تاثیر 22 ستمبر ۲۰۲۵:- ایس -ایم- حسن
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے 19 ستمبر 2025 کو جاری کردہ صدارتی حکم نامے نے عالمی منظر نامے پر ایک عجیب سی ہلچل پیدا کر دی ہے۔ اس حکم سے ایچ-ون بی ویزا کی فیس 1,500 ڈالر سے بڑھا کر ایک لاکھ ڈالر کر دی گئی ہے۔بڑھی ہوئی فیس 21 ستمبر سے نافذ ہو چکی ہے۔ یہ فیصلہ، جو’’امریکہ فرسٹ‘‘ پالیسی کا تسلسل ہے، ہزاروں ہنر مند افراد، خاص طور پر بھارت اور جنوبی ایشیا سے تعلق رکھنے والوں کے لئے ایک غیر متوقع دھچکا ثابت ہو ہےا۔ ہر سال 85 ہزار ویزوں میں سے 71 فیصد بھارتی پروفیشنلز حاصل کرتے ہیں، مگر اب یہ خواب امریکی فیصلے کی دیوار سے ٹکراکر چور چور ہونے کے قریب ہے۔حالانکہ وائٹ ہاؤس نے وضاحت کی کہ یہ فیس صرف نئی درخواستوں پر عائد ہوگی اور موجودہ ہولڈرز اس سےمستثنیٰ ہیں، لیکن ابتدائی ابہام نے خوف و ہراس کا ایسا ماحول پیدا کر دیا ہے، جس سے لوگ نکل نہیں پا رہے ہیں۔
ایچ-ون بی پروگرام، جو 1990 میں شروع ہو تھاا، امریکی معیشت کو عالمی ٹیلنٹ سے جوڑتا ہے۔ ایمیزون، ٹاٹا، مائیکروسافٹ، میٹا، ایپل اور گوگل جیسی کمپنیاں اس سے بھرپور فائدہ اٹھاتی ہیں۔ گزشتہ مالی سال میں ایمیزون سرفہرست رہا۔ ٹرمپ کا دعویٰ ہے کہ غیر ملکی کارکن امریکی نوکریوں پر قبضہ کر رہے ہیں، لیکن ناقدین اسے جدت کے لئے نقصان دہ سمجھتے ہیں۔ ایلون مسک جیسے حامی اس پروگرام کو عالمی دماغوں کا دروازہ کہتے ہیں، جبکہ مخالفین اسے افرادی قوت کے استحصال کا ذریعہ قرار دیتے ہیں۔
بھارت پر اس فیصلے کے اثرات گہرے ہیں۔ وزارت خارجہ نے خبردار کیا ہے کہ یہ ’’خاندانوں میں خلل‘‘ اور’’ انسانی بحران‘‘ کا باعث بن سکتا ہے۔ ناسکام نے ایک دن کی ڈیڈ لائن کو’’غیر حقیقت پسندانہ‘‘ قرار دیا ہے، جو بھارت کی 280 بلین ڈالر کی آئی ٹی انڈسٹری کو دھچکا دے گا۔ ہزاروں پروفیشنلز، اپنی خاندانی تقریبات اور دوسرے ضروری کام کو چھوڑ کر، ہزارو ڈالر خرچ کرکے، ہڑبڑاہٹ میں امریکہ لوٹ گئے ہیں۔ دہلی سے نیویارک کی فلائٹس کی قیمتیں 80 ہزار روپے تک پہنچ گئیں۔ ایکس پلیٹ فارم پر بھارتی صارفین کی پوسٹس اس کی شدت کو عیاں کرتی ہیں: ایک صارف نے لکھا کہ’’88 لاکھ روپے کی فیس بھارتی ٹیلنٹ کو واپس کھینچ لے گی‘‘، جبکہ دوسرے کا کہنا ہے کہ ’’امریکی ٹیک سیکٹر اپنی قبر خود کھود رہا ہے۔‘‘
امریکی امیگریشن کونسل کے ڈائریکٹر جارج لووری نے اس پالیسی کو’’بغیر نوٹس‘‘ نافذ ہونے والی پالیسی قرار دیا ہے۔یہ پالیسی ملازمت دینے والی کمپنیوں (ایمیزون، گوگل وغیرہ) اور یونیورسٹیوں میں الجھن پھیلا رہی ہے۔ بھارتی وکیل گنجن سنگھ نے خبردار کیا کہ کم تنخواہ والے ریسرچرز، جو یونیورسٹیوں اور غیر منافع بخش اداروں میں کام کرتے ہیں، سب سے زیادہ متاثر ہوں گے۔ ساؤتھ ایشین بار ایسوسی ایشن نے ویزا ہولڈرز کو عارضی طور پر بین الاقوامی سفر سے گریز کا مشورہ دیا ہے۔
بھارتی ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ بحران بھارت کے لئے ایک سنہری موقع ہے۔ جی ٹی آر آئی تھنک ٹینک کے مطابق، یہ فیصلہ امریکی معیشت کو نقصان پہنچائے گا، جبکہ بھارت اپنے ہنر مندوں کو واپس بلا کر اپنی آئی ٹی انڈسٹری اور دیگر جدید مراکز کو تقویت دے سکتا ہے۔ بنگلور، گڑگاؤں اور حیدرآباد جیسے شہر نئے مواقع کے مرکز بن سکتے ہیں۔ یہ نہ صرف معاشی ترقی کو فروغ دے گا بلکہ خاندانوں کو دوبارہ متحد بھی کرے گا، جو برسوں سے سرحدوں کے دونوں طرف بکھرے ہوئے ہیں۔ البتہ اس سلسلے میںبھارتی حکومت کو سفارتی سطح پر آواز ضرور اٹھانی چاہیے، تاکہ کوئی ایسا متبادل راستہ نکلے ، جوٹیلنٹ کی نقل و حرکت کو دونوں ممالک کے لئے فائدہ مند بنانے کا ضامن ہو سکے۔ ویسےپوری دنیا کو معلوم ہے کہ امریکہ کا یہ فیصلہ خود اس کے گلے کی ہڈی بننے والا ہے۔دوسری طرف اس سے بھارت کو اپنی زمین کو مضبوط بنانے کا موقع مل رہا ہے۔حالانکہ ماہرین کا خیال ہے کہ حکومتوں کو چاہیے کہ وہ سیاسی ہتھیاروں کی بجائے باہمی فائدے کی پالیسیاں اپنائیں۔تاکہ ٹیلنٹ کو عالمی سطح پر انسانیت کی بہبود کا ذریعہ بننے کی راہ ہموار ہوسکے۔

