ڈاکٹر قاسم خورشید کی وفات پر اردو کونسل ہند روہتاس کی جانب سے ہوئی تعزیتی نشست

تاثیر 3 اکتوبر ۲۰۲۵:- ایس -ایم- حسن

           سہسرام ( انجم  ایڈوکیٹ ) اردو کونسل ہند ضلع شاخ روہتاس کی جانب سے جناب ڈاکٹر سید معراج الاسلام کی رہائش گاہ پر اردو کے مشہور و معروف شاعر اور ادیب ڈاکٹر خورشید قاسم کے اچانک سانحہ ارتحال پر ایک تعزیتی نشست منعقد کی گئی جسمیں کونسل کے عہدیداران، ممبران و دیگر لوگوں نے انہیں خراج عقیدت پیش کیا جسمیں خصوصاً ڈاکٹر سید معراج الاسلام، توحید اعظم ایڈوکیٹ، اختر امام انجم ایڈوکیٹ، سراج علی انصاری، سنتوش کمار ایڈوکیٹ، شکیل اختر، حسن امام، فرحان احمد، ارتقی حسین، شاہد اسلام وغیرہم تو شریک تھے ہی، نشست کے صدارت کی ذمہ داری بھی اردو کونسل ہند روہتاس شاخ کے صدر جناب ڈاکٹر سید معراج الاسلام صاحب کے ہی سپرد کی گئی تھی ۔ خراج عقیدت پیش کرنے والوں میں مندرجہ ذیل اشخاص کے نام اسطرح ہیں جنھوں نے عقیدت کا خراج پیش کیا جیسے توحید اعظم ایڈووکیٹ نے کہا کہ اردو ادب کا ایک درخشندہ ستارہ ھم لوگوں کے درمیان نہیں رھا انھوں نے اردو زبان و ادب کی بیش بہا خدمات انجام دیا ان کے اچانک چلے جانے سے اردو ادب کو خاصہ نقصان پہنچا ہے اللہ تعالٰی ان کی مغفرت فرمائے ۔ اختر امام انجم ایڈوکیٹ بیورو چیف روزنامہ تاثیر اردو نے خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ اردو ادب کے عظیم ترین ادیب اور شاعر ڈاکٹر خورشید صاحب کے انتقال نے اردو ادب کو صدمہ میں ڈال دیا ہے  اور کہا کہ میرے ابائی وطن کاکو سے انکا تعلق تھا اسلئے مراسم تو اچھے تھے ہی لہذا انکی وفات سے ہوئے نقصانات کی تلافی ممکن ہی نہیں، وہ ایک نیک اور خوش گفتار انسان تھے، وہ سبھی سے خندہ پیشانی سے ملا کرتے تھے، انہیں اردو اور ہندی دونوں زبانوں پر عبور حاصل تھا وہ دونوں زبانوں میں کہانیاں لکھا کرتے تھے انکی ۲۲ کتابیں مختلف اصناف میں شائع ہو چکی ہیں، انھوں نے دستاویزی فلمیں اور ٹیلی فلمیں بھی تخلیق کی ہیں بس اللہ انکی مغفرت فرمائیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا کریں آمین ثم آمین۔ جناب سراج علی انصاری روہتاس ضلع نمائندہ روزنامہ پندار اردو نے بہت افسوس کے ساتھ خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کے اچانک انتقال ہو جانے سے اردو ادب کا بڑا خسارہ ہوا ہے، سہسرام کے کہنہ مشق شاعر مرحوم ظفر رضوی کاکوی کا آبائی وطن جہان آباد ضلع کا کاکو انکا بھی آبائی وطن تھا لیکن پٹنہ کو مستقل رہائش گاہ بنائی تھی، انکے کئی شعری مجموعے شائع ہو چکے ہیں اردو میں ” دل کی کتاب ” آور ھندی میں ” دل تو ھے بنجارہ ” کے ساتھ دیگر کئی منظر عام پر آ چکی ہے، انکا افسانوی مجموعہ ” تھکے ھوئے لوگ ” و دیگر غیر مطبوعہ بھی ہے اور کئی عنقریب شائع ہونے والے بھی تھے انہوں نے انکا ہی ایک شعر سنایا جو لوگوں کو کافی پسند آیا “مجھے پھولوں سے بادل سے ہوا سے چوٹ لگتی ھے ۔ عجب عالم ھے اس دل کا وفا سے چوٹ لگتی ہے”, خداوند قدوس انکی مغفرت فرمائے اور انکے پسماندگان کو صبر جمیل عطا فرمائے آمین ۔ سماجی رہنما جناب ڈاکٹر جاوید اختر نے خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایک ادیب اور شاعر کے ساتھ ایک اچھے فنکار اور ملنسار انسان تھے، انکی رحلت سے اردو ادب کو کافی نقصان پہنچا ہے اللہ تعالٰی انکی مغفرت فرمائے۔ ہائی اسکول معلم عقیل الزماں نے خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ وہ باغ و بہار شخصیت کے مالک تھے ان کا اردو شعری مجموعہ “دل کی کتاب ” آور ھندی مجموعہ ” دل تو ھے بنجارہ ” شائع ہوکر شہرت دوام حاصل کر چکا ہے اور آگے کہا کہ انکا فی الحال کوئی متبادل نظر نہیں آ رہا ہے، پھر انھوں نے کہا کہ وہ شاعر ادیب اور محقق کے ساتھ ساتھ ایک سلھے ہوئے فنکار انسان تھے اللہ ان کی مغفرت فرمائے اور ان کے خاندان کے افراد کو صبر جمیل عطا فرمائے آمین ۔ اخیر میں ڈاکٹر سید معراج الاسلام نے خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ جناب قاسم خورشید کے اچانک ہملوگوں کے نزدیک سے رخصت ہو جانے سے اردو ادب خاص کر بہار صدمہ میں ہو گیا ہے جسکی تلافی ممکن ہی نہیں ۔ اخیر میں اظہار تشکر پیش کرتے ہوئے انکے اس شعر کے ساتھ نشست کا اختتام کا اعلان کیا ۔ “تماشائے ساحل سے ہے بے خبر وہ ۔ ابھی تک کنارے پہ آیا نہیں ہے”۔