تاثیر 2 ستمبر ۲۰۲۵:- ایس -ایم- حسن
تیانجن،02ستمبر:چین کے شمالی شہر تیانجن میں منعقدہ شنگھائی تعاون تنظیم کے سالانہ اجلاس میں روسی صدر ولادیمیر پوتین اور بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی شرکت کے بعد ایک اہم پیش رفت دیکھنے میں آئی جب چینی صدر شی جن پنگ نے اپنے روسی ہم منصب کے ساتھ تصویر بنوائی۔ آج منگل کو انہوں نے شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اْن کابھی استقبال کیا۔چین، روس اور شمالی کوریا کے سربراہان پہلی مرتبہ ایک ساتھ بیٹھ رہے ہیں۔ یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں ہو رہی ہیجب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور مغربی رہنما اس پیش رفت کو قریب سے دیکھ رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق بیجنگ میں پوتین اور ِکم کی موجودگی اس بات کی علامت ہے کہ چین مغربی غلبے والے عالمی نظام کو ازسرنو متعین کرنا چاہتا ہے۔اس اجلاس سے ایک نئے سہ فریقی اتحاد کے امکانات بھی پیدا ہوئے ہیں خصوصاً جون 2024ء میں روس اور شمالی کوریا کے درمیان دفاعی معاہدے اور چین کے ساتھ قریبی تعلقات کی روشنی میں یہ پیش رفت ہو رہی ہے۔ یہ پیش رفت ایشیا اور بحرالکاہل میں عسکری توازن پر گہرے اثرات ڈال سکتی ہے۔

