تاثیر 7 ستمبر ۲۰۲۵:- ایس -ایم- حسن
تل ابیب،07ستمبر:ہزاروں اسرائیلیوں نے ہفتے کی رات تل ابیب میں ریلی نکالی جس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے غزہ جنگ کو دباؤ سے ختم کروانے اور قیدیوں کی رہائی کو یقینی بنانے کی براہِ راست اپیلیں کی گئیں۔مظاہرین نے فوجی ہیڈکوارٹر کے باہر ایک عوامی چوک پر اسرائیلی پرچم لہرائے اور قیدیوں کی تصاویر والے پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے۔ ایک پلے کارڈ پر یہ بھی لکھا تھا: ‘ٹرمپ کی میراث شکستگی کا شکار ہے کیونکہ غزہ جنگ جاری ہے’ ۔
تل ابیب کے رہائشی 40 سالہ بواز نے اسرائیلی وزیرِ اعظم کا حوالہ دیتے ہوئے کہا، “ہم سمجھتے ہیں کہ ٹرمپ دنیا میں واحد آدمی ہیں جو بی بی پر اختیار رکھتے ہیں اور انہیں ایسا کرنے پر مجبور کر سکتے ہیں۔”کئی اسرائیلیوں میں وزیرِ اعظم بنجمن نیتن یاہو کے لیے مایوسی بڑھ رہی ہے جنہوں نے فوج کو ایک بڑے شہری مرکز پر قبضہ کرنے کا حکم دیا ہے جہاں قیدیوں کی موجودگی کا امکان ہے۔اسرائیلی حکام کے مطابق قیدیوں کے اہلِ خانہ اور ان کے حامیوں کو خدشہ ہے کہ غزہ شہر پر حملہ ان کے عزیزوں کی جانیں خطرے میں ڈال سکتا ہے اور یہ تشویش فوجی قیادت کو بھی ہے۔اورنا نیوٹرا نے حکومت پر اپنے شہریوں کو تنہا چھوڑنے کا الزام لگایا۔ ان کا فوجی بیٹا سات اکتوبر 2023 کو ہلاک ہو گیا تھا جس کی لاش غزہ میں مزاحمت کاروں کے پاس ہے۔انہوں نے ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا، “ہمیں واقعی امید ہے کہ امریکہ آخرِ کار ایک جامع معاہدہ طے کرنے کے لیے فریقین پر دباؤ ڈالے گا جس سے قیدی واپس آ جائیں۔” ان کا بیٹا عمر بھی امریکی ہے۔تل ابیب میں ہفتہ وار مظاہروں کا حجم بڑھتا جا رہا ہے اور مظاہرین کا مطالبہ ہے کہ حکومت قیدیوں کی رہائی کے لیے حماس سے جنگ بندی کرے۔ منتظمین نے بتایا کہ ہفتے کی رات کی ریلی میں دسیوں ہزار افراد نے شرکت کی۔ یروشلم میں بھی ایک بڑا مظاہرہ کیا گیا۔

