحولیاتی نظام کو چست درست کرنا ہوگا، درخت لگانے، پانی کے ذخائر بنانے اور شہری منصوبہ بندی کی بہتر ی پر غور کرنا گا۔ حکومتوں کو بھی مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ شہریوں کو بھی اپنی ذمہ داریاں نبھانی ہونگی۔ یہ وقت مل کر کام کرنے کا ہے، جہاں ہر شخص دوسرے کی مدد کرے۔ اگر ہم اب نہ جاگے تو مستقبل میں ایسی آفتیں اور شدید ہوں گی۔ امید ہے کہ یہ بارشیں جلد تھم جائیں گی، اورحالات معمول پر آجائیں گے۔
*******************