ایک چراغ، جس کی روشنی ہمیشہ قائم رہیگی

تاثیر 24 نومبر ۲۰۲۵:- ایس -ایم- حسن

بھارتی سینما کی تاریخ میں کچھ فنکار ایسے بھی ہوئے ہیں، جو محض پردے پر زندہ نہیں رہے بلکہ لوگوں کے دلوں اور یادوں میں ہمیشہ کے لئے بس چکے ہیں۔ دھرمیندر کا نام انہی امر ہستیوں میں شامل ہے۔کل ان کے انتقال کی خبر نے پورے برصغیر کو سوگوار کر دیا۔ساتھ ہی یہ احساس پھر سے تازہ کر دیا کہ بعض چہرے محض اداکار نہیں ہوتے، وہ ایک تہذیب، ایک نسل کا جذباتی سرمایہ اور ایک مشترکہ ورثہ ہوتے ہیں۔پنجاب کے چھوٹے سے قصبے نسرالی سے ممبئی کے جگمگاتے فلمی آسمان تک کا سفر کوئی آسان داستان نہیں تھا۔ یہ کہانی ہے خاک سے اُٹھ کر آفتاب بن جانے کی۔ دھرمیندر جب پہلی بار پردۂ سیمیں پر نمودار ہوئے تو ان کا سادگی بھرا چہرہ، بے ساختہ مکالمہ گوئی اور مردانہ وجاہت دیکھ کر فلم بینوں نے فوراً پہچان لیا کہ یہ محض ایک نیا چہرہ نہیں، آنے والا عہد ہے۔ وہ عہد جو اگلے کئی عشروں تک سینما کے پردے پر چھایا رہے گا۔
ساٹھ اور ستر کی دہائیاں دھرمیندر کے کرشماتی فن کا سنہرا زمانہ تھیں۔ ’’شعلے‘‘ کے ویرو سے لے کر ’’چپکے چپکے‘‘ کے پروفیسر تک، ’’سیتا اور گیتا‘‘ کے رومانوی کردار سے ’’حقیقت‘‘ اور ’’دوستی‘‘ جیسے سنجیدہ کرداروں تک، انہوں نے ہر روپ میں خود کو اس مہارت سے ڈھالا کہ کردار حقیقت بن کر ناظرین کے سامنے کھڑے ہوجاتے۔ ان کی سب سے بڑی خوبی یہی تھی کہ وہ اداکاری نہیں کرتے تھے، وہ کردار کو جیتے تھے۔ شاید اسی لئے آج بھی ویرو کا نام آتا ہے تو فلمی تاریخ خود بخود احترام سے سر جھکا لیتی ہے۔دھرم پا جی کا حسنِ ادا صرف ایکشن تک محدود نہیں تھا۔ ’’چپکے چپکے‘‘ میں ان کا مزاحیہ انداز ثابت کرتا ہے کہ وہ ہمہ جہت فنکار تھے۔ رومانس، کامیڈی، ایکشن، ٹریجڈی،ہر شعبے میں انہوں نے اپنا ایک الگ معیار قائم کیا۔ یہی وہ خصوصیت ہے، جس نے انہیں ’ہی مین‘ جیسے خطاب سے آگے بڑھا کر ’دلوں کا ہیرو‘ بنا دیا۔
پردۂ سیمیں کے پیچھے دھرمیندر کی شخصیت اور زیادہ دل آویز تھی۔ وہ شرافت، محبت اور انسان دوستی کا پیکر سمجھے جاتے تھے۔ فلمی دنیا میں شاید ہی کوئی شخص ہو جو ان کی سادگی، خاکساری اور نرم دلی کا معترف نہ ہو۔ بہت سے فنکار آج بھی بیان کرتے ہیں کہ کس طرح دھرمیندر نے خاموشی سے ان کی مدد کی، ان کا ہاتھ تھاما، ان کی مشکلات میں سہارا بنے،اور کبھی اس نیکی کو چرچا بنا کر نہیں پیش کیا۔ شہرت کی چکاچوند کے باوجود ان کے اندر کا دیہاتی معصوم پن ہمیشہ باقی رہا۔ان کی خاندانی زندگی بھی مثالی شفقت سے بھری تھی۔ ہیما مالنی سے ان کی رفاقت فلمی دنیا کی ایک خوبصورت، پاکیزہ داستان بن چکی ہے۔ ان کے بیٹے سنی دیول اور بابی دیول آج بھی اپنے والد کے ورثے کو وقار کے ساتھ آگے بڑھا رہے ہیں۔چند دنوں کی سیاسی زندگی میں بھی دھرمیندر کا چہرہ صاف گو، نرم مزاج اور عوام دوست رہا۔
دھرمیندر کے انتقال پر ملک کے ہر گوشے سے تعزیتی پیغامات کا طوفان اُمڈ آیا۔ وزیرِ اعظم نریندر مودی نے انہیں ’’ایک عہد کا خاتمہ‘‘ قرار دیا۔ صدرِ جمہوریہ، وزیرِ داخلہ، کانگریس قیادت اور سینکڑوں فنکاروں نے انہیں خراجِ عقیدت پیش کیا۔ شرد پوار نے بجا طور پر کہا  ہے:’’ نوجوان نسل شاید اس بات سے بے خبر ہو مگر ایک زمانہ ایسا تھا ،جب بال کٹوانے سے لے کر کپڑوں کے انتخاب تک نوجوان دھرمیندر کی نقل کیا کرتے تھے۔‘‘یہ تعزیتیں دراصل اس حقیقت کی گواہی ہیں کہ دھرمیندر نے سرحدوں، زبانوں اور سیاسی خیموں سے اوپر اُٹھ کر دلوں پر حکومت کی۔ وہ ایک مشترکہ جذباتی ورثہ تھے،وہ پورے برصغیر کا اثاثہ تھے۔آج جب ہم ان کی پرانی فلمیں دیکھتے ہیں تو احساس ہوتا ہے کہ دھرمیندر محض ایک اداکار نہیں تھے بلکہ ایک احساس تھے، ایک لہجہ، ایک مسکراہٹ، ایک معصوم پُراثر نظر،جو انسان کی رگوں تک سرایت کر جاتی ہے۔ ان کے جانے سے وہ نسل بھی دوبارہ یاد آگئی، جس نے سینما کو محبت، احترام اور شائستگی سے دیکھا تھا۔
یہ حقیقت اپنی جگہ مسلم ہے کہ ایسے فنکار دوبارہ جنم نہیں لیتے۔ دھرمیندر نےبھارتی سینما کو صرف کردار نہیں دیے بلکہ جذبات دیے؛ محبت کی پرچھائیاں دیں، دوستی کی خوشبو اور اداکاری کی وہ شفافیت عطا کی، جو اب بہت کم دکھائی دیتی ہے۔گرچہ دھرمیندررخصت ہوگئے، لیکن وہ اپنے تمام چاہنے والوں کے دلوں میں زندہ رہیں گے،اپنی مسکراہٹ میں، اپنے لہجے میں، اپنے کرداروں میں اور اپنی شرافت میں۔ کچھ چراغ ایسے بھی ہوتے ہیں جو کبھی بجھتے نہیں ، بس اپنی روشنی اگلی نسلوں کو سونپ دیتے ہیں۔ دھرمیندر بھی ایسا ہی چراغ تھے۔ ان کی یادیں ہمیشہ ہمارے دل و دماغ میں روشن رہیں گی۔
****************