امریکہ اور اسرائیل غزہ پر سمجھوتہ کے قریب، حماس کے جواب کا انتظار

تاثیر 29 ستمبر ۲۰۲۵:- ایس -ایم- حسن

واشنگٹن،29ستمبر:امریکی ویب سائٹ ’اکسیس‘ کے مطابق واشنگٹن اور تل ابیب غزہ کی جنگ ختم کرنے کے لیے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی تجویز پر سمجھوتے کے قریب پہنچ چکے ہیں۔اکسیس کے نامہ نگار باراک رافید نے اتوار کی شب ایک اعلیٰ امریکی عہدیدار کے حوالے سے لکھا کہ خصوصی ایلچی اسٹیو وٹیکوف اور جیرڈ کْشنر نے اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو سے ملاقات کے بعد فریقین تقریباً معاہدے پر متفق ہو چکے ہیں۔ تاہم اس منصوبے پر حماس کی منظوری ابھی باقی ہے۔اس سے پہلے ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ وہ پیر کو نیتن یاھو سے ملاقات میں غزہ امن منصوبے کو حتمی شکل دینے کی امید رکھتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں اپنے مجوزہ معاہدے پر ’بہت مثبت ردعمل‘ ملا ہے اور وہ پْرامید ہیں کہ نیتن یاھو بھی اس کی حمایت کریں گے۔ٹرمپ کے بہ قول’ہمیں غیر معمولی طور پر مثبت جواب مل رہا ہے کیونکہ بی بی (بنجامن نیتن یاھو) بھی معاہدہ چاہتے ہیں۔ سب ہی معاہدہ چاہتے ہیں‘۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ معاہدہ نہ صرف غزہ کا تنازع ختم کرے گا بلکہ پورے مشرق وسطیٰ میں وسیع تر امن کی راہ ہموار کرے گا۔ان کا کہنا تھا کہ’سب اس میں شریک ہیں، سب اسے چاہتے ہیں، حتیٰ کہ حماس بھی، کیونکہ سب لوگ جنگ سے تنگ آ چکے ہیں‘۔
دوسری جانب نیتن یاھو نے امریکی چینل ’فوکس نیوز‘کو بتایا کہ ٹرمپ کی تجویز ابھی مکمل نہیں ہوئی اور ان کی حکومت اس پر امریکی صدر کی ٹیم سے مشاورت کر رہی ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق ٹرمپ کے 21 نکاتی منصوبے میں غزہ میں قید 20 اسرائیلی قیدیوں کی فوری رہائی کے بدلے اسرائیل میں زیرِ حراست سیکڑوں فلسطینیوں کی رہائی شامل ہے۔ اس کے علاوہ اسرائیلی فوج کے غزہ سے انخلا کا بھی ذکر ہے۔