دوحہ پر حملے کی منصوبہ بندی کئی ہفتوں سے جاری تھی ،اسرائیلی میڈیا کا دعویٰ

تاثیر 10 ستمبر ۲۰۲۵:- ایس -ایم- حسن

تل ابیب،10ستمبر:اسرائیلی اخبار معاریف نے آج بدھ کے روز اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ دوحہ میں ہونے والی کارروائی کی منصوبہ بندی کئی ہفتوں سے جاری تھی۔ اخبار نے انکشاف کیا ہے کہ اسرائیلی داخلی سلامتی کے ادارے ’شاباک‘کو قطر میں حملے کے حتمی نتائج کا انتظار ہے۔معاریف کے مطابق اسرائیلی فضائیہ کے ایک اعلیٰ افسر نے کہا ہے کہ ’دوحہ میں اس عمارت کے اندر موجود کوئی شخص زندہ نہیں بچ سکتا تھا۔
اسی دوران’اسرائیلی نشریاتی ادارے‘ نے اطلاع دی کہ اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو نے سیکیورٹی قیادت کے اعتراضات کے باوجود دوحہ پر حملہ کرنے کا فیصلہ کیا۔امریکا میں اسرائیلی سفیر نے کہا کہ تل ابیب حماس کے رہنماؤں کو نشانہ بنانا جاری رکھے گا۔ ان کے مطابق “اگر دوحہ میں کی گئی کارروائی کسی ہدف کو چوک گئی ہے تو اگلی بار وہ نشانہ ضرور بنے گا۔
خیال رہے کہ منگل کو اسرائیل نے قطر پر فضائی حملہ کرتے ہوئے حماس کے سیاسی رہنماؤں کو قتل کرنے کی کوشش کی تھی، جس سے مشرقِ وسطیٰ میں اس کی عسکری کارروائیوں کا دائرہ بڑھ گیا۔ واشنگٹن نے اس حملے کو “یک طرفہ کارروائی” قرار دیا جو نہ امریکا اور نہ اسرائیل کے مفاد میں ہے۔آج بدھ کے روز اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کا ایک ہنگامی اجلاس بھی طلب کیا گیا ہے تاکہ اسرائیلی حملے پر بات کی جا سکے۔ سفارتی ذرائع کے مطابق اس اجلاس کے انعقاد کی درخواست الجزائر اور دیگر رکن ممالک نے کی۔فلسطینی تنظیم حماس نے کہا ہے کہ دوحہ میں منگل کے روز ہونے والے اچانک حملے میں چھ افراد ہلاک ہوئے، جن میں خلیل الحیہ کا بیٹا بھی شامل ہے، جو تنظیم کی بیرونِ ملک سب سے با اثر شخصیت شمار ہوتے ہیں۔قطر نے اس کارروائی کو “تمام قوانین اور عالمی اصولوں کی کھلی خلاف ورزی اور اپنے شہریوں کی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ” قرار دے کر سخت مذمت کی ہے۔
اسرائیلی وزیرِاعظم نیتن یاہو نے دعویٰ کیا کہ یہ حملہ پیر کے روز بیت المقدس میں حماس کے حملے کے جواب میں کیا گیا۔ اس کارروائی میں حماس کے دو مسلح افراد نے چھ افراد کو قتل کر دیا تھا۔ اس کے علاوہ غزہ میں اسرائیلی فوجیوں پر ایک اور حملہ بھی ہوا تھا۔