تاثیر 19 ستمبر ۲۰۲۵:- ایس -ایم- حسن
سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان 17 ستمبر 2025 کو اسٹریٹیجک میوچوئل ڈیفنس ایگریمنٹ (ایس ایم ڈی اے) پر دستخط ہوئے ہیں۔ظاہر ہے اس سے جنوبی ایشیا کے جیو پولیٹیکل رجحان کو ایک نئی جہت ملی ہے۔ اس معاہدے کے تحت دونوں ممالک نے اعلان کیا ہے کہ ایک پر حملہ دونوں پر حملہ شمار ہوگا۔اس معاہدہ سے دہائیوں پرانی سیکورٹی پارٹنرشپ کو مزید استحکام حاصل ہوتا ہوا نظر آرہا ہے۔ پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف اور سعودی کراؤن پرنس محمد بن سلمان کے درمیان ریاض میں ہوئے اس دستخط نے نہ صرف اسلام آباد کو مالی اور فوجی مدد کی امید دی ہے بلکہ ، مئی 2025 میں پہلگام دہشت گرد حملے کے بعد لانچ کیے گئے آپریشن سندور کے تناظر میں،بھارت کے لئے بھی اسے ایک نیا چیلنج مانا جا رہا ہے۔ بھارتی وزارت خارجہ نے اس پر محتاط ردعمل دیا ہے۔بھارت کا کہنا ہے کہ اس معاہدہ سے علاقائی اور عالمی امن پر مرتب ہونے والے اثرات کا جائزہ لیا جائے گا۔ساتھ ہی قومی مفادات کی حفاظت پر بھی مزید توجہ دی جائے گی۔
دوسری جانب یہ معاہدہ پاکستان کی کمزوریوں کا مظہر بھی ہے۔ آپریشن سندور، جس میں بھارتی فوج نے پاکستان کی سرحد پار کرتے ہوئے دہشت گرد تنظیمیں جیش محمد اور لشکر طیبہ کے ٹھکانوں پر میزائل اور فضائی حملے کیے تھے، نے اسلام آباد کو شدید اقتصادی اور فوجی دھچکا پہنچایا ہے۔ چار روزہ (7۔10مئی) اس آپریشن نے پاکستان کو عالمی سطح پر تنہا کر دیاتھا۔ اس دوران ترکی اور چین کے علاوہ کوئی بڑا اتحادی پاکستان کے ساتھ دکھائی نہیں دیا۔ اس کے بعد مالی اور دفاعی مدد کی تلاش میں جنرل عاصم منیر کا امریکی، چینی اور سعودی دورے پر جانا پاکستان کی بے چینی کا خاموش اظہار تھا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ معاہدہ سعودی عرب کے امریکی انحصار کو کم کرنے کی کوشش کا حصہ ہے۔یہ مشرق وسطیٰ کی بدلتی صورتحال، جیسے یمن اور ایران کے تنازعات، سے جڑا ہے، نہ کہ براہ راست بھارت مخالف رویہ سے۔ ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل شنکر پرساد کی رائے میں، بھارت کو چوکنا رہنا ضرور رہناچاہیے، مگر گھبرانے کی کوئی بات نہیں ہے۔ سعودی فوج کا حجم چھوٹا اور اس کی صلاحیت بہت ہی محدود ہے۔
تاہم، متوازن تجزیہ سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ معاہدہ بھارت کو فکرمند کرنے والا تو ہے مگر نہ تو یہ نیوکلیئر امبریلا ہے اور نہ ہی سعودی کا براہ راست مداخلت کا عندیہ۔ پاکستان، جو معاشی بحران میں گھرا ہے، اسے سعودی تیل کی آمدنی سے فوجی امداد مل سکتی ہے۔سابق وزیر خارجہ کنول سِبل کی تنبیہ درست ہے کہ یہ سعودی کی سنگین غلطی ہے، کیونکہ کمزور پاکستان ایک مستحکم سیکورٹی پرووائیڈر ثابت نہیں ہو سکتا ہے۔ ایکس پر چلنے والی بحثیں بھی اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہیں کہ یہ معاہدہ سعودی-پاک بھائی چارے کی علامت ہے ،مگر اس میں متحدہ عرب امارات اور قطر کی شمولیت کی افواہیں ابھی تصدیق شدہ نہیں ہیں۔حقیت خواہ جو بھی ہو اس صورتحال کے مد نظر ، آپریشن سندور کی مانند بھارت کو دہشت گردی کے خلاف اپنی کارروائی جاری رکھنی چاہیے۔
ماہرین کے مطابق سعودی-پاک معاہدہ ہماری سفارتی کامیابیوں کی دلیل ہے۔ مودی حکومت نے 2014 سے اسلامی ممالک میں پاکستان کی رسائی کو کم کرنے کی مہم چلائی ہے۔اس میں بھارت کو شاندار کامیابی بھی ملی ہے۔ سعودی عرب سمیت خلیجی ممالک بھارت کے سب سے بڑے تجارتی شراکت دار ہیں، سعودی کی طرف سے 100 ارب ڈالر کا سرمایہ کاری کا وعدہ اور پہلگام حملے پر خاموشی اس کی گواہی دیتی ہے۔ آرٹیکل 370 کی منسوخی پر بھی پاکستان اسلامی دنیا کو اکٹھا نہیں کر سکا تھا۔ کواڈ، فرانس اور امریکہ کے ساتھ ہماری دفاعی شراکت داریاں پاکستان کے اتحادوں سے کہیں مضبوط ہیں۔
آخر میں، بھارت کو اے آئی ڈرونز ،سائبر ڈیفنس اور جدید ہتھیاروں کے شعبے میں اپنی فوجی طاقت بڑھاتے ہوئے پورے اعتماد کے ساتھ آگے بڑھنا چاہیے۔ سعودی عرب کے ساتھ ہمارے معاشی رابطے سعودی-پاک معاہدے کی شدت پر ضرور اثر انداز ہونگے اور اگر پاکستان نے دوبارہ دہشت گردی کی تو جواب کے طور پر آپریشن سندور جیسی کارروائی کے لئے بھارت کو ہمیشہ تیار رہنا چاہئے۔ہمیں یقین ہے کہ جمہوریت اور ترقی کی راہ پر چلنے والا بھارت، اپنے مفادات کی حفاظت کرتے ہوئے، عالمی سطح پر ایک ذمہ دار طاقت بنے گا۔

