ارریہ میں قومی یومِ پریس پر شاندار سیمینار کا انعقاد۔

تاثیر 16 نومبر ۲۰۲۵:- ایس -ایم- حسن

ارریہ: ( مشتاق احمد صدیقی  ) ہر سال کی طرح امسال بھی کل 16 نومبر کو پریس کلب بھون ارریہ میں”قومی یومِ صحافت” بڑے جوش و خروش کے ساتھ منایا گیا اور اس موقع پر ارریہ کے پریس کلب بھون میں پریس سنگھ کےصدر راکیش کمار عرف منٹو بھگت کی صدارت اور جیوتیش جھا کی نظامت میں ایک پر وقار سیمینار کا انعقاد ہوا اور اس سیمینار کا باضابطہ آغاز ڈی پی آر او، اور پریس کے عہدیداران نے شمع روشن کرکے کیا، جس میں ضلع سمیت  تمام نو بلاکوں کے سینئر اور نوجوان صحافیوں نے شرکت کیں جبکہ مہمان خصوصی کی حیثیت سے نئے DORO شری چندر شیکھر جی سیمینار کے آغاز سے لےکر اختتام تک موجود رہے، سب سے پہلے پریس سنگھ کی جانب سے مہمان خصوصی کی شال پوسی کر انہیں اعزاز بخشا گیا پھر کچھ سینیئر صحافیوں کی بھی شال پوشی کی گئی۔اس پروگرام کا مقصد آزاد صحافت کے اصولوں کو مضبوط کرنا اور جمہوریت کے چوتھے ستون کے طور پر صحافیوں کی بے لوث خدمات کو خراج تحسین پیش کرنا تھا۔ اس موقع پر وشنو بیدی جھا نے کہا ہر نمائندہ چاہتا ہے کہ ہماری خبر مضبوط ہو ہماری خبر میں کوئی کمی باقی نہ رہے آپ نے آگے کہا آج ہم لوگ بندھواں مزدور کی طرح کام کرتے ہیں پہلے ضلع مجسٹریٹ اور ضلع پولیس کپتان تمام اخبارات کے نمائندوں سے مسائل پر گفتگو کرنے کے لیے ملاقاتیں کرتے تھے، مگر اب نہیں ہوتا ہے، ہندوستان کے پھولیندر ملک نے کہا سبقت لے جانے میں غلط خبریں شائع ہو جاتی ہیں ہر بڑی میں گر بڑی نہ کریں! جبکہ سینیئر صحافی ایل پی نائک نے کہا ضلع انتظامیہ بھی ہم لوگوں کے ساتھ بھی کچھ گزاریں! ضلع انتظامیہ کو رابطہ رکھنا چاہیے مگر ایسا نہیں ہو رہا ہے آپ مے مزید کہا کہ  ماہانہ پریس کانفرنس کریں! ساری معلومات پہلے پریس کو دی جاتی تھی اب اس کا فقدان ہے، جیسے کہ کالا بلوا میں 2020 میں پل کی نہ ہونے کے  سبب ووٹ سے بائیکاٹ کیا گیا تھا پانچ سال گزر گئے پانچ سال میں بھی پل نہیں بنا پھر دو ہزار 25 میں بہار اسمبلی کا چناؤ ہوا وہاں کے ووٹروں نے اس مرتبہ بھی ووٹ میں حصہ نہیں لیا، جہاں ایک طرف ضلع انتظامیہ کی چاہت ہوتی ہے کہ چناؤ کے مہا پرو میں ایکایک صحیح ووٹرز کو اپنے حق کا استعمال کرنا چاہیئے، یہاں تو پورا گاؤں ہی ووٹ میں حصہ نہیں لیا، اس سے سے نہ ضلع انتظامیہ کو فرق پڑا اور نہ کسی اور کو۔ آپ نے کہا صحافت ایک چیلنج ہے، اس چیلنج کو قبول کرتے ہوئے اس کے مطابق کام کریں! اور سنگھ کے سکریٹری امت کمار امن نے کہا ڈیڑھ سال سے ماہانہ پریس بند ہے اس بات کو ڈی ایم  تک پہنچایا جائے جیسے پل ٹوٹنے کی بات کی جانچ ہونی چاہیے کیا جانچ ہوئی اس کا کسی کو پتہ تک  نہیں ہے، ضلع مجسٹریٹ کی صدارت میں ہم لوگوں کے ساتھ ایک پروگرام ہونا چاہیے جبکہ سنت جی نے کہا چھوٹی چھوٹی جگہوں پر بھی آپ لوگوں کو توجہ دینے کی ضرورت ہے۔  محمد پرویز علیگ سینیئر صحافی نے کہا غلط خبر کہاں سے آ رہی ہے جو خبر آتی ائی ہے سب سے پہلے اس کی صداقت کی جانچ ہو! مگر افسوس صداقت کے دروازے بند ہیں جبکہ اسے کھلا رکھنے کی ضرورت ہے۔ علاقائی اعتبار سے انتظامیہ کو پریس سے تال میل رکھنا چاہیے اور پریس ریلیز سے متعلق ہمیں سوال کرنے کی اجازت ہو! جواب کے راستے بھی کھلے ہونے چاہیے اور امریندر جی نے کہا پریس کی آتما میں لوگ تنتر پھنسی ہوئی ہے۔ پریس کی نظر میں پہلے پبلک ہوتی تھی اب ہماری کمپنی ہے۔ زینت پرکاش جی نے کہا ہم ویسے ہی خبر لکھتے ہیں جس سے بھرم نہیں پھیلتا ہے صداقت کو ہم لوگ شائع کرتے ہیں، پربھات خبر کے چیف بیورو مر گیندرجی نے کہا جو خصوصیات ہمارے اندر تھی سب ختم ہو گئیں، اسی صداقت کے فقدان کے ساتھ سبب ضلع انتظامیہ ارریہ کے پتر کار کو کچھ نہیں سمجھتے ہیں ضلع انتظامیہ کی نظر میں آج پترکار کی کوئی وقت نہیں ہے آج پریس ڈے ہے اس موقع پر ضلع پرسا شن کے ہیڈ کو ہمارے اس سیمینار میں حصہ لینا چاہیے تھا مگر وہ نہیں آئےکیونکہ ان کے پاس وقت نہیں ہے اس تناظر میں ہمارا کہنا درست ہوگا کہ ہم ان کے لیے کیوں وقت نکالیں!  آخر میں ڈی پی آر او چندر شیکھر نے سب سے پہلے یوم صحافت پر سب نمائندگان اور صحافیوں کو مبارکباد دی اور آپ نے کہا پر یس جو بھی لکھتا ہے وہ تاریخ بن جاتی ہے آپ لوگ کال کر کے مجھ سے بات کر سکتے ہیں۔ آپ نے کہا کہ ہم سب لوگ اپنی اپنی ذمہ داری کو نبھائیں سب ٹھیک ٹھاک ہو جائے گا جمہوریت کی بقاء اور اس کی مضبوطی کے لئے پریس کا غیر جانب دھونا نہایتی ضروری ہے سیمینار کے خاتمے پر صدر سیمینار شری راکیش کمار بھگت نے ضلع سمیت تمام نو بلاکوں سے تشریف فرما صحافیوں کا دل کی گہرائیوں سے شکریہ ادا کیا، انہیں یوم صحافت پر مبارک باد پیش کی اور صحافیوں سے پیشہ ورانہ اصولوں کو قائم رکھنے کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ غلط معلومات کے اس دور میں صحیح خبروں کی تصدیق اور غیر جانبداری کے ساتھ کام کرنا وقت کا اہم تقاضا ہے۔ تقریب کا اختتام اس عزم کے ساتھ ہوا کہ ارریہ کے صحافی سچائی اور انصاف کی راہ میں ہمیشہ آواز بلند کرتے رہیں گے اور ضلع کی ترقی میں اپنا اہم کردار ادا کریں گے۔ اس سیمینار میں پریس سنگ کے عہدے داران سمیت صحافی مشتاق احمد صدیقی منصور احمد حقانی،عبدالغنی لبیب رضیہ احمد فیروز احمد عبدالقیوم اور ڈی پی آر او آفس کے مجیب الرحمن بھوشن کمار ودیگر اسٹاف موجودتھے۔