تاثیر 13 ستمبر ۲۰۲۵:- ایس -ایم- حسن
سہرسہ(سالک کوثر امام) سہرسہ ضلع مہا گٹھ بندھن خاص طور پر راجد میں اس وقت خانہ جنگی کی کیفیت ہے، راجد اور دیگر پارٹیوں کے کچھ کارکنان بھی انتشار کا شکار ہیں، اب تک خانہ جنگی کی یہ کیفیت بند کمرے میں تھی مگر آج مہا گٹھ بندھن کے تمام بلاک صدر اور ضلع صدر کے حکم کو بالائے طاق رکھ کر مہا گٹھبندھن میں شامل سبھی پارٹیوں کے باغی کارکنان نے ایک ساتھ جب سمری بختیار پور کے کالی مندر کے احاطے میں ایک میٹنگ بلائی تب یہ واضح طور پر انتشار عوام کے سامنے آگیا، واضح رہے کہ راجد کے بلاک سکریٹری ابھے کمار کے نام سے شائع لیٹر پیڈ جس میں لیٹر پیڈ شائع ہونے کی تاریخ 10 ستمبر درج ہے میں اپیل کی گئی کہ 13 ستمبر بروز سنیچر دن کے 11 بجے سمری بختیار پور کے کالی مندر کے احاطے میں کارکنان کی ایک میٹنگ منعقد کی جائیگی جس کا اہم مقصد آنے والے اسمبلی میں انتخابات میں مہاگٹھ بندھن کے امیدوار کو مضبوطی دینا اور تیجسوی یادو کی سرکار بنانا ہے۔ مذکورہ میٹنگ چرچہ میں اس وقت آئی جب میٹنگ سے ایک دن قبل 12 ستمبر کی شام کو ایک بینر سوشل میڈیا پر شیئر کیا گیا جس کی ہیڈنگ تھی سمری بختیار پور ودھان سبھا کا کاریہ کرتا بیٹھک۔ مذکورہ بینر میں تیجسوی یادو، راہل گاندھی سمیت مہا گٹھبندھن کے تمام بڑے لیڈران کی تصویر لگائی مگر سہرسہ ضلع کے اکلوتے مہاگٹھ بندھن کے راجد سے ممبر اسمبلی یوسف صلاح الدین کی تصویر حذف کردی گئی۔ اس خبر کے گردش کرتے ہی آنا فانا میں راجد کے ضلع محمد طاہر نے میٹنگ کے حوالے سے ایک خط جاری کیا۔
جاری کردہ خط میں وضاحت کی کہ ریاستی سطح پر یا ضلع کمیٹی کی طرف سے ایسی کوئی میٹنگ نہیں بلائی گئی ہے۔ میٹنگ کے بعد آر جے ڈی ضلع صدر کے ساتھ فون پر بات چیت میں انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس طرح کی کوئی میٹنگ نہیں بلائی گئی تھی مجھے کچھ خبر نہیں تحقیق کے بعد ہی کچھ کہا جاسکتا ہے، مزید انہوں نے کہا کہ میٹنگ اگر پارٹی کے کارکنان نے بغاوت کر میٹٹکی ہے تو اعلی کمان تک خبر پہنچائی جائے گی اور مناسب کاروائی بھی کی جاسکتی ہے۔ کانگریس کے بلاک صدر ڈاکٹر امتیاز انجم نے کہاکہ گزشتہ کل بھی ضلع مہاگٹھ بندھن کے تمام بلاک صدر اور دیگر عہدیداروں کے ساتھ میٹنگ ہوئی مگر اس میٹنگ کے بارے میں کوئی جانکاری نہیں دی گئی۔ ہماری پارٹی کے کسی کارکن نے اس میٹنگ میں اگر حصہ لیا ہے تو اعلی کمان تک بات پہنچائی جائےگی۔ تحقیق کے بعد باغی کارکنان پر کاروائی بھی متوقع ہے۔ کانگریس کارکن اختر صدیقی نے فون پر بات چیت میں کہاکہ ضلع میں بیٹھ کر بلاک پر چرچہ نہیں کی جاسکتی۔ یہ ہمارے اسمبلی حلقے کا معاملہ ہے ہم لوگ مہا گٹھبندھن سے ایک اچھے اور ایماندار امیدوار کی مانگ کر رہے ہیں اس لئے یہ میٹنگ بلائی گئی ہے۔ راجد بلاک سکریٹری ابھے کمار جن کے نام سے میٹنگ کا لیٹر پیڈ جاری کیا گیا تھا انہوں نے کچھ جواب دیے بنا ہماری کال کٹ کردی۔اور سوال سے صرف نظر کرگئے۔
اطلاع کے مطابق آج کی میٹنگ میں این ڈی اے پر کرارا زبانی حملہ کیا گیا اور ساتھ ہی سمری بختیار پور اسمبلی حلقہ سے موجودہ راجد ممبر اسمبلی یوسف صلاح الدین کی مخالف کی گئی اور مہا گٹھبندھن سے دوسرے امیدوار کی مانگ کی گئی۔ اطلاع یہ بھی ہے کہ میٹنگ میں وی آئی پی سپریمو مکیش سہنی جو کہ گزشتہ اسمبلی انتخاب این ڈی اے کی طرف سے امیدوار بن کر موجودہ ممبر اسمبلی سے تقریباً 1600 ووٹوں سے شکست کھا گئے تھے ان کو اس بار سمری بختیار پور سے مہا گٹھبندھن امیدوار بنانے کی مانگ زور و شور سے اٹھائی گئی۔ موجودہ ممبر اسمبلی پر تیکھے سوالات بھی داغے گئے۔ میٹنگ میں راجد کے ابھے بھگت، ونود یادو، کانگریس سے اختر صدیقی، پن پن یادو، عبد الباسط، وی آئی پی سے اکھیلیش یادو، متھلیش یادو، اور وام دل کے بھی کئی کارکنان سمیت مہاگٹھ بندھن کے بڑی تعداد میں کارکنان نے شرکت کی۔

