حماس کے لیڈروں کے لیے دنیا میں کوئی بھی جائے پناہ نہیں، ہم ہر جگہ ان کا تعاقب کریں گے:اسرائیلی وزیراعظم کی دھمکی

تاثیر 10 ستمبر ۲۰۲۵:- ایس -ایم- حسن

تل ابیب،10ستمبر:اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاھو نے کہا ہے کہ حماس کے رہنما اب دنیا میں کسی بھی جگہ محفوظ نہیں رہیں گے۔ یہ بیان انہوں نے قطر کے دارالحکومت دوحہ میں حماس کی قیادت کو فضائی حملوں میں نشانہ بنانے کے بعد دیا۔یروشلم میں امریکی سفارت خانے کی تقریب سے خطاب میں ان کا کہنا تھا کہ “وہ دن ختم ہو گئے جب حماس کے رہنما ناقابلِ دسترس سمجھے جاتے تھے۔ اب کسی کو ایسی چھوٹ نہیں دی جائے گی۔نیتن یاھو نے کہا کہ انہوں نے اس کارروائی کا حکم “قاتلوں سے حساب برابر کرنے اور اسرائیل کے شہریوں کے مستقبل کے تحفظ” کے لیے دیا۔اسی دوران انہوں نے دعویٰ کیا کہ غزہ کی جنگ فوراً ختم ہو سکتی ہے اگر حماس امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پیش کردہ جنگ بندی کی تجویز قبول کر لے۔ نیتن یاھو کے مطابق اسرائیل نے اصولی طور پر اس تجویز کو تسلیم کر لیا ہے، جس کا آغاز تمام قیدیوں کی فوری رہائی سے ہونا چاہیے۔ اگر حماس ٹرمپ کی تجویز مان لے تو جنگ اسی وقت ختم ہو سکتی ہے۔ادھر اسرائیلی فوج نے اعلان کیا ہے کہ اس نے دوحہ میں حماس کے اعلیٰ رہنماؤں کو فضائی حملوں میں نشانہ بنایا، جبکہ قطر نے رہائشی عمارتوں پر حملے کی مذمت کی ہے جہاں حماس کے بعض رہنما قیام پذیر تھے۔نیتن یاھو نے اپنے دفتر سے جاری بیان میں کہا کہ “آج کی کارروائی مکمل طور پر اسرائیلی فیصلہ اور عمل تھا۔ اسرائیل نے منصوبہ بنایا اسرائیل نے اسے انجام دیا اور اسرائیل ہی اس کی ذمہ داری اٹھاتا ہے۔” تاہم فوری طور پر یہ واضح نہیں ہو سکا کہ کن رہنماؤں کو نشانہ بنایا گیا اور ان کا کیا انجام ہوا۔اسرائیلی فوج کے مطابق کارروائی “براہِ راست اور درست نشانے پر” کی گئی۔ فوجی ترجمان نے بتایا کہ آپریشن کا نام “قم? النار” رکھا گیا اور یہ فضائی حملوں کے ذریعے انجام دیا گیا۔