ٹرمپ کی اقوام متحدہ پر شدید تنقید، غزہ کی جنگ فوری روکنے کا مطالبہ

تاثیر 24 ستمبر ۲۰۲۵:- ایس -ایم- حسن

نیویارک،24ستمبر:
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب میں کہا ہے کہ غزہ کی جنگ فوراً بند ہونی چاہیے اور تمام بیس قیدیوں کو فی الفور رہا کیا جائے۔ٹرمپ نے بتایا کہ انہوں نے “غزہ میں امن قائم کرنے کی کوشش کی اور حماس سے مطالبہ کیا کہ وہ “تمام زیر حراست افراد کو ایک ہی وقت میں رہا کرے۔انہوں نے اپنی تقریر میں کہا کہ وہ سات جنگوں کو ختم کرنے کا اعلان کر چکے ہیں، تاہم روس۔ یوکرین جنگ اور غزہ کے تنازع میں ان کی کوششیں ابھی کسی بڑی پیش رفت تک نہیں پہنچ سکیں۔
امریکی صدر نے اقوام متحدہ میں اپنے پہلے خطاب میں وائٹ ہاؤس واپسی کے بعد عالمی تنظیم کا مذاق اڑایا اور الزام لگایا کہ یہ ادارہ امن قائم کرنے کے بجائے غیر قانونی ہجرت کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔انہوں نے جنرل اسمبلی کے فورم سے کہا کہ اقوام متحدہ مغربی ممالک کو غیر قانونی ہجرت پر اکسا کر دراصل “ایک حملے کی مالی معاونت” کر رہا ہے۔ ٹرمپ نے کہاکہ “امن کا دور ختم ہو چکا، اب بحرانوں کا دور شروع ہو گیا ہے۔ اقوام متحدہ کے پاس بے پناہ وسائل ہیں لیکن اپنے مقاصد کے قریب بھی نہیں پہنچ سکا”۔ٹرمپ نے موسمیاتی تبدیلی پر عالمی کوششوں کو بھی سخت تنقید کا نشانہ بنایا اور اسے “دنیا کی سب سے بڑی فراڈ سکیم” قرار دیا۔انہوں نے سوال اٹھایا کہ “اقوام متحدہ کا مقصد ہی کیا ہے؟”یہ صرف سخت بیانات جاری کرتا ہے، مگر یہ کھوکھلے الفاظ ہیں جو جنگوں کو ختم نہیں کرتے”۔
اقوام متحدہ کو انہوں نے “ایک ایسا لفٹ قرار دیا جو آدھے راستے میں رْک جائے”۔ اپنی تقریر میں 79 سالہ صدر نے اقوام متحدہ کی عمارت میں خراب لفٹ اور ناکارہ اسکرین کا بھی مذاق اڑایا۔ یہ پہلا موقع نہیں کہ ٹرمپ نے ’یو این او‘ کو تنقید کا نشانہ بنایا ہو۔ وہ اپنی پہلی مدت صدارت سے ہی تنظیم پر تنقید کرتے آئے ہیں۔