پرتگال نے بھی برطانیہ، کینیڈا اور آسٹریلیا کے بعد فلسطین ریاست کو منظوری دی، فرانس بھی تیار، اسرائیل کا موقف مزید سخت

تاثیر 22 ستمبر ۲۰۲۵:- ایس -ایم- حسن

لندن، 22 ستمبرـ برطانیہ، کینیڈا اور آسٹریلیا کے ذریعہ اتوار کو فلسطین ریاست کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنے کے اعلان کے بعد پرتگال نے بھی اسی طرح کے اقدام کا اعلان کیا۔ ان ممالک نے یہ اعلان اسرائیل پر دباؤ ڈالنے کے لیے کیا جو بین الاقوامی غم و غصے کے درمیان غزہ میں اپنی مہم جاری رکھے ہوئے ہے۔ اسرائیل نے کہا کہ اس سے اس کی حکمت عملی پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ برطانیہ، کینیڈا اور آسٹریلیا کئی دہائیوں سے اسرائیل کے مضبوط اتحادی رہے ہیں۔ پولینڈ کے ساتھ ساتھ ان تینوں ممالک نے بھی دو -ریاستی حل کی جانب پیش رفت نہ ہونے پر شدید مایوسی کا اظہار کیا ہے۔
سی این این کے مطابق، پرتگال نے کہا کہ دو ریاستی حل’’منصفانہ اور دیرپا امن کا واحد راستہ‘‘ ہے۔ فرانس اور دیگر ممالک کے اقدامات کا اب انتظار ہے۔ اس ہفتے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں فرانس اور کئی دیگر ممالک سے بھی ایسا ہی کرنے کی توقع ہے۔ اس سے اسرائیل کی علیحدگی مزید گہری ہو جائے گی اور اسرائیل کے اہم اتحادی امریکہ کے ساتھ ان کے اختلافات بڑھ جائیں گے۔ اسرائیلی وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو نے ان اقدامات پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’’کوئی فلسطینی ریاست نہیں ہوگی‘‘۔
نیتن یاہو نے کہا، ’’میرے پاس ان رہنماوں کے لیے واضح پیغام ہے جنہوں نے 7 اکتوبر کے ہولناک قتل عام کے بعد فلسطینی ریاست کو تسلیم کیا تھا: آپ دہشت گردی کو بہت بڑا انعام دے رہے ہیں۔‘‘ نیتن یاہو نے کہا۔ “ہماری سرزمین پر دہشت گرد ریاست مسلط کرنے کی اس تازہ ترین کوشش کا جواب میرے امریکہ سے واپس آنے کے بعد دیا جائے گا۔ اس کا انتظار کریں۔‘‘