بزمِ جامعہ، شعبۂ اردو کے زیر اہتما دو روزہ انٹر فیکلٹی مقابلوں کا انعقاد

تاثیر 20 نومبر ۲۰۲۵:- ایس -ایم- حسن

ارریہ :- ( مشتاق احمد صدیقی ) جامعہ ملیہ اسلامیہ کا تربیتی نظام اس کو دیگر دانش گاہوں سے ممیز کرتا ہے۔ اس معنی میں جامعہ محض ایک تعلیم گاہ نہیں، بلکہ ہمہ جہت شخصیت کے ارتقاء کا ایک تربیتی گہوارہ ہے۔ شعبۂ اردو میں زبان کی مہارتوں پر خصوصی توجہ دی جاتی ہے اور اسی کے پیش نظر بلند خوانی، سمعی و صوتی تربیت، تقریر و تحریر اور تخلیقی استعداد کو فروغ دینے کی منظم کوشش کی جاتی ہے۔ ان خیالات کا اظہار بزمِ جامعہ، شعبۂ اردو، جامعہ ملیہ اسلامیہ، نئی دہلی کے زیرِ اہتمام دو روزہ انٹرفیکلٹی مقابلوں کے حوالے سے صدرِ شعبہ پروفیسر کوثر مظہری نے کیا۔ بزمِ جامعہ کے ایڈوائزر ڈاکٹر خالد مبشر نے بتایا کہ ان دو دنوں میں آن اسپاٹ مضمون نگاری بعنوان ’’مصنوعی ذہانت: رحمت یا زحمت‘‘، آن اسپاٹ کہانی نویسی بہ موضوع ’’گھریلو تشدد‘‘، فی البدیہہ شاعری، کلاسیکی متون کی بلند خوانی، غزل خوانی اور بیت بازی جیسے مقابلوں کا انعقاد کیا گیا، جن میں تقریباً 100 طلبہ نے حصہ لیا۔ مقابلۂ غزل خوانی میں ڈاکٹر سہیل احمد فاروقی اور پروفیسر احمد محفوظ نے جج کے فرائض انجام دیے، جب کہ مقابلۂ بلند خوانی میں ڈاکٹر اسجد انصاری اور ڈاکٹر جاوید حسن نے فیصل کا فریضہ ادا کیا۔ وہیں بیت بازی میں حکم کی حیثیت سے ڈاکٹر واحد نظیر اور ڈاکٹر یاسر عباس نے شرکت کی۔ ڈاکٹر مشیر احمد، ڈاکٹر محمد مقیم، ڈاکٹر راحین شمع، ڈاکٹر نوشاد منظر، ڈاکٹر خان محمد رضوان اور ڈاکٹر راحت افزا نے مختلف آن اسپاٹ مقابلوں کی نگرانی کی۔ بزمِ جامعہ کے عہدے داران اور اراکین عشرت، عبدالمطلب، محمد عابد، محمد عظیم، عطاء المصطفیٰ، عبدالقادر، ظہیر اختر، ابوامامہ اور محمد معاذ نے مختلف مقابلوں کے آرگنائزر کی حیثیت سے اپنی ذمہ داریاں بحسن و خوبی انجام دیں۔ ان تمام مقابلوں کے فاتحین کو فروری میں 2026 میں منعقد ہونے والے انٹریونیورسٹی پروگرام آبشار کے موقع پر انعامات سے نوازا جائے گا۔