بانی درسگاہ سر سید کی ولادت کی تقریبات دانش، اخوت اور روایت کی محفلوں کے ساتھ اختتام پزیر

تاثیر 25 اکتوبر ۲۰۲۵:- ایس -ایم- حسن

علی گڑھ، 25 اکتوبر: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے ہاسٹلوں اور اسکولوں میں ایک بار پھر سر سید ڈے 2025 کے موقع پر اس روایت کا اعادہ کیا گیا جو درسگاہ کے قیام سے آج تک علم، وقار اور اخلاص کا استعارہ بنی ہوئی ہے۔ پورے کیمپس میں تقریروں، مشاعروں اور خوش گپیوں کی آوازیں گونجتی رہیں اور سرخ اینٹوں کی عمارتوں پر جگمگاتی روشنیوں نے اس فکری حرارت اور اخلاقی وقار کی جھلک پیش کی، جسے سر سید احمد خاں جدید مسلم تعلیم کی بنیاد کے طور پر دیکھتے تھے۔ علی گڑھ میں سر سید ڈے محض ایک سالانہ تقریب نہیں بلکہ علم، ادب اور محبت کے اْن اقدار کی تجدید ہے جو مکالمے، برادری اور اجتماعی یاد کے ذریعے منائی جاتی ہے۔ ہر ہال اور اسکول میں ممتاز مہمانانِ گرامی نے شرکت کی اور طلبہ و طالبات کو قیادت، سماجی ترقی اور قومی تعمیر پر فکر انگیز خیالات سے روشناس کرایا۔
بیگم عزیز النسا ہال میں پرو وائس چانسلر پروفیسر ایم محسن خاں نے کہا کہ سر سید کی تعلیمی تحریک کا مقصد صرف علم دینا نہیں بلکہ اخلاقی تربیت اور شہری ذمہ داری کا شعور بیدار کرنا بھی تھا۔ انہوں نے طلبہ سے کہا کہ وہ تعلیم اور ہمدردی کے ذریعے اصلاح کے سفیر بنیں۔ احمدی اسکول فار دی وڑوئلی چیلنجڈ میں مہمانِ خصوصی ایڈیشنل ڈسٹرکٹ جج آگرہ محترمہ آصفہ رانا نے شمولیتی تعلیم کی قوتِ تبدیلی پر روشنی ڈالی۔ علامہ اقبال بورڈنگ ہاؤس میں مسٹر سنجے کمار ساگر، ایڈیشنل ایس پی (نارکوٹکس)، لکھنؤ نے نوجوانوں کو اخلاقی قدروں کے تحفظ کی ذمہ داری یاد دلائی۔ عبداللہ ہال میں سابق وائس چانسلر پروفیسر محمد گلریز نے سر سید کی خواتین کی تعلیم و ترقی کے لیے جدوجہد کو خراجِ عقیدت پیش کیا، جبکہ بیگم سلطان جہاں ہال میں ڈاکٹر فائزہ عباسی نے خود انحصاری اور قومی تعمیر کے لیے ہنر پر مبنی تعلیم کو کلیدی قرار دیا۔