سیٹوں کے لئے رسّہ کشی

تاثیر 8 ستمبر ۲۰۲۵:- ایس -ایم- حسن

بہار اسمبلی انتخابات ، 2025  کی الٹی گنتی شروع ہو چکی ہے۔تمام جماعتیں عوام کی توجہ اپنی طرف کھینچنے کے لئے میدان میں اتر آئی ہیں۔ مگر اس بار کا سب سے بڑا سوال اتحادوں کے اندر سیٹوں کی تقسیم سے متعلق ہے۔زیادہ سے زیادہ سیٹوں پر دعویٰ ٹھوکنے اور دباؤ بنا کر اپنی بات منوالینے کا رجحان رسی کشی کا روپ دھار چکی ہے۔ عظیم اتحاد اور این ڈی اے دونوں اتحادوں میں الجھنیں بڑھ گئی ہیں۔ نئے شامل ہونے والے اتحادیوں کی مطالبات نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔
بہار کاعظیم اتحاد، جو پہلے چھ جماعتوں پر مشتمل تھا، اب آٹھ جماعتوں کا مجموعہ بن چکا ہے۔ راشٹریہ لوک جن شکتی پارٹی (آر ایل جے پی) اور جھارکھنڈ مکھتی مورچہ (جے ایم ایم) کی شمولیت سے اتحادیوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔ سابق مرکزی وزیر پشوپتی کمار پارس کی آر ایل جے پی اورجے ایم ایم اب عظیم اتحاد کے اہم ستون بن گئے ہیں۔ایسی صورت میں 243 نشستوں کو آٹھ جماعتوں میں تقسیم کرنا کوئی آسان کام نہیں ہے۔ راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) کے ساتھ کانگریس، وکاس شیل انسان پارٹی (وی آئی پی)، بھارتی کمیونسٹ پارٹی (سی پی آئی)، مارکسسٹ کمیونسٹ پارٹی (ایم سی پی) اور بھارتی کمیونسٹ پارٹی مارکسسٹ لیننسٹ (سی پی آئی ایم ایل) پہلے سے موجود تھے۔ ان اتحادیوں میں کانگریس کے ساتھ ساتھ سی پی آئی ایم ایل کوبھی نسبتاََ زیادہ سیٹیں چاہئیں۔ ظاہر ہے یہ صورتحال آر جے ڈی کے لیے کم چیلنجنگ نہیں ہے۔
تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ جے ایم ایم کو چکائی، کٹوریہ سمیت چار سے چھ نشستیں مل سکتی ہیں، حالانکہ اس کا دعویٰ 12 نشستوںہے۔ اسی طرح آر ایل جے پی کو الولی سمیت دو سے تین نشستیں دی جا سکتی ہیں، جبکہ اس کے لیڈر چھ کی توقع رکھے ہوئے ہے۔ آر جے ڈی کے لیڈر تیجسوی یادو کو نہ صرف ان نئے اتحادیوں کو مطمئن کرنا ہے بلکہ راہل گاندھی کو بھی خوش رکھنا ہے، جو کانگریس کی طرف سے بڑی مانگ کا باعث بن رہے ہیں۔
حال ہی میں تیجسوی یادو کی سرکاری رہائش گاہ پر ہو منعقد میٹنگ میں کانگریس کے بہار انچارج کرشنا الاواڑو، صوبائی صدر راجیش رام اور وی آئی پی کے بانی مکیش ساہنی موجود تھے۔ مکیش ساہنی تو بار بار کہہ رہے ہیں کہ سب کچھ ٹھیک ہے، عظیم اتحاد تیجسوی یادو کی قیادت میں ہی چناؤ لڑے گا، یہاں تک کہ وہ نائب وزیر اعلیٰ کے ناموں کا اعلان بھی کرنے کا دعویٰ کر رہے ہیں۔ مگر یہ بیانات سطحی لگتی ہیں۔ حقیقت میں نشستیں تقسیم کرنے کی کوشش ، بالکل ایک سیاسی جنگ جیسی ہے ۔بہار اسمبلی میںہر جماعت اپنی نمائندگی کو بڑھانے کی کوشش میں مصروف ہے۔
دوسری طرف این ڈی اے میں بھی صورتحال کم و بیش اتنی ہی کشیدہ ہے۔ چراغ پاسبوان کی لوک جن شکتی( رام ولاس) پارٹی 40 سے زائد نشستیں مانگ رہی ہے، جبکہ جی تن رام منجھی کم از کم 20 نشستیں طلب کر رہے ہیں۔ اوپندر کُشواہا کے مطالبات الگ ہیں، جو بات چیت کو مزید مشکل بنا رہےہیں۔ چراغ کی بغاوت اور مانجھی کے حملے اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ اتحاد کی بنیاد زیادہ ٹھوس نہیں ہے۔ سِیاسی ماہرین کا ماننا ہے کہ دونوں اتحادوں کے درمیان سیٹوں کی تقسیم کا معاملہ بہت آسان نہیں ہے۔چنانچہ انتخابات سے پہلے زیادہ سیٹیں حاصل کرنے کی رسہ کشی اتحادی طاقت کی کمزوری کا سبب بھی بن سکتی ہے۔
اس منظر نامے میں جن سوراج کے بانی پرشانت کِشور کا کردار بھی اہم ہے۔ وہ کس طرف جھکیں گے، یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا۔ اس کے علاوہ آر جے ڈی سے نکالے گئے تیج پرتاپ یادو بھی میدان میں ہیں، اور اگر انہیں منانے میں ناکامی ہوئی تو عظیم اتحاد کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ بہار،سیاسی اتحادوں کی آزمائش کے لئے مشہور رہاہے۔ذاتی مفادات اتحادی حکمت عملی پر اکثر حاوی ہو جاتے ہیں۔ اگر نشستوں کی تقسیم من موافق نہ ہوئی تو ظاہر ہے، چھوٹی جماعتیں بغاوت بھی کر سکتی ہیں۔ عوام کی نظر اب ان میٹنگوں پر ہے، جہاں فیصلے نہ صرف نشستیں بلکہ پورے انتخابی منظر نامے کو تبدیل کر دینے کی پوزیشن میں رہیں گے۔ بہار کے ووٹرز، جو غربت اوربے روزگاری کے خاتمے اور ترقی کا خواب پالے بیٹھے ہیں، سیاسی جماعتوںکی مفاد پرستی سے بیزار ہو چکے ہیں۔ایسے میں یہ واضح نہیں ہو پارہا ہے کہ زیادہ سے زیادہ سیٹیں حاصل کرنے کے لئے جاری یہ رسہ کشی کہاں جا کر ختم ہوگی، لیکن یہ طے ہے کہ اس بار چھوٹے چھوٹے اتحادیوں کو مطمئن کر پانا بڑے اتحادیوں کے لئے آسان نہیں ہوگا۔