ایک قومی عہد: حکومت اور پورے معاشرے کے ساتھ مل کر بال وِواہ مکت بھارت کی جانب پیش رفت

 

مصنف: اَنّ پورنا دیوی

ایک ایسے ملک میں ، جہاں خواتین اور بچے ایک ارب سے زائد آبادی کا حصہ ہیں، ان کا بااختیار ہونا صرف ایک پالیسی کا انتخاب نہیں بلکہ بھارت کے مستقبل کی راہ ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی کی  بصیرت افروز قیادت میں، بھارت ایک تاریخی تبدیلی کے تجربے سے ہم آشنا  ہے  ، جو عالمی امنگوں کو انسانوں پر مرکوز  ترقی سے مربوط کرتا ہے۔ نئے بھارت کی کہانی نہ صرف اقتصادی سنگ میل اور عالمی سطح پر موجودگی کے ذریعے تشکیل دی جا رہی ہے، بلکہ ان کلاس رومز میں بھی   اس کا سلسلہ جاری ہے ، جہاں نوجوان ذہن نشو و نما پا رہے ہیں، ان آنگن واڑی مراکز میں  ، جہاں ہمارے بچے پرورش پا رہے ہیں اور ان گھروں میں  ، جہاں خواب اور امنگیں پروان چڑھ رہے ہیں۔

وزیر اعظم کا ’ بیٹی بچاؤ، بیٹی پڑھاؤ ‘ کے لیے غیر متزلزل عزم  ، خواتین و بچوں کی ترقی کے وزارت کے لیے رہنما قوت بن گیا ہے، جو ہمارے اجتماعی مشن کو ’’ مستقبل کا بھارت @ 2047 ‘‘  کو تقویت بخشتا ہے۔ اس سفر کا ایک اہم قدم گزشتہ سال 27 نومبر کو نئی دلّی کے وِگیان بھون میں ’ بال وِواہ  مُکت بھارت ‘  مہم کا آغاز تھا۔

اپنے جرت مندانہ  اور  پختہ نظریے کے ساتھ، ہم نے  2030  ء تک  چھوٹی عمر میں شادی کے  سلسلے کو ختم کرنے  کے لیے قومی  عہد کا اعادہ کیا تاکہ ہر لڑکی اور لڑکا محفوظ ماحول میں  نشو و نما پائے ، تعلیم حاصل کرے اور فخر و اعتماد کے ساتھ اپنا مستقبل تشکیل دے سکے۔ ابتدا ہی سے، ہم نے  ’ پورے حکومت اور پورے معاشرے ‘ کے نقطہ نظر کو اپنایا، یہ سمجھتے ہوئے کہ یہ چیلنج صرف پالیسی کے ذریعے حل نہیں ہو سکتا ،  اس کے لیے اجتماعی قوت درکار ہے  –  کنبے ، کمیونٹیز،  پیش پیش رہنے والے کارکن، ادارے اور حکومت سب مل کر صدیوں پرانی روایت کو   ختم کریں اور ہر بچے کی امنگوں کا تحفظ کریں۔ ہمارے مشترکہ عزم کی ایک طاقتور عکاسی کے طور پر، کروڑوں لوگ  گاؤوں اور شہروں میں آگے آئے اور  چھوٹی عمر میں شادی کے خاتمے کے لیے عہد کیا۔

  بال وِواہ  مُکت بھارت کے لیے ’حکومت‘ کی مشترکہ کوشش

چھوٹی عمر میں شادی ہمارے ملک کے لیے ایک سب سے  پرانے چیلنجوں  میں سے ایک ہے، جو نسل در نسل وراثت میں چلا آ رہا  ہے۔ یہ اکثر ان برادریوں میں رائج ہے  ، جہاں تعلیم، وسائل اور آگاہی تک رسائی  محدود ہوتی ہے۔ یہ خلا  ، جو  قلت اور غیر مساوی مواقع کی وجہ سے پیدا ہوا ، اس روایت کو  برقرار رکھنے کا سبب بنا  اور بے شمار بچے  ،  وہ مستقبل حاصل  نہ کر پائے  ، جو ان کا حق تھا۔

آج یہ حقیقت فیصلہ کن طور پر بہتری  کی جانب گامزن  ہے۔ مودی حکومت کے تحت، ہم ان بنیادی وجوہات کا سدِباب کر رہے ہیں  ، جنہوں نے کبھی اس روایت کو پروان چڑھایا۔ واضح پالیسی  احکامات ، مؤثر اسکیمیں اور کمیونٹیز کا حکومت پر  پھر سے اعتماد، خواتین و بچوں کی ترقی کے وزارت کو سب سے آگے رکھتے ہیں تاکہ وہ ان حالات کو ختم کر سکے  ، جنہوں نے چھوٹی عمر میں شادی کے سلسلے کو  برقرار رکھا ۔ جو ترقی ہم دیکھ رہے ہیں  ، وہ سوچ سمجھ کر اور عزم کے ساتھ ہو رہی ہے، حکمرانی  کے ایک ایسے ماڈل کے تحت  ، جو خواتین اور بچوں کو قومی ترقی کے  سلسلے میں مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔

ہمارے  تمام  اقدامات اس بات پر مرکوز ہیں کہ  اس  مسئلے کی بنیادی  وجوہات کا ازالہ کیا جائے ۔ ہم پر عزم ہیں کہ ہر حق اور سہولت ہر بچے تک پہنچے—چاہے وہ ملک کے سب سے دور  دراز گاؤں یا چھوٹے قصبے میں  کیوں نہ ہو۔ ہر  اقدام  ، اس انداز میں ترتیب دیا گیا  ہے کہ خواتین اور بچوں کو ہر خطرے کے مرحلے پر  مدد ملے تاکہ نابالغ بچے سے لے کر نوجوان لڑکی تک، زندگی کے ہر مرحلے  میں تحفظ فراہم ہو سکے ، ترجیح دی  جا سکے  اور بااختیار بنایا جا سکے۔

 پوشن ٹریکر اور پوشن بھی پڑھائی بھی سے لے کر سَمَگر تعلیم ابھِیان تک اور نیشنل مینز-کم-میرٹ اسکالرشپ پروگرام سے لے کر پی ایم وِدیا لکشمی اسکیم تک، ہر پہل ہر بچے کے لیے محفوظ، باوقار اور مساوی مستقبل کی راہ ہموار کرنے اور حفاظتی ڈھال کا کام کر رہی ہے۔

ٹیکنالوجی کو  سب کی شمولیت کے لیے ایک محرک کے طور پر استعمال کرتے ہوئے، پوشن ٹریکر  — وزارت کا فلیگ شپ ڈیجیٹل پلیٹ فارم — 14 لاکھ آنگن واڑی مراکز کو دودھ پلانے والی ماؤں، چھ سال سے کم عمر  کے بچوں اور نوجوان لڑکیوں کے ساتھ مربوط کرتا ہے۔ اس نے پہلے ہی ملک بھر میں 10.14 کروڑ سے زائد مستفیدین کے لیے مضبوط حفاظتی  نیٹ ورک قائم کر دیا ہے۔ اس ڈیجیٹل سہولت کے ساتھ، پوشن بھی پڑھائی بھی ابتدائی بچپن  کے سلسلے میں ایک انقلابی اور تعلیم  سے متعلق پہل ہے، جو ہر پری-پرائمری بچے کو جامع، اعلیٰ معیار کی ابتدائی تربیت فراہم کرتی ہے اور زندگی بھر کے سیکھنے کی بنیاد قائم کرتی ہے۔

ہماری پالیسیاں صرف نیت نہیں بلکہ عمل کی عکاس ہیں۔ حقیقی،  بجٹ سے متعلق مستقل عزائم  اور  مقررہ شدہ سرمایہ کاریوں پر اصلاحات کو بنیاد بنا کر، مودی حکومت نے واضح کر دیا ہے  کہ چھوٹی عمر میں شادی جیسے خطرات سے   بچوں کی حفاظت   کرنا قومی ترجیح ہے۔ نیشنل مینز-کم-میرٹ اسکالرشپ پروگرام، جس کے لیے صرف  26-2025 ء   کے لیے   1827 کروڑ  روپے مختص کیے گئے ہیں  ،   اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ کوئی بچہ غربت کی وجہ سے اسکول  نہ چھوڑے، جو بچوں کی شادی کے سب سے مستقل محرکات میں سے ایک ہے۔ اس کے ساتھ، پی ایم وِدیا لکشمی اسکیم نوجوان خواتین کو اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے میں اہم مالی معاونت فراہم کرتی ہے۔

پردھان منتری کوشل وِکاس یوجنا نے ، نوجوانوں کو صنعت سے متعلقہ مہارتیں فراہم کر کے اور انہیں مالی مراعات اور تسلیم شدہ سرکاری سرٹیفیکیشن فراہم کرکے  ، حفاظت کے اس   نیٹ ورک کو مزید مضبوط بنایا ہے ۔ اسی طرح، پی ایم دَکش اسکیم محروم  طبقات ، خاص طور پر  ایس سی، او بی سی اور ای ڈبلیو ایس نوجوانوں کو بااختیار بناتی ہے، جنہیں  چھوٹی عمر میں شادی کے سب سے زیادہ  خطرے کا سامنا رہتا ہے ۔ انہیں مہارتیں اور مواقع فراہم کر کے، ہم باوقار اور خودمختار زندگی کے راستے  فراہم کر رہے ہیں اور آنے والی نسلوں کے لیے ایک نئی مثال قائم کر رہے ہیں۔

نمایاں اثرات : بال وِواہ  مُکت بھارت کے  ہدف  کے قریب

چند سال پہلے  چھوٹی عمر میں شادی کے خاتمے کا تصور  دشوار اور شاید غیر حقیقی لگتا تھا  لیکن بھارت نے اس تاثر کو غلط ثابت کر دیا ہے۔ واضح پالیسیوں، مستقل اقدامات، مقامی سطح پر مرکوز کوششوں اور  اہداف پر مبنی ترقی کے ذریعے، ہم نے اس  سوچ  کو چیلنج کیا اور دکھا دیا کہ تبدیلی نہ صرف ممکن ہے بلکہ اس کا سلسلہ جاری ہے۔

یہ بے مثال تبدیلی ہزاروں چھوٹی بڑی پرعزم کوششوں کا نتیجہ ہے۔ ہمارے چائلڈ میرج پروہیبیشن آفیسرز ( سی ایم پی اوز ) ،  اس مشن کی اہم بنیاد کے طور پر ابھرے ہیں۔ صرف پچھلے سال میں، ہم نے  پورے ملک میں 37000 سے زائد  سی ایم پی اوز  کی تعیناتی کر کے فرنٹ لائن کو مضبوط بنایا۔ آنگن واڑی کارکنوں کو تیار کر کے، پنچایتوں کو بااختیار بنا کر اور ضلع انتظامیہ کو بچوں کے تحفظ کے قوانین سے مضبوط کر کے، ہم یہ یقینی بنا رہے ہیں کہ سب سے پسماندہ  کنبہ بھی حکومت کی اسکیموں سے  منسلک ہو ، بچے دوبارہ اسکول جائیں اور کمیونٹیز کو  چھوٹی عمر میں شادی کی سنگین خلاف ورزی  کے تئیں بیدار کیا جائے۔

اب تک، ہم نے 630000 سے زائد اسکول نہ جانے والی  لڑکیوں کی شناخت کی اور دوبارہ کلاس رومز میں  ان کا داخلہ کرایا ہے۔

خاموشی  اختیار کرنے سے رپورٹنگ تک، بدنامی سے  مدد فراہم کرنے تک—بھارت تبدیلی کا انتخاب کر رہا ہے۔ آج، ہم جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے  ، اس مسئلے کو زیادہ درستگی، شفافیت اور  موثر طریقے سے حل کر رہے ہیں۔ بال وِواہ  مُکت بھارت پورٹل اس ترقی کی عکاسی کرتا ہے—یہ ایک عوامی رسائی والا، مرکزی پلیٹ فارم ہے  ، جو  پورے ملک کے چائلڈ میرج پروہیبیشن آفیسرز کی معلومات فراہم کرتا ہے، کیسز کی رپورٹنگ کا مؤثر طریقہ فراہم کرتا ہے اور  متعلقہ لوگوں اور شہریوں میں  بیداری  فراہم کرتا ہے۔

پہلی بار،  چھوٹی عمر میں شادی سے مبرا   بھارت کا خواب ایک  جامع قومی مشن میں  تبدیل ہو گیا ہے۔ بھارت کی ہر سرکاری شاخ اور معاشرے کا ہر طبقہ مشترکہ مقصد اور عزم کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے۔ وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی بصیرت افروز قیادت میں، ہم نہ صرف آج اپنے بچوں کی حفاظت کر رہے ہیں بلکہ وِکسِت بھارت کی مضبوط، پر اعتماد اور بااختیار بنیادیں قائم کر رہے ہیں۔

جیسے جیسے بھارت چھوٹی عمر میں شادی کے خلاف اجتماعی جدوجہد میں فیصلہ کن موڑ کی جانب بڑھ رہا ہے، ہم دنیا کو ایک نیا ماڈل پیش کر رہے ہیں کہ حکمرانی اور کمیونٹی کس طرح مل کر ہر بچے کی حفاظت کر سکتی ہے اور چھوٹی عمر میں شادی کے عالمی خطرے کو جلد اور یقینی طور پر ختم کر سکتی ہے۔ آخرکار، یہ بچے ہی وِکسِت بھارت کے حقیقی ’ سارَتھی ‘   اور مشعل بردار ہیں  ، جسے ہم سب  مل کر تعمیر کرنے کی خواہش رکھتے ہیں۔

( مصنف : اَنّ پورنا دیوی، خواتین و بچوں کی ترقی کی وزارت  ، حکومتِ ہند  میں مرکزی وزیر ہیں  ۔ )