ایچ-1بی ویزا فیس میں اضافے سے امریکی اختراعات پر اثر پڑے گا، ہندوستانی اسٹارٹ اپ کو فائدہ ہوگا: امیتابھ کانت

تاثیر 20 ستمبر ۲۰۲۵:- ایس -ایم- حسن

نئی دہلی، 20 ستمبر: نیتی آیوگ کے سابق سی ای او امیتابھ کانت نے ہفتہ کو کہا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سالانہ ایچ-1بی ویزا فیس کو 100,000 امریکی ڈالر(تقریباً 90 لاکھ روپے) تک بڑھانے کے فیصلے سے امریکی اختراع پر اثر پڑے گا۔ اس سے ہندوستان میں نئی لیبز، پیٹنٹ اور سٹارٹ اپس کی ایک لہر آئے گی، جس کے نتیجے میں بنگلورو اور حیدرآباد جیسے شہر ابھریں گے۔
امیتابھ کانت نے ایک ایکس پوسٹ میں کہا کہ عالمی ٹیلنٹ کے دروازے بند کرکے، امریکہ لیبز، پیٹنٹ، اختراعات، اور اسٹارٹ اپس کی اگلی لہر کو بنگلورو، حیدرآباد، پونے اور گڑگاؤں تک پہنچا رہا ہے۔ ہندوستان کے بہترین ڈاکٹروں، انجینئروں، سائنسدانوں اور تخلیق کاروںکے پاس ملک کی ترقی اور ترقی یافتہ ہندوستان کی طرف پیشرفت میں اپنا حصہ ڈالنے کا موقع ہے۔ امریکہ کا نقصان بھارت کا فائدہ ہو گا۔
دریں اثنا،انفوسس کے سابق چیف فنانشل آفیسر (سی ایف او) موہن داس پائی نے کہا کہ ایچ-1بی ویزا کے درخواست دہندگان پر 100,000امریکی ڈالر کی بھاری سالانہ فیس عائد کرنے کے امریکی فیصلے سے کمپنیوں کی جانب سے نئی درخواستیں کم ہو جائیں گی۔ آنے والے مہینوں میں امریکہ میں آؤٹ سورسنگ بڑھ سکتی ہے۔