تاثیر 11 ستمبر ۲۰۲۵:- ایس -ایم- حسن
پڑوسی ملک نیپال میں جاری پرتشدد عوامی احتجاج اور حکومت مخالف تحریک نے اس قدر شدت اختیار کر لی ہے کہ وطن عزیز بھارت کو اپنی سرحدوں کی حفاظت اور داخلی سلامتی کے لئے فوری اور سخت اقدامات کرنے پڑے ہیں۔ کٹھمنڈو سے لے کر ترائی کے اضلاع تک پھیلے یہ مظاہرے، جو رواں ماہ ستمبر کے آغاز کے ساتھ شروع ہوئے تھے، 8 اور 9 ستمبر کو پرتشدد شکل اختیار کر گئے تھے۔ اب نیپال کے حالات وہاں کےسیاسی استحکام کے لئے سنگین چیلنج بن چکے ہیں۔ موجودہ صورتحال بھارت کے لئے بھی باعث تشویش ہے۔ خاص طور پر، نیپال میں ’’جین زی‘‘ کی تحریک کے دوران جیلوں سے قیدیوں کے فرار ہونے کے واقعات کے بعد، بھارت کی سرحدی ریاستوں بشمول بہار، اتر پردیش، اتراکھنڈ اور مغربی بنگال کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے۔
نیپال کے حالات کے مدنظر، حکومت بہارنے سرحدی اضلاع میں سیکیورٹی کو مزید سخت کرنے کے لئے گزشتہ روز اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد کیا۔ اس میٹنگ کی صدارت چیف سیکریٹری پرتیہ امرت نے کی۔میٹنگ میں سرحدی اضلاع کے ڈسٹرکٹ مجسٹریٹس اور سپرنٹنڈنٹس آف پولیس نے ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے شرکت کی۔ اجلاس میں سرحدی نگرانی کو مزید مؤثر بنانے کے احکامات جاری کیے گئے۔ چیف سیکریٹری نے ہدایت دی کہ سرحد پار سے آنے والے ہر شخص کی سخت جانچ پڑتال کی جائے اور اہم انفراسٹرکچر جیسے پلوں، ریلوے اسٹیشنوں اور پاور پلانٹس پر خصوصی نگاہ رکھی جائے۔ یہ اقدامات اس خدشے کی عکاسی کرتے ہیں کہ نیپال کی بغاوت کا انتشار بھارت تک پھیل سکتا ہے، خاص طور پر جب دونوں ممالک کے درمیان کھلی سرحد ہے اور لوگوں کی آزادانہ آمد ورفت معمول کی بات ہے۔ اس احتیاط کے تحت، بہار کے ضلع سپول میں بھارت-نیپال سرحد کو مکمل طور پر سیل کر دیا گیا ہے۔ وہاں سشستر سیما بل(ایس ایس بی) کے جوانوں نے چوکسی بڑھا دی ہے اور پولیس مسلسل گشت کر رہی ہے۔ ڈی ایم ساون کمار اور ایس پی سرتھ آر ایس سرحدی علاقوں کی نگرانی کر رہے ہیں، جبکہ لوگوں کو نیپال جانے سے گریز کرنے کی اپیل کی گئی ہے۔ نیپال میں کرفیو نافذ ہے، فوج کی گشت شروع ہو چکی ہے، اور سرحد پر صرف ایمرجنسی ایمبولینسز کو گزرنے کی اجازت ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ نیپال میں اس طرح کے حالات پیدا ہونے کی وجہ سے معاشی اور سماجی اثرات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ سرحد کی بندش سے دونوں طرف کے لوگوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ نیپال کے شہری، جو بھارت میں تجارت یا رشتہ داری کے سلسلے میں آئے تھے، اب واپسی کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں، جبکہ بھارت میں پھنسے نیپالی اور نیپال میں پھنسے بھارتی شہری بھی شدید پریشانی کا شکار ہیں۔ سرحدی بازاروں میں کاروبار ٹھپ ہو گیا ہے، جو روزانہ لاکھوں روپے کا تھا۔ سرحد کے آس پاس آباد لوگوں کے مطابق، نیپال میں تشدد اور کرفیو کی وجہ سے صورت حال کشیدگی کا شکار ہے۔ ایس ایس بی کے کمانڈنٹ گورو سنگھ کا کہنا ہے کہ صرف شناخت کی تصدیق کے بعد ہی لوگوں کو گزرنے دیا جا رہا ہے۔ یہ صورت حال بتاتی ہے کہ بغاوت کی آگ نے نہ صرف سیاسی بلکہ انسانی اور معاشی بحران بھی پیدا کر دیا ہے، جو بھارت کی سرحدی ریاستوں کو براہ راست متاثر کر رہا ہے۔
تاہم، ماہرین کی رائے میں بھارت پر اس کا براہ راست اثر محدود ہے۔ وہ مانتے ہیں کہ یہ بغاوت کرپشن، نیپوٹزم، سوشل میڈیا پر پابندی اور معاشی مسائل کے خلاف ہے، نہ کہ بھارت مخالف۔ امید کی جا رہی ہے کہ نیپال کی عبوری یا نئی حکومت بھارت کے ساتھ اچھے تعلقات برقرار رکھے گی۔ تاہم بھارت کو حساس ضرور رہنا چاہیے۔ بھارت نے اپنے شہریوں کو نیپال نہ جانے کی ٹریول ایڈوائزری جاری کی ہے، جو احتیاط کی نشاندہی کرتی ہے۔ ویسےمجموعی طور پر، نیپال کی بغاوت کی لہریں بھارت کی سرحدوں کو گرم ضرور کر رہی ہیں، مگر یہ نیپال داخلی بحران ہے،اس سے بھارت کا کوئی لینا دینا نہیں ہے۔چنانچہ بھارت کو چاہئے کہ وہ سفارتی سطح پر غیر ضروری مداخلت سے گریز کرے اور انسانی بنیادوں پر حسب ضرورت مدد فراہم کرے۔ یہ وقت ہے کہ دونوں ممالک اپنے تاریخی، سماجی اور معاشی روابط کو مزید مضبوط کریں، تاکہ ہمارے تعلقات مستقبل میں بھی خوشگوار رہیں۔

