انصاف اور قانونی عمل کی فتح

تاثیر 27 ستمبر ۲۰۲۵:- ایس -ایم- حسن

کولکتہ ہائی کورٹ نے حال ہی میں مرکزی حکومت کے اس فیصلے کو کالعدم قرار دیا ہے ،جس کے تحت مغربی بنگال کے بیربھوم ضلع سے تعلق رکھنے والی سونالی بی بی، سویٹی بی بی اور ان کے خاندانوں کے چھ افراد کو غیر قانونی تارکین وطن قرار دے کر بنگلہ دیش ڈی پورٹ کیا گیا تھا۔ ہائی کورٹ کا یہ فیصلہ نہ صرف انصاف کے تقاضوں کو پورا کرتا ہے بلکہ اسے قومی سلامتی اور انسانی حقوق کے درمیان توازن کے حوالے سے  بھی ا ہم مانا جا رہا ہے۔
یہ مقدمہ دو خاندانوں سے متعلق ہے۔ درخواست گزاروں کے مطابق، دو دہائیوں سے زائد عرصے سے وہ دہلی کے روہنی علاقے میں مقیم تھے اور محنت مزدوری کرکے اپنا گزر بسر کر رہے تھے۔ 18 جون کو دہلی پولیس نے انہیں بنگلہ دیشی شہری ہونے کے شبہ میں حراست میں لیا اور 27 جون تک انہیں بنگلہ دیش ڈی پورٹ کر دیا گیا۔ درخواست گزار بھودو شیخ اور عامر خان نے کولکتہ ہائی کورٹ میں عرضی دیکر یہ دعویٰ کیا تھا کہ ان کے خاندانوں کے پاس درست دستاویزات جیسے کہ آدھار کارڈ، پین کارڈ، جائیداد کے مالکانہ حقوق کے کاغذات اور ان کے والدین اور دادا دادی کے ووٹر کارڈ موجود ہیں۔ جسٹس تپ برت چکرورتی اور ریتوبرتو کمار مترا کی بنچ نے 26  ستمبر کو معاملے کی سماعت کرنے کے بعد مذکورہ ڈی پورٹیشن کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے چھ افراد کو چار ہفتوں میں واپس لانے کا حکم دیا اور مرکزی حکومت کی عبوری روک کی درخواست کو مسترد کر دیا۔
ہائی کورٹ یہ فیصلہ قانونی عمل میں سنگین خامیوں کی نشاندہی کرتا ہے۔ درخواست گزاروں کے وکلاء نے عدالت کو بتایا کہ حکام نے خاندانوں کی دستاویزات کی تصدیق کیے بغیر ڈی پورٹیشن کی کارروائی کی، جو کہ قانونی حفاظتی اقدامات کی خلاف ورزی ہے۔ عدالت نے نوٹ کیا کہ مرکزی حکومت کے حلف نامے میں وزارت داخلہ کے ایک ہدایت نامے کا حوالہ دیا گیا ہے، جس میں بنگلہ دیش یا میانمار کے شہریوں کو ڈی پورٹ کرنے سے پہلے مکمل تحقیقات کا حکم دیا گیا ہے۔ تاہم، اس عمل کو نظر انداز کیا گیا، جو کہ دہلی میں واقع فارنر ریجنل رجسٹریشن آفس(ایف آر آر او) کے اختیارات کے غلط استعمال کی طرف اشارہ کرتا ہے۔
معاملے کی سماعت کے دوران مرکزی حکومت نے استدلال کیا کہ کولکتہ ہائی کورٹ کو اس کیس کی سماعت کا اختیار نہیں ہے، کیونکہ حراست میں لینے کی کاروائی دہلی میں ہوئی تھی اور اسی نوعیت کی ایک درخواست دہلی ہائی کورٹ میں دائر کی گئی تھی۔ عدالت نے اس دلیل کو مسترد کرتے ہوئے بنیادی حقوق کے تحفظ کو ترجیح دی۔ظاہر ہے عدالت کا یہ رویہ عدلیہ کے کردار کی مضبوطی کا اظہار ہے۔ یہ فیصلہ تکنیکی رکاوٹوں سے بالاتر ہو کر انصاف کے تقاضوں کو پورا کرنے کی عدلیہ کی وابستگی کو ظاہر کرتا ہے۔ساتھ ہی یہ کیس ڈی پورٹیشن کے انسانی پہلوؤں کو بھی اجاگر کرتا ہے۔ سونالی بی بی، جو نو ماہ کی حاملہ ہیں، اور ان کےنو مولودبچے کی شہریت کے بارے میں خدشات اس فیصلے کی فوری ضرورت کو واضح کرتے ہیں۔ وہ خاندان جو دہائیوں سے بھارتی معاشرے میں رچ بس گئے ہیں، انہیں بغیر کسی مناسب عمل کے اکھاڑ پھینکنا نہ صرف قانونی بلکہ جذباتی اور سماجی طور پر بھی تباہ کن ہے۔ یہ صورتحال ’’غیر قانونی تارکین وطن‘‘ کی شناخت کے معیار اور شہریت کے دعوؤں کی تصدیق کے طریقہ کار پر سوالات اٹھاتی ہے۔
تاہم، غیر قانونی ہجرت اور قومی سلامتی کے حوالے سے مرکزی حکومت کے خدشات کو یکسر نظر انداز بھی نہیں کیا جا سکتا۔ غیر مجاز ہجرت سے سرحدی کنٹرول اور وسائل کی تقسیم سے متعلق کئی طرح کے سوالات پیدا ہوتے ہیں۔چنانچہ ان پالیسیوں کو شفاف اور منصفانہ طریقے سے نافذ کرنا ضروری ہے تاکہ افراد کو بغیر ثبوت یا قانونی چارہ جوئی کے ان کے حقوق سے محروم نہ کیا جائے۔اس اعتبار سے ماہرین کولکتہ ہائی کورٹ کے فیصلے کو حق بجانب قرار دیتے ہوئے اسے نیچرل جسٹس کے تقاضے کے عین مطابق بتا رہے ہیں۔اکثریت کی رائے ہے کہ یہ فیصلہ قانونی عمل کی فتح اور ڈی پورٹیشن کے طریقہ کار پر نظر ثانی کا مطالبہ کرتا ہے۔ یہ قومی مفادات اور انفرادی حقوق کے درمیان توازن کی ضرورت پر زور دیتا ہے۔ لہذا، حکومت کو اب عدالت کے حکم کی تعمیل کو یقینی بنانا چاہیے ساتھ ہی اس طرح کی ناانصافیوں سے بچنے کے لئے ہجرت سے متعلق نظام میں موجود خامیوں کو جلد سے جلد دور کرنا چاہئے۔
*************