تاثیر 15 ستمبر ۲۰۲۵:- ایس -ایم- حسن
دبئی انٹرنیشنل کرکٹ اسٹیڈیم کی جگمگاتی روشنیوں میں، اتوار کے روز بھارت اور پاکستان کے درمیان ایشیا کپ 2025 کا چھٹا میچ ایک یادگار معرکہ ثابت ہوا۔ اس ٹی۔20 مقابلے میںبھارت نے پاکستان کو سات وکٹوں سے شکست دے کر نہ صرف اپنی برتری ثابت کی بلکہ کرکٹ کے شائقین کو بھی ایک شاندار کھیل کا تحفہ دیا۔اور سچ تو یہ بھی ہے کہ یہ میچ کھیل کے میدان سے زیادہ سوشل میڈیا کے اکھاڑے میں بھی لڑا جا رہا تھا، جہاں کھیل کے بجائے سیاست اور نفرت کابول بالا تھا ۔ کھیل کو سیاست سے الگ رکھنے اور دونوں ملکوں کے درمیان خوشگوار تعلقات کے فروغ کی امید دور دور تک دکھائی نہ دی۔ تاہم اس شور و غوغا میں ایسے تماشائی بھی موجود تھے جو اس مقابلے کو کھیل کے جذبے اور دوستی کے پیغام کے طور پر دیکھنے کے خواہاں تھے۔
پاکستان نے ٹاس جیت کر بیٹنگ کا فیصلہ کیا، لیکن آغاز ہی سے اس کی اننگز لڑکھڑا گئی۔ 20 اوورز میں وہ نو وکٹوں کے نقصان پر صرف 127 رنز بنا سکی۔ بھارتی بولرز کی منصوبہ بند حکمت عملی اور شاندار کارکردگی نے پاکستان کو سنبھلنے نہ دیا۔ ہاردک پانڈیا نے پہلے اوور میں صائم ایوب کو صفر پر آؤٹ کیا، بمرا نے دوسرے اوور میں محمد حارث کو بھی پیولین بھیج دیا۔ صاحبزادہ فرحان نے 44 گیندوں پر 40 رنز اور شاہین آفریدی نے آخری لمحات میں 16 گیندوں پر 33 ناٹ آؤٹ رنز بنا کر مزاحمت کی، لیکن یہ سب بھارت کی بولنگ کے سامنے ناکافی رہا۔ کلدیپ یادیو نے 17 رنز دے کر تین وکٹیں حاصل کیں۔ انھیں ’’مین آف دی میچ‘‘ قرار دیا گیا۔ اکشر پٹیل اور بمرا نے دو دو وکٹیں لیں، جبکہ 37 ڈاٹ بالز نے پاکستان کے رن ریٹ کو دبا دیا۔ یہ جیت دراصل بھارت کے بولنگ یونٹ اور اجتماعی ٹیم ورک کی جیت تھی۔
انڈیا کی بیٹنگ اننگز بھی اعتماد اور جارحیت سے بھرپور رہی۔ 128 رنز کا ہدف 16.1 اوورز میں تین وکٹوں پر حاصل کر لیا گیا۔ ابھیشیک شرما نے شاہین آفریدی کی ابتدائی دو گیندوں پر چوکا اور چھکا جڑ کر ماحول گرما دیا اور صرف 13 گیندوں پر 31 رنز بنائے۔ کپتان سوریا کمار یادیو نے 47 رنز کی ناٹ آؤٹ اننگز کھیل کر فتح کو یقینی بنا دیا، جبکہ تلک ورما اور دیگر بلے بازوں نے بھی ذمہ دارانہ کھیل کا مظاہرہ کیا۔
یہ میچ سفارتی تناؤ کے سائے میں کھیلا گیا، لیکن انڈیا نے ابتدا سے آخر تک کھیل کی اصل روح کو برقرار رکھا۔ سوریا کمار یادیو نے اس فتح کو انڈین مسلح افواج اور پہلگام کے متاثرین کے نام کیا، جو کھیل اور قوم دونوں کے ساتھ وابستگی کی علامت ہے۔ سوشل میڈیا پر انڈین شائقین نے کلدیپ اور سوریا کی خوب ستائش کی، جبکہ پاکستانی شائقین نے اپنی ٹیم کی کارکردگی پر مایوسی ظاہر کرتے ہوئے پی سی بی کو آڑے ہاتھوں لیا اور سابق کپتان بابر اعظم کو یاد کیا۔ کچھ نے شکست کے باوجود اپنی محبت اور وابستگی کا اظہار بھی کیا۔
اس کرکٹ میچ کے درمیان اور اس کے بعد بھی یہ سوال دل و دماغ سے لیکر سوشل میڈیا تک، بالواسطہ یا بلاواسطہ طور ہر بار بار گردش کر رہا تھا کہ کیا کرکٹ کو سیاست کی نذر کرنا ضروری ہے؟ بھارت کا موقف 2014 سے یہی ہے کہ پاکستان کے ساتھ دوطرفہ سیریز نہیں ہوگی، مگر بین الاقوامی ٹورنامنٹس میں شمولیت مجبوری ہے۔ ایسے میں اگر کھیلنا ہی پڑے تو کیوں نہ اسے خالص کھیل کے جذبے سے کھیلا جائے؟ کھیل کو نفرت کے بجائے اتحاد اور خیرسگالی کا ذریعہ بنایا جائے۔
بھارت اور پاکستان دونوں اپنی ابتدائی فتوحات حاصل کر چکے ہیں، انڈیا نے یو اے ای کو اور پاکستان نے عمان کو شکست دی ہے۔ اب دونوں ٹیموں کے آگے بڑھنے کا راستہ صرف خوشگوار اور مثبت مقابلوں سے ہموار ہو سکتا ہے۔ اگر دونوں ملک کھیل کو سیاست سے الگ کر کے خالص کھیل کے جذبے کے ساتھ آگے بڑھیں تو کرکٹ صرف میدان کو نہیں بلکہ دلوں کو بھی جوڑنے کا وسیلہ بن سکتی ہے۔
*******************

