تاثیر 9 ستمبر ۲۰۲۵:- ایس -ایم- حسن
ان دنوں میں نوجوانوں کے باغیانہ تیور نے نیپال کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ سری لنکا اور بنگلہ دیش کے بعد اب نیپال بھی ’جین جی ‘کی انقلابی لہر کا شکار ہو گیا ہے۔ ہزاروں نوجوان انٹرنیٹ میڈیا پر پابندی اور ملک بھر میں پھیلی کرپشن کے خلاف سڑکوں پر اتر آگئے ہیں۔ یہ احتجاج کسی عارضی غصے کا نتیجہ نہیں ہے۔وہا ں کے حالات اُس گہرےسماجی اور سیاسی بحران کی عکاسی کرتے ہیں، جن کا جنم حکومت کی پالیسیوں کی ناکامی اور نوجوان نسل کی مایوسی کی کوک سے ہوا ہے۔ کٹھمنڈو اور دیگر شہروں میں 8 ستمبر کو مظاہروں کے درمیان بھڑک اٹھےتشدد میں، ایک 12 سالہ اسکولہ بچہ سمیت 19 افراد کی ہلاکت اور 350 سے زائد افراد کا زخمی ہونا، اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ نیپال کے حالات کتنے سنگین ہو چکے ہیں۔ حکومت نے کرفیو نافذ کر دیا ہے، فوج تعینات کی ہے۔ وزیر داخلہ ، اور نیپالی کانگریس کے لیڈر میش لیکھک نے موجودہ صورتحال کی اخلاقی ذمہ داری لیتے ہوئے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔
واضح ہو کہ ’جین جی‘، 1997 سے 2012 کے درمیان پیدا ہونے والی نسل کو کہتے ہیں۔ یعنی 2025 میں 13 سے 28 سال کی عمر کے نوجوانوں کو ٹیکنالوجی اور سوشل میڈیا کے دور کی پیدائش مانے جاتے ہیں۔ نیپال کی تین کروڑ آبادی میں 90 فیصد لوگ انٹرنیٹ استعمال کرتے ہیں۔انٹر نیٹ جو انوں کی زندگی کا لازمی حصہ بن چکا ہے۔ نیپال کی حکومت کی جانب سے 26 انٹرنیٹ پلیٹ فارمز، جیسے فیس بک، واٹس ایپ، ایکس، انسٹاگرام، یوٹیوب اور دیگر پر، نیپال میں رجسٹریشن نہ کرانے کی بنیاد پر 4 ستمبر سے پابندی عائد کر دی گئی ہے۔اس پابندی نے براہ راست نو جوانوں کو براہ راست متاثر ہے۔ مظاہرین کے پلے کارڈز پر’’کرپشن بند کرو، انٹرنیٹ میڈیا نہیں‘‘، انٹرنیٹ میڈیا پر سے پابندی ہٹاؤ‘‘ اور ’’نوجوان کرپشن کے مخالف‘‘ جیسے نعرے اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ یہ احتجاج صرف تکنیکی نہیں بلکہ سیاسی اور معاشی مسائل سے بھی جڑا ہوا ہے۔ کٹھمنڈو میں پارلیمنٹ بلڈنگ کے سامنے اسکول اور کالج کی یونیفارم میں ہزاروں نوجوانوں کی موجودگی اس بات کی علامت ہے کہ تعلیم یافتہ نسل اب خاموش نہیں رہنے والی نہیں ہے۔
قابل ذکر ہے کہ نیپال میں انٹرنیٹ میڈیا پر پابندی اور کرپشن کے خلاف ہونے والے احتجاجوں کے دوران تشدد کی ابتدا 8 ستمبر کو ہوئی تھی۔ یہ تشدد سب سے پہلے کٹھمنڈومیں پھوٹا، جہاں ہزاروں نوجوان (جین جی) پارلیمنٹ بلڈنگ کے باہر جمع ہوئے اور پولیس کی کارروائی کے نتیجے میں جھڑپیں شروع ہو گئیں۔ احتجاج کی ابتدا کٹھمنڈو کے’ میٹی گھر‘ محلے میں صبح 9 بجے ہوئی، جو کٹھمنڈو کا ایک مرکزی مقام ہے، اور پھر مظاہرین پارلیمنٹ کی طرف بڑھے۔ جب مظاہرین نے بیرکڈز توڑ کر پارلیمنٹ کمپلیکس میں داخل ہونے کی کوشش کی، تو پولیس نے لاٹھی چارج، آنسو گیس، واٹر کینن، ربر بلیٹس اور لائیو فائرنگ کی، جس میں 17 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے۔اس کے علاوہ، تشدد سنسری ضلع کےایتاہری شہر میں بھی پھیلا، جہاں 2 مزید ہلاکتیں ہوئیں۔اس طرح کل 19 ہلاکتیں رپورٹ ہوئیں ہیں۔
رپورٹ کے مطابق مظاہرین نے بیرکڈز توڑے، ایمبولینس کو آگ لگائی اور سیکیورٹی فورسز پر پتھراؤ کیا۔ اس کے جواب میں پولیس نے لاٹھی چارج، آنسو گیس، ہوائی فائرنگ اور ربر کی گولیاں استعمال کیں۔ احتجاج کٹھمنڈو سے نکل کر برٹنگر، بھرت پور، پوکھرا، بٹوَل، چتون، نیپال گنج، بھیرہوا، ایٹاہری، للٹ پور، جھاپا اور دمک تک پھیل گیا، جہاں اب کرفیو نافذ ہے۔ جھاپا میں وزیر اعظم کے پی شرما اولی کے رہائشی محل پر پتھراؤ بھی ہوا۔ یہ صورتحال اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ مسئلہ مقامی نہیں بلکہ قومی ہے۔حالات کی سنگینی کے مد نظر بھارت نے سرحد پر سیکیورٹی بڑھا دی ہے۔ حکومت نیپال کا موقف ہے کہ یہ پابندی ریگولیشن کے لئے ہے۔یعنی سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو چاہئے کہ وہ اپنا رجسٹر یشن کر وائیں، ٹیکس ادا کریں اور جوابدہی لیں۔ وزیر اعظم اولی کا کہنا ہے کہ ’’ہم میڈیاپلیٹ فارمز کے خلاف نہیں بلکہ قانون کی خلاف ورزی، غرور اور ملک کی بے عزتی کے خلاف ہیں‘‘۔ صرف وائبر، ٹک ٹاک، وی ٹاک اور نیمبوز جیسے ایپس رجسٹرڈ ہوچکے ہیں۔ باقی ٹال مٹول کر رہے ہیں۔تاہم، مظاہرین اور مبصرین اسے آزادیٔ اظہار پر حملہ سمجھتے ہیں۔ ایک دن پہلے یعنی 7 ستمبر کو صحافیوں کا مظاہرہ ہوا تھا۔ اسی دوران نیپال کمپیوٹر ایسوسی ایشن کی یہ تنقید سامنے آئی تھی کہ ملک کے موجودہ حالات تعلیم، تجارت، مواصلات اور روزمرہ زندگی پر اثر انداز ہونگے اور ملک کو ڈیجیٹل دنیا میں پیچھے دھکیل دے گا۔
یہ احتجاج سری لنکا (2022) اور بنگلہ دیش (2024) کے’ جین جی‘ لڑائیوں سے مشابہ ہے، جہاں نوجوان، معاشی بحران اور سیاسی کرپشن کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔ نیپال میں کرپشن کی شدت اور اولیٰ حکومت کے وعدوں کی تکمیل نہ ہونے نے آگ میں تیل کا کام کیا۔ماہرین کا مانناہے کہ یہ بحران حکومت کو مجبور کر سکتا ہے کہ پابندی واپس لے، یا مزید تشدد کو دعوت دے۔ عالمی سطح پر، یہ ڈیجیٹل حقوق کی اہمیت کو اجاگر کر تا ہے۔ ساتھ ہی اس سے یہ بھی منکشف ہو رہا ہے کہ نوجوان نسل سوشل میڈیا کو اپنا ہتھیار سمجھتی ہے۔ چنانچہ نیپال کو چاہئے کہ ڈائیلاگ کی راہ اپنائے، ورنہ یہ بغاوت ایک بڑے انقلاب کی شکل اختیار کر سکتی ہے۔ ’جین جی‘ کی یہ آواز نہ صرف نیپال بلکہ پورے جنوبی ایشیا کے لئے سبق ہے۔ اور وہ سبق یہ ہے کہ نوجوانوں کی مایوسی کو مسلسل نظر انداز کرنا ٹھیک نہیں ہے۔

