تاثیر 11 ستمبر ۲۰۲۵:- ایس -ایم- حسن
دوحہ ،11ستمبر:قطر نے اسرائیلی وزیرِ اعظم نیتن یاہو کو ایک سخت لہجے میں جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ دوحہ میں حماس کے دفتر کی میزبانی سے متعلق قابل مذمت اسرائیلی بیانات غیر ذمہ دارانہ اور صداقت سے عاری خیالات کے سوا کچھ نہیں۔
نیتن یاہو نے بدھ کو دھمکی آمیز لہجے میں قطر سے مطالبہ کیا تھا “کہ دوحا حماس کے رہنماؤں کو ملک بدر کرے یا انہیں عدالت کے حوالے کرے۔ اگر قطر نے یہ قدم نہ اٹھایا تو ہم اٹھائیں گے۔
اس سلسلے میں، قطر کے وزیرِ اعظم شیخ محمد بن عبدالرحمن آل ثانی نے اسرائیلی وزیرِ اعظم کو عدالت کے سامنے لانے کا مطالبہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ قطر نہ صرف اپنی ثالثی کی ذمہ داری پر نظر ثانی کر رہا ہے بلکہ ملک میں حماس کے مستقبل کے حوالے سے بھی نئی پالیسی مرتب کر رہا ہے۔
امریکی نیوز چینل سی این این سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ دوحہ میں حماس قیادت پر حملے نے غزہ کے یرغمالیوں کی رہائی کی ہر امید کا خاتمہ کر دیا ہے۔ ان کے مطابق نیتن یاہو کے اس اقدام نے مسئلے کے حل اور کسی معاہدے تک پہنچنے کے تمام امکانات تباہ کر دیے ہیں، اور اس سلسلے میں جاری کوششوں کو سبوتاژ کرنے کی پوری ذمہ داری اسرائیل پر عائد ہوتی ہے۔

