تاثیر 19 نومبر ۲۰۲۵:- ایس -ایم- حسن
آج20 نومبر ہے۔ گاندھی میدان میں منعقد ایک شاندار تقریب میں نتیش کمار آج دسویں بار وزیر اعلیٰ کا حلف اٹھائیں گے۔ اس کے لئے گاندھی میدان سج دھج کر تیار ہے۔ یہ تقریب حلف برداری صرف ایک سرکاری رسم نہیں بلکہ بہار کی سیاست میں ایک نئے باب کی علامت ہے۔یہ وہی باب ہے، جس سے عوام نے ایک بار پھر استحکام، تجربہ اور مسلسل ترقی کی امیدیں وابستہ کی ہیں۔ نتیش کمار کی سیاست ہمیشہ اعتدال، دور اندیشی اور سیکولر انتظامی روایت جڑی رہی ہے اور یہی خصوصیات انہیں مسلسل عوامی اعتماد دلاتی رہی ہیں۔ اگر این ڈی اے اسی ہم آہنگی کو برقرار رکھتا ہے تو آنے والے پانچ سال واقعی بہار کے لئے ترقی اور اعتماد کا نیا دور ثابت ہو سکتے ہیں۔
بہار کے حالیہ انتخابات میں این ڈی اے کو ملی واضح کامیابی کے بعد سے ہی سیاسی سرگرمیوں نے غیر معمولی رفتار پکڑ لی تھی ۔جے ڈی یو اور بی جے پی کی الگ الگ قانون ساز پارٹی میٹنگوں کے بعد کل این ڈی اے کے مشترکہ اجلاس میں نتیش کمار کو اتحاد کا لیڈر منتخب کیا گیا۔اس کے ساتھ ہی ریاست میں نئی حکومت سازی کی راہ پوری طرح ہموار ہو گئی۔ جے ڈی یو میں قیادت کے معاملے پر کبھی کوئی اختلاف نہیں رہا ۔ اسی لئے نتیش کمار کا دوبارہ انتخاب محض ایک رسمی کارروائی کے طور پر سامنے آئی،حالانکہ اس کارروائی نے یہ پیغام ضرور دیا کہ پارٹی متفق اور متحد ہے۔ادھر بی جے پی نے بھی ایک بار پھر اپنے لیجسلیچر لیڈر اور ڈپٹی لیڈر کے طور پر بالترتیب سمراٹ چودھری اور ڈپٹی لیڈر کا انتخاب کرکےیہ واضح کر دیا کہ وہ نئی حکومت میں پوری سیاسی قوت اور ذمہ داری کے ساتھ شریک ہوگی۔اگرچہ اسپیکر کے عہدے پر جے ڈی یو کے وجے چودھری اور بی جے پی کے پریم کمار کے درمیان رسہ کشی کی خبریں ہوا میں ابھی بھی گشت کر رہی ہیں، لیکن ماضی کے تجربات گواہ ہیں کہ این ڈی اے ایسے معاملات کو ہمیشہ باہمی مشاورت کے ذریعے حل کرتا ہے۔ اتحادی ڈھانچہ اسی صورت مضبوط رہتا ہے، جب اعتماد اور گفتگو کا سلسلہ برقرار رہے، اور امکان یہی ہے کہ اس بار بھی فیصلہ رضامندی اور توازن برقرار رکھتے ہوئے کیا جائے گا۔
آج کی حلف برداری تقریب کو قومی سطح کے ’’پاور شو‘‘ کی شکل دی گئی ہے۔ پی ایم نریندر مودی، مرکزی وزرا، دس سے زیادہ ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ، ملک کی ممتاز شخصیات اور کئی اہم طبقات کی نمائندہ ہستیاں اس تقریب میں موجود ہوں گی۔سننے میں آیا ہے کہ آج کی تقریب میں ابتدائی طور پر 22-23 اراکین کو بھی بطور وزراء حلف دلایا جائے گا۔جبکہ 36 وزراء پر مشتمل مکمل کابینہ کی توسیع بعد میں کی جائے گی۔آج کی تقریب میں نائب وزیر اعلیٰ کے طور پر حلف اٹھانے والوں میں بی جے پی لیڈر سمراٹ چودھری اور وجئے سنہا کے نام فائنل ہیں۔پارٹی کے دوسرے لیڈروں میں منگل پانڈے، نتیش مشرا، رینو دیوی،نیرج کمار ببلو، نتن نوین، سنجے سراؤگی، ہری ساہنی اور راجنیش سنگھ کے نام شامل ہیں ۔جبکہ جے ڈی یو کوٹے سے وجئے کمارچودھری، بجیندر یادو، شرون کمار، اشوک چودھری، رتنیش سدا، سنیل کمار، لیشی سنگھ، زماں خان،شیام رجک اور دامودر راوت کے نام چرچا میں ہیں۔دیگر اتحادیوں میں سے راجو تیواری (ایل جے پی) ، سنتوش سمن (ہم) اور اسنیہا لتا کشواہا (آر ایل ایم) حلف لے سکتے ہیں۔کابینہ کی تشکیل کے سلسلے میں وزرا کی فہرست پر کل پورے دن مشاورت جاری رہی۔مشاورت میں غیر معمولی رازداری کا پورا خیال رکھا گیا۔ نئی حکومت ایک ایسی ٹیم کے ساتھ وجود میں آنا چاہتی ہے، ،جو اگلے پانچ برسوں کے دوران اپنی کارکردگی کو اعلیٰ سطح تک لے جا سکے۔
بہار کے عوام کی توقعات کافی بلندی کو پہنچ چکے ہیں۔ ریاست کو روزگار، تعلیم، صحت، بنیادی ڈھانچے، امن و قانون، اور سرمایہ کاری کے شعبوں میں مسلسل اور ٹھوس پیش رفت کی ضرورت ہے۔ این ڈی اے کی قیادت بارہا اس عزم کا اظہار کر چکی ہے کہ ’’گڈ گورننس‘‘ اور ’’سب کا ساتھ، سب کا وکاس‘‘ ان کے حکمرانی کے بنیادی اصول رہیں گے۔ یہ وعدے اگر زمینی نتائج کی شکل اختیار کر لیتے ہیں تو بہار واقعی ترقی کے نئے دور میں داخل ہو سکتا ہے۔چنانچہ آج کی حلف برداری تقریب صرف ایک تقریب نہیں بلکہ عوامی اعتماد، سیاسی استحکام اور ترقی کے سفر کی نئی شروعات ہے۔ اگر نتیش کمار اپنے تجربے، بی جے پی اپنی تنظیمی طاقت، اور این ڈی اے اپنی باہمی ہم آہنگی کو برقرار رکھتے ہیں، تو آنے والے برسوں میں بہار یقیناً ایک بدلا ہوا اور بہتر مستقبل دیکھ سکتا ہے اور امید کی جانی چاہئے کہ اس مسقبل کی صبح آج ہو چکی ہے۔
*********

