تاثیر 2 ستمبر ۲۰۲۵:- ایس -ایم- حسن
حال ہی میں انڈیا اتحاد کی جانب سے منعقد کی گئی’’ ووٹرادھیکار یاترا ‘‘کے دوران دربھنگہ میں وزیر اعظم نریندر مودی کی والدہ کے خلاف مبینہ طور پر نازیبا تبصرہ کیے جانے کے معاملے نے سیاسی ماحول کو مزید گرم کر دیا ہے۔ یہ یاترا، جو راہل گاندھی اور تیجسوی یادو کی قیادت میں چلائی گئی تھی، انتخابی کمیشن کی جانب سے ووٹر لسٹوں میں کئے جانے والے اپڈیشن یعنی ایس آئی آر میں مبینہ گڑبڑیوں کے خلاف زور دار احتجاج تھی۔ اتحاد کا الزام ہے کہ ایس آئی آر کے تحت، لاکھوں ووٹروں کے نام کو حذف کر کے انتخابی عمل کو متاثر کیا جا رہاہے۔ یاترا کا اختتام یکم ستمبر کو پٹنہ میں ہوا، لیکن دربھنگہ میں ہونے والا واقعہ اب مرکزی تنازع بن گیا ہے۔
بی جے پی اور این ڈی اے نے اس واقعے کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ بی جے پی کے ریاستی صدر دلیپ جیسوال نے اسے جمہوریت پر داغ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’’ماں تو ماں ہوتی ہے، چاہے وہ کسی بھی پارٹی کی ہو۔ ماں خدا کا روپ ہوتی ہے۔‘‘ انہوں نے راہل گاندھی اور تیجسوی یادو پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ اس تبصرے پر اب تک افسوس کا اظہار نہیں کر رہے۔ وزیر اعظم مودی نے بھی کل جیویکا دیدی پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے اس پر گہرا دکھ ظاہر کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ’’اپوزیشن نے نہ صرف میری ماں کو گالی دی، بلکہ ملک کی کروڑوں ماؤں کو توہین کا نشانہ بنایا ہے۔ انہیں چھٹھی مایا سے معافی مانگنی چاہیے۔‘‘ مودی نے عوام سے اپیل کی کہ وہ انڈیا اتحاد کے لیڈروں کا جہاں بھی سامنا ہو، مخالفت کریں۔ اس تناظر میں بی جے پی نے 4 ستمبر کو بہار میں مکمل بند کا اعلان کیا ہے، جو صبح 7 بجے سے دوپہر 12 بجے تک رہے گا۔ ہنگامی خدمات اور ریلوے کو اس سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس بند کی قیادت بی جے پی کا خواتین مورچہ کر رہا ہے۔ این ڈی اے کے تمام اتحادیوں نے اس بند کی مکمل حمایت کا اعلان کیاہے۔
یہ واقعہ محض ایک ذاتی توہین کا معاملہ نہیں، بلکہ بہار کی سیاست کے بڑھتے ہوئے تلخ ماحول کی عکاسی کرتا ہے۔ ایک طرف اپوزیشن ووٹرز کے حقوق کے لئے جدوجہد کی بات کت رہی ہے۔ان کا کہنا ہے کہ بہار میں 65 لاکھ سے زائد ووٹروں کو حذف کیا جا رہا ہے، جو غریب اور پسماندہ طبقات کو متاثر کر سکتا ہے۔ راہل گاندھی نے پارلیمنٹ میں بھی یہ مسئلہ اٹھایا ہے، جہاں انہوں نے مینتا دیوی کی مثال دے کر کہا ہے کہ ’’تصویر ابھی باقی ہے‘‘۔ اپوزیشن کا الزام ہے کہ یہ سب کچھ حکمران اتحاد کی سازش ہے تاکہ انتخابات میں فائدہ اٹھایا جا سکے۔ دوسری طرف، بی جے پی اسے ذاتی حملوں کا جواب دے کر جذباتی کارڈ کھیل رہی ہے۔ ایک شخص کو گرفتار کیا گیا ہے، جو اس تبصرے کا ذمہ دار ہے، لیکن اپوزیشن لیڈروں نے اس سے فاصلہ رکھا ہے اور کوئی معافی نہیں مانگی ہے، جو تنازع کو مزید بڑھا رہا ہے۔
اس واقعے سے یہ واضح ہے کہ بہار کی سیاست اب مسائل سے ہٹ کر ذاتیات کی طرف جا رہی ہے۔ آنے والے اسمبلی انتخابات میں بی جے پی اسے عوام کے سامنے لے جا کر فائدہ اٹھانے کی کوشش کرے گی، جبکہ اپوزیشن ووٹر حقوق کو مرکزی ایشو بنا سکتی ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ایسے ذاتی حملے جمہوریت کو مضبوط کرتے ہیں؟ ماں کی توہین ناقابل قبول ہے، اور اس کی مذمت ہونی چاہیے۔ تاہم، اپوزیشن کی یاترا کا مقصد بھی اہم ہے، جو انتخابی شفافیت پر سوال اٹھا رہا ہے۔ دونوں فریقوں کو چاہیے کہ وہ سیاسی بحث کو ہر حال میں تہذیب کے دائرے میں رکھیں اور عوامی مسائل پر توجہ دیں۔ بہار، جو ترقی کی راہ پر ہے، کو ایسے تلخ تنازعات کی نہیں، بلکہ تعمیری سیاست کی ضرورت ہے۔ اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو عوام کا اعتماد جمہوریت سے اٹھ سکتا ہے۔ اب وقت ہے کہ لیڈر اسے ایک سبق بنا کر آگے بڑھیں، تاکہ سیاست خدمت کا ذریعہ بنے، نہ کہ نفرت کا۔

