تاثیر 30 ستمبر ۲۰۲۵:- ایس -ایم- حسن
مہاتما گاندھی کا نام آتے ہی ذہن میں ایک ایسے شخص کی تصویر ابھرتی ہے، جس نے اپنی ساری زندگی ظلم اور ناانصافی کے خلاف عدم تشدد اور سچائی کے ہتھیار سے جدوجہد کی۔ ان کی تعلیمات صرف بھارت ہی نہیں بلکہ پوری دنیا کے لئے روشنی کا مینار ہیں۔ افسوس کہ گاندھی جینتی کے عین قبل لندن میں ان کے آئیکونک مجسمے کے ساتھ بدسلوکی کا افسوسناک واقعہ پیش آیا ہے۔ ٹیوِسٹاک اسکوائر میں نصب اس مجسمے کو نقصان پہنچایا گیا ہے اور اس کے چبوترے پر بھارت مخالف نعرے درج کر دیے گئے ہیں۔ یہ واقعہ محض ایک قومی رہنما کی توہین نہیں بلکہ عالمی امن اور انسانیت کے اس پیغام پر حملہ ہے، جسے گاندھی نے اپنی عملی زندگی سے ثابت کیا تھا۔
یہ امر اپنی جگہ نہایت معنی خیز ہے کہ یہ حرکت ایسے وقت میں کی گئی جب دنیا گاندھی جینتی اور بین الاقوامی یومِ عدم تشدد منانے کی تیاری کر رہی تھی۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اب بھی ایسے عناصر موجود ہیں، جو امن، رواداری اور عدم تشدد کی تعلیمات سے خائف ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ اگر یہ پیغام عوام کے دل و دماغ میں راسخ ہو گیا تو نفرت اور انتہا پسندی کے بازار بند ہو جائیں گے۔ اس لئے وہ علامتی سطح پر ہی سہی، گاندھی کی یادگاروں کو نشانہ بنا کر اپنی نفرت کا اظہار کرتے ہیں۔
بھارتی ہائی کمیشن نے اس واقعے پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اسے ’’عدم تشدد کے فلسفے پر حملہ‘‘ قرار دیا ہے۔ فوری طور پر برطانوی حکام کو اطلاع دی گئی ہے اور پولیس نے بھی تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔ مجسمے کی مرمت کی کارروائی جاری ہے تاکہ اسے اس کی اصل حالت میں بحال کیا جا سکے۔ بلاشبہ یہ اقدامات ضروری ہیں، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا محض مرمت اور گرفتاری سے مسئلہ حل ہو جائے گا؟ کیا ضروری نہیں کہ مغربی معاشروں میں اس بات پر سنجیدگی سے غور ہو کہ یہ انتہاپسندانہ ذہنیت کیوں پروان چڑھ رہی ہے اور اسے کون سی طاقتیں ہوا دے رہی ہیں؟
تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ گاندھی کی تعلیمات نے نہ صرف بھارت کو آزادی دلائی بلکہ دنیا کے کئی خطوں میں تحریکوں کو متاثر کیا۔ مارٹن لوتھر کنگ جونیئر اور نیلسن منڈیلا جیسے رہنماؤں نے گاندھی کے افکار سے رہنمائی لی۔ یہ بات صاف ہے کہ گاندھی کا فلسفہ کسی ایک قوم یا مذہب کا نہیں بلکہ پوری انسانیت کا سرمایہ ہے۔ ان کا مجسمہ تو ٹوٹ سکتا ہے مگر ان کا نظر یے کو نہ تو جھکایا جا سکتا ہے اور نہ ہی مٹایا جا سکتا ہے۔یہ واقعہ ہمیں جھنجھوڑتا ہے کہ کیا ہم نے گاندھی کو صرف نصابی کتابوں، سالانہ تقریبات اور مجسموں تک محدود کر دیا ہے؟ یا ہم نے واقعی ان کے افکار کو اپنی زندگی، سیاست اور معاشرت کا حصہ بنایا ہے؟ اگر ہم گاندھی کے عدم تشدد، سچائی اور رواداری کے پیغام کو اپنی روزمرہ کی زندگی میں جگہ دیں تو پھر نہ لندن میں کوئی مجسمہ توڑنے کی جرات کرے گا اور نہ ہی دنیا کے کسی کونے میں نفرت اپنی جڑیں مضبوط کر پائے گی۔
اس وقت ضرورت ہے کہ ہم جذباتی ردعمل کے بجائے وقار اور حکمت کے ساتھ جواب دیں۔ یہی گاندھیائی تعلیمات کی اصل روح ہے۔ دنیا کے بدلتے ہوئے حالات میں جب نفرت اور انتہا پسندی کی سیاست تیزی سے فروغ پا رہی ہے، گاندھی کے پیغام کو مزید شدت کے ساتھ عام کرنے کی ضرورت ہے۔یاد رکھنا چاہیے کہ گاندھی کا مجسمہ اگر ٹوٹ بھی جائے تو ان کی تعلیمات ہمیشہ زندہ رہیں گی۔ یہی ان کے لیے سچا خراج عقیدت اور ہماری اصل ذمہ داری بھی ہے۔ ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ شخصیات کی اصل طاقت ان کے نظریات میں ہوتی ہے، نہ کہ مجسموں یا تصویروں میں۔ مجسمے توڑنے والے چند لمحوں کے لیے خبروں میں جگہ بنا سکتے ہیں، لیکن گاندھی کا پیغام صدیوں تک انسانیت کو روشنی دیتا رہے گا۔
آج دنیا میں بڑھتی ہوئی جنگی سیاست، نسل پرستی اور مذہبی انتہا پسندی اس بات کی متقاضی ہے کہ ہم گاندھی کے فلسفے کو نہ صرف یاد کریں بلکہ اسے عملی سطح پر اپنی زندگی اور معاشروں میں نافذ کریں۔ اگر دنیا کے رہنما اپنے فیصلوں میں عدم تشدد، رواداری اور انسانی احترام کے اصولوں کو شامل کریں تو یہ زمین سب کے لیے امن کا گہوارہ بن سکتی ہے۔ اس لئے ضروری ہے کہ ہم محض سالانہ تقریبات تک محدود نہ رہیں، بلکہ اپنے قول و عمل سے یہ ثابت کریں کہ گاندھی کا فلسفہ آج بھی زندہ ہے اور آنے والی نسلوں کو ایک بہتر، محفوظ اور پرامن دنیا دینے کی ضمانت فراہم کرتا ہے۔

