تعلیماتِ محمدیؐ کا آفاقی پہلو۔مفکرین مغرب کی نظر سے

 

ڈاکٹر محمد اقتدار حسین فاروقی

اور ہم نے آپ کو نہیں بھیجا مگر تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر

حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی آفاقیت اس امر پر مبنی ہے کہ آپ کا پیغام امن، اخوت، مساوات، علم و انصاف اور انسانی فلاح کا ضامن ہے۔ آپ نے اعلان فرمایا کہ نہ کسی نسل کو دوسری نسل پر برتری حاصل ہے اور نہ ہی دولت مند کو غریب پر فوقیت دی جا سکتی ہے۔ آپ نے انسانی مسائل کو حل کرنے میں دیانت داری، عقل و حکمت اور عادلانہ رویہ کو بنیاد بنایا۔
اسلام کے ظہور کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآنِ حکیم کی رہنمائی میں جمہوری اقدار، انسانی ہمدردی، خواتین کے حقوق، نظم و ضبط، سائنس و ٹیکنالوجی اور تہذیبی ترقی کے ہر میدان میں نمایاں کامیابیاں حاصل کیں۔ اس دورِ عروج میں، یورپ تاریک دور (Dark Ages) سے گزر رہا تھا، جہاں جہالت، بدعنوانی اور ناانصافی عام تھی۔ چنانچہ یورپ کو اسلامی دنیا کی ترقی پسندی سے ناپسندیدگی تھی۔
تاہم نشاۃِ ثانیہ (Renaissance) کے بعد، جو بڑی حد تک اسلامی علوم و معارف سے فیض یاب ہوئی، صورتحال بدل گئی۔ مغربی مفکرین اور دانشوروں نے نہ صرف اسلامی دنیا کی علمی خدمات کو تسلیم کیا بلکہ نبی اکرم ﷺ کی شخصیت اور آپ کے اصلاحی و ترقی پسند افکار کی عظمت کو بھی کھلے دل سے سراہا۔
اس مقالے میں ہم مغربی ر مفکرین کے ایسے ہی اعترافات و آراء پیش کریں گے۔ لیکن اس سے قبل ضروری ہے کہ ہم دیکھیں، قرآنِ کریم کس طرح نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی آفاقیت کو بیان کرتا ہے اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے خطبۂ وداع میںپیغام کو کس بلیغ انداز میں واضح فرمایا۔
۔ قرآن مجید میں ارشاد باری تعالیٰ ہے:
سورۃ الانبیاء (:107): “اور ہم نے آپ کو نہیں بھیجا مگر تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر۔”
سورۃ سبا (28): “اور ہم نے آپ کو نہیں بھیجا مگر تمام لوگوں کے لیے خوشخبری سنانے والا اوآگاہ کرنے والا بنا کر، لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔””
(سورہ ابراھیم۔۱) ۔۔الر۔یہ عالی شان کتاب ہم نے آپ کی طرف اتاری ہے کہ آپ لوگوں کو اندھیروں سے اجالے کی طرف لائیں ان کے پروردگار کے حکم سے زبردست اور تعریفوں والے اللہ کی طرف —
سورۃ الاعراف (158): “کہہ دیجیے کہ اے لوگو! میں تم سب کی طرف اس اللہ کا رسول ہوں جس کے لیے آسمانوں اور زمین کی بادشاہی ہے۔ اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں، وہی زندگی دیتا ہے اور وہی موت دیتا ہے۔ سو تم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ جو کہ امی نبی ہیں، جو خود اللہ اور اس کے کلام پر ایمان رکھتے ہیں اور اس کی پیروی کرو تاکہ تم ہدایت پاؤ۔”
سورۃ الفرقان (1) بڑا بابرکت ہے وہ (اللہ) جس نے اپنے بندے پر فرقان (حق و باطل میں فرق کرنے والی کتاب) اتاری تاکہ وہ تمام جہانوں کوآ گاہ کرنے والا ہو۔
آئیے ہم یہ معلوم کریں کہ تعلیمات محمدی کے بنیادی اصول کیا ہیں
رسول اکرمؐ نے فرمایا کہ علم کا حصول ہر مرد و عورت پر فرض ہے۔
(اللہ نے مجھے سخت گیری اور تکلیف دینے والا بنا کر نہیں بھیجا بلکہ معلم اور آسانی پہنچانے والا بنا کر بھیجا ہے)راوی: حضرت عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ۔۔ مسلم
(یقیناً مجھے بھیجا گیا تاکہ میں اخلاق کی خوبیوں کو کامل بنا دوں) راوی: حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ: موطا امام مالک،
حضرت ابوموسی اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
(بیشک اللہ تمہاری شکل و صورت اور مال کو نہیں دیکھتا بلکہ تمہارے دلوں اور اعمال کو دیکھتا ہے ۔(مسلم)
**’’اے لوگو! تمہارا رب ایک ہے۔ کسی عربی کو عجمی پر، کسی عجمی کو عربی پر، کسی گورے کو کالے پر، کسی کالے کو گورے پر کوئی فضیلت نہیں، سوائے تقویٰ کے‘‘ راوی: حضرت ابو نصرہ رضی اللہ عنہ مسند احمد،
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے:
(جو شخص تلاشِ علم کے لیے نکلے، اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت کا راستہ آسان فرما دیتا ہے۔راوی: حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ (مسلم)
حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا خطبہ، جو حجۃ الوداع کے موقع پر دیا گیا تھا،”اے لوگو! میری بات غور سے سنو، کیونکہ مجھے نہیں معلوم کہ اس سال کے بعد اس جگہ تم سے دوبارہ ملاقات ہو بھی پائے گی یا نہیں۔”
“تمہارا خون، تمہارا مال اور تمہاری عزت ایک دوسرے پر ایسے ہی حرام ہے جیسے اس دن، اس مہینے اور اس شہر کی حرمت ہے۔”
“زمانۂ جاہلیت کی سب رسومات میرے قدموں تلے روند دی گئی ہیں۔ خون کے بدلے خون کا نظام اور سود (ربا) ہمیشہ کے لیے ختم کیا گیا۔”
“عورتوں کے بارے میں اللہ سے ڈرو۔ تمہارے ان پر حقوق ہیں اور ان کے تم پر حقوق ہیں۔”
“تمام انسان آدم اور حوا کی اولاد ہیں۔ کسی عرب کو عجمی پر کوئی فضیلت نہیں اور نہ ہی کسی عجمی کو عرب پر۔ نہ گورے کو کالے پر اور نہ کالے کو گورے پر کوئی برتری ہے، سوائے تقویٰ اور نیک عمل کے۔”
“میں تمہارے پاس دو چیزیں چھوڑے جا رہا ہوں؛ اگر تم ان کو مضبوطی سے تھامے رکھو گے تو کبھی گمراہ نہ ہوگے: اللہ کی کتاب اور میری سنت۔”
پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: “کیا میں نے پیغام پہنچا دیا؟”
سب نے کہا: “جی ہاں!”
آپ نے اپنی انگشت شہادت آسمان کی طرف اٹھائی اور تین مرتبہ فرمایا:
“اے اللہ! تو گواہ رہ۔”
ذیل میںمعروف مغربی مفکرین کے واضح اقوال پیش کیے جاتے ہیں جو اس حقیقت کی حمایت کرتے ہیں کہ حضرت محمد کی رسالت تمام انسانوں کے لیے تھی، صرف مسلمانوں یا عربوں کے لیے نہیں۔
(Christiaan Snouck Hurgronje) نے فرمایا:
“اسلام کے پیغمبر کی بنیاد پر قائم ہونے والی لیگ آف نیشنز نے بین الاقوامی وحدت اور انسانی بھائی چارے کے اصول کو اتنے عام اور مضبوط بنیادوں پر قائم کیا کہ دوسرے ممالک کے لیے مشعل راہ بن گئی۔ دنیا نے ایسے فرد کو الہٰی مقام پر فائز کرنے میں ہچکچاہٹ محسوس نہیں کی جس کی زندگی اور خدمات صرف افسانوں میں گم ہو گئی ہوں، لیکن تاریخی نقطہ نظر سے، محمد ﷺ نے جو کامیابیاں حاصل کیں، ان کے چند فیصد بھی کسی اور نے حاصل نہیں کیں۔ ان کی جدوجہد کا مقصد انسانی وحدت اور ایک خدا کی عبادت تھی۔”
Thomas Carlyle نے اسلام کے مرکزی تصور کو یوں بیان کیا:”رسول اللہ اصولوں پر ثابت قدم، مہربان، مخلص، پرہیزگار اور حکمت و شجاعت میں اعلیٰ تھے… آپ ایک عظیم انسان تھے۔ایک خاموش اور سنجیدہ روح، جو پوری دل و جان سے مخلص تھے۔”
Edward Gibbon نے لکھا: “محمد کی زندگی کی سب سے بڑی کامیابی صرف اخلاقی قوت سے حاصل ہوئی،۔”
.. Alphonse de Lamartineنے Prophet کی عظمت کو اس طرح بیان کیا: “اگر انسان کی عظمت کا پیمانہ ہے—عظیم مقصد، محدود وسائل، اور وسیع نتائج—تو کون ایسا انسان جس کا محمد سے مقابلہ کیا جا سکے؟ … آپ فلسفی، خطیب، رسول، قانون ساز، فاتحِ افکار اور روحانی سلطنت کے بانی تھے۔”
George Bernard Shaw ۔ “دنیا کو ایسے انسان کی سخت ضرورت ہے جو حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ا جیسی ذہانت رکھتا ہو… انہیںانسانیت کا نجات دہندہ کہا جانا چاہیے۔”
Christiaan Snouck Hurgronje “۔ان کی جدوجہد واحد مقصد تھا: انسانیت کو ایک خدا کی عبادت اور اخلاقی فضیلت کی بنیاد پر متحد کرنا۔”
Annie Besant “جو کوئی بھی عظیم عرب نبی کی زندگی اور اخلاق کا مطالعہ کرتا ہے… اس کے لیے اس عظیم نبی کے سوا کچھ اور جذبات محسوس کرنا ناممکن ہے، سوائے احترام کے…” “محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زندگی کی سب سے بڑی کامیابی صرف اخلاقی قوت سے حاصل ہوئی۔”
Johann Wolfgang von Goethe اگر اسلام کے معنی اللہ کے سامنے سر تسلیم خم کرنا ہیں، تو ہم سب اسلام میں زندگی پاتے ہیں اور اسلام میں مرتے ہیں۔””یہ ہر مذہبی-عقلی نظریے سے ہم آہنگ ہے اور ایک ایسا اسلام ہے جس کا ہمیں یا تو جلد یا بعد میں اعتراف کرنا پڑے گا۔”
Micheal Hart “میری فہرست میں حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ا کو دنیا کے سب سے زیادہ با اثر انسانوں میں اول نمبر دینا بعض قارئین کو حیران کرے گا، لیکن وہی واحد شخصیت ہیں جو مذہبی اور دنیاوی دونوں میدانوں میں بیک وقت کامیاب رہے۔”
پروفیسر آر۔ بوسورتھ اسمتھ “وہ بیک وقت قیصر بھی تھے اور پاپائے روم بھی؛ مگر بغیر لشکر کے قیصر اور بغیر دعویٰ کے پاپا تھے… اگر کبھی کسی انسان کو یہ حق حاصل ہوا ہو کہ وہ کہے کہ میں خدائی حق سے حکومت کر رہا ہوں تو وہ محمد تھے، کیونکہ اُن کے پاس تمام طاقت تھی لیکن طاقت کے ظاہری وسائل نہیں تھے۔”
7Dr, Wllium Draper نے کہا”جسٹینین کی موت کے صرف چار برس بعد 569ء میں مکہ میں وہ شخصیت پیدا ہوئی جس نے تمام انسانیت پر سب سے زیادہ اثر ڈالا۔”
Edward Gibbon ،محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اکی عزت انسانی فضیلت کے معیار سے کبھی تجاوز نہیں کرتی۔”
جارج برنارڈ شا، ایک برطانوی فلسفی اور مورخ، محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ا کو “انسانیت کے نجات دہندہ” کہتے ہیں اور یقین رکھتے ہیں کہ اگر وہ عالمی قیادت سنبھالتے تو مسائل حل کر دیتے اور امن و خوشی لاتے۔
Karen Armstrong ۔، ایک برطانوی مذہبی مورخ، محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اکے مشن کو ایک عادلانہ معاشرہ بنانے کی کوشش کے طور پر اجاگر کرتے ہیں، ان کی ہمدردی اور حکمت کو نمایاں کرتے ہیں۔
یہ مختلف آراء حضرت محمد کے پیغام کی عالمی اہمیت اور انسانیت پر ان کے دیرینہ اثر کو ظاہر کرتی ہیں۔
(Reverend Bosworth Smith) نے کہا:
“محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ا نہ صرف ریاست کے سربراہ تھے بلکہ کلیسا کے سربراہ بھی، وہ ایک وقت میں قیصر اور پوپ کی حیثیت رکھتے تھے، لیکن بغیر پوپ کی دعووں اور قیصر کی فوج کے بغیر۔ اگر کسی آدمی کو یہ حق حاصل تھا کہ وہ خدا کے حق سے حکومت کرے، تو وہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اتھے، کیونکہ ان کے پاس وہ تمام اختیارات تھے بغیر ان کے معمولات کے۔ ان کی زندگی کی سادگی اور ان کے عوامی کردار میں ایک خاص ہم آہنگی تھی۔”
Phillip Hitti نے کہا: “محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ا خدا کے نمائندے کے طور پر زمین پر انسانی بھائی چارے کا سب سے بڑا علمبردار تھے۔”
J.H. Denison کے الفاظ میں:”محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ا نے انسانی تہذیب کو فنا ہونے سے بچا لیا۔”
پروفیسر جُولیس ماسر مین: “محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ا تاریخ کے سب سے عظیم رہنما تھے۔”
فرانسیسی فلسفی کارڈیفو Cardifo نے لکھا: “حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اایک متاثر کن نبی اور مومن تھے۔ انہوں نے جو مساوات اور بھائی چارے کے جذبات قائم کیے، وہ اسلامی دنیا میں عملی طور پر نافذ ہو گئے، حتیٰ کہ خود نبی کے اوپر بھی۔”
روسی فلسفیLeo Tolstoy نے کہا:”محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک بانی بھی تھے اور رسول بھی۔ انہوں نے ایک مضبوط قوم کو سچائی کی روشنی کی طرف رہنمائی دی، امن اور سکون کی طرف مائل کیا اور انسانی قربانیوں اور خون روک دیا۔ یہ وہ کارنامہ ہے جو صرف ایک مضبوط انسان کر سکتا ہے، اور ایسے انسان کی عزت اور تعظیم لازم ہے۔”
ؓEdward Shawنے فرمایا: “یورپ نے اب محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ا کی حکمت کو سمجھنا شروع کر دیا ہے اور ان کا مذہب قبول کرنا بھی شروع ہو رہا ہے۔ اگر محمد کو جدید دنیا پر حکمرانی کرنے کا موقع دیا جائے تو وہ اس کے مسائل حل کر کے امن و خوشحالی لے آئیں گے۔” ۔
Hans Kochler(اسٹریا ):یہ ایک تاریخی سچائی ہے کہ اسپین کی مسلم تہذیب نے ہی عہد وسطیٰ میں یورپ کو جہالت سے چھٹکارا دلایا اور فکری وعلمی ترقی کے راستے دکھلائے‘‘۔
MehrHoff سائنسداں : ڈوبتے ہوئے یونانی سورج (علم) کی روشنی لے کر اسلامی سائنس کا چاند دمکنے لگا اوریورپ کے عہد وسطیٰ کی تاریک ترین رات کو روشن کردیا۔
Robert Brifalt آج ہم جس علم کو سائنس کا نام دیتے ہیں وہ اصل میں مسلمانوں کے تجربے کا نتیجہ تھے جس سے یورپ متعارف ہوئے موجودہ سائنس دراصل اسلامی تہذیب کی دین ہے۔ :اسلام سے قبل سائنس کا وجود نہ تھا۔:اسلام سے قبل طب جادو زیاد ہ تھی طب کم ۔
George Sarton : انسانیت کے بنیادی کام (علمی ترقی) کو مسلمانوںنے پورا کیا۔ اپنے وقت کا عظیم ترین فلاسفر مسلمان تھا۔ عظیم ترین ریاضی داں مسلمان تھا، عظیم ترین جغرافیہ داں مسلمان تھا اور عظیم ترین تاریخ داں بھی مسلمان ہی تھا۔
Donald Cambel ; اسلامی سائنس کے (عروج) کے دور میں یورپ تاریک دور میں تھا اور کٹر پن، ظلم، گنڈہ، تعویذ، ٹونا ٹوٹکا کی برائیاں عام تھیں۔مسلمانوں نے ہی سائنس کو سیکولر بنایا۔جب بغداد اور قرطبہ کے خلفاء تعلیم کو عام کرنے میں لگے ہوئے تھے اور وہاں بارہ سال کی ہر لڑکی اور لڑکا پڑھنا لکھنا جانتے تھے۔ اس وقت یورپ کے امراء اور رئوساء اوران کی عورتیں بہ مشکل اپنا نام لکھ سکتی تھیں ۔
(George Binder :۔ عہد وسطیٰ میں اسلامی عروج کی بنیاد علم کی بے پناہ پیاس تھی ۔
Edward Brown)) : ’’اسلام کا علم سے رشتہ اتناشدید تھا اور اس علم کی زبان عربی اتنی عام فہم تھی کہ چودھویں صدی میں کوئی علمی کتاب نیا علمی کارنامہ اور اس کی تفصیل یا نیا فلسفہ یا نیاخیال اتنی تیزی سے سمرقند سے غرناطہ (اسپین) تک پہنچ جاتا تھاکہ آج بیسویں صدی (۱۹۰) میں باوجود نقل وحمل کی سہولیات کے ممکن نہیں ہے‘‘۔
De Lisi Oliosi۔ فرانس ۔ یہ کہنا کہ اسلام تلوار سے پھیلاہے یہ ایک ایسا تاریخی جھوٹ ہے جس کو جان بوجھ کر پھیلایا گیاہے اور جس کے ذمہ دار بعض تاریخ داں ہیں ۔

Marks Dufferin۔فرانس۔ یورپ کو تاریک دور سے نکالنے کا اصل ذمہ مسلمانوں پر ہی جاتاہے جن کے علم سے ہی ایسا ممکن ہوسکا
Montglomery۔ انگلینڈ۔ جتنی زیادہ گہرائی سے محمدؐ کی زندگی اور شروع کے اسلام کا مطالعہ کیاجائے اتنا ہی یہ اندازہ ہوتاہے کہ اسلام نے اس دنیا کو کیا دیا ہے کیوں کہ اگر ایسا نہ ہوا ہوتا تو انسانیت کی ترقی کی راہیںنہایت دشوار ہوگئی ہوتیں۔
Mark Hussein Obama – قاہرہ یونیورسٹی، 4 جون، 2009.۔۔تاریخ کے ایک طالب علم کی حیثیت میں اسلام کی تہذیب پر کے احسانات سے واقف ہوں۔ وہ اسلام ہے تھا جس کی صدیوں کی ترقی نے یورپ کی نشاتہ ثانیہ کی راہ ہموار کی۔ مسلمانوں نے الجبرا سے لیکر امراض کے پھیلنے اور اسکے علاج سے ہمیںروشناس کرایا۔اسلامی ثقافت نے الفاظ اور عمل سے . مذہبی رواداری اور نسلی مساوات کے سبق دیئے۔
یہ تمام اقوال واضح کرتے ہیں کہ عالمی سطح پر محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اکو ایک عالمگیر، مکمل اور ہدایت دینے والے نبی کے طور پر تسلیم کیا گیا ہے جن کا پیغام انسانیت کے ہر خطے اور نسل کے لیے ہے۔ ان کے نصب العین، کامیابیاں اور اخلاقی اقدار بین الاقوامی اور بین المذہبی ہم آہنگی کی بنیاد رکھتی ہیں.