بہار کی نئی اسمبلی اور عوام کی توقعات

تاثیر 16 نومبر ۲۰۲۵:- ایس -ایم- حسن

بہار اسمبلی انتخابات 2025 نے نہ صرف سیاسی توازن کو یکسر بدل کر رکھ دیا ہے بلکہ ریاست کی 18ویں اسمبلی کے سماجی و سیاسی خدوخال بھی نئی ترجیحات کی واضح جھلک پیش کرتے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔ 243 رکنی ایوان میں،  202 نشستوں کے ساتھ این ڈی اے کی شاندار واپسی نے حکومت کی استحکام پسند پالیسیوں، ترقیاتی بیانیے اور اجتماعی سماجی اتحاد کو ایک مرتبہ پھر عوامی تائید بخشی ہے۔ اس انتخاب میں جو رجحانات نمایاں ہوئے ہیں، وہ نہ صرف مستقبل کی سمت کا تعین کرتے ہیں بلکہ یہ بھی واضح کرتے ہیں کہ بہار کا ووٹر اب پہلے سے زیادہ باخبر، فیصلہ کن اور متوقع نتائج سے ہٹ کر انتخابی فیصلے کرنے لگا ہے۔
سب سے اہم تبدیلی ایوان میں تجربہ کار نمائندوں کے بڑے پیمانے پر انتخاب کی صورت میں سامنے آئی ہے۔ اس بار 111 اراکین دوبارہ منتخب ہوئے ہیں، جس نے اسمبلی کی اوسط عمر کو معمولی طور پر بڑھا کر 53 سال کر دیا ہے۔ ایک طرف 79 سالہ بی جے پی کے سینئر لیڈر اور سابق وزیر وِجندرر پرساد یادو اپنے نویں لگاتار انتخاب کے ساتھ سب سے بزرگ ایم ایل اے ہیں، تو دوسری طر ’’ دمادم مست قلندر‘‘ جیسے صوفیانہ کلام اور میتھلی وپنجابی بھجنوں، گیتوں و غزلوں کی 25 سالہ مشہور گلوکارہ میتھلی ٹھاکرنہ صرف ایوان کی کم عمر ترین رکن ہیں بلکہ نئی نسل کی قیادت کی ابھرتی ہوئی علامت بھی ہیں۔ بہار کی نئی اسمبلی میں مجموعی طور پر صرف 33 ممبران 40 سال سے کم عمر ہیں، جو اس بات کا اشارہ ہے کہ تجربہ اور پرانی قیادت پر اعتماد آج بھی بہار کی سیاست کا غالب رجحان ہے۔
ایوان کا ایک اور رخ زیادہ حیران کن ہے اور وہ ہے اراکین کے اثاثوں میں ریکارڈ اضافہ۔ نئی اسمبلی کے اراکین اوسطاً 9.02 کروڑ روپے کے مالک ہیں، جو 2020 کے مقابلے میں تقریباً دوگنی ہے۔ اگرچہ بے تحاشہ اثاثے رکھنے والےاراکین کی موجودگی بھارتی سیاست میں کوئی نئی بات نہیں ہے، لیکن ایوان میں دولتمندوں کی بڑھتی ہوئے یہ غیر معمولی رفتار متوسط طبقے کی سیاسی نمائندگی کی سکڑتی ہوئی جگہ کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ بی جے پی کے مونگیر سے منتخب ہونے والے کمار پرنئے اپنی 170 کروڑ روپے کی جائیداد کے ساتھ سب سے امیر رکن ہیں، جبکہ اسی پارٹی کےپیر پینتی اسمبلی حلقہ سے مراری پاسوان محض 6.5 لاکھ کے اثاثوں کے ساتھ ایوان کے سب سے کم وسائل والے رکن ہیں۔یہ تضاد بتاتا ہے کہ بہار کی سیاست میں دولت کا کردار دن بدن بڑھتا جا رہا ہے، مگر اس کے ساتھ ساتھ ایسے چند نمائندے بھی موجود ہیں جو محدود وسائل کے باوجود عوامی حمایت حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔
تاہم ایک پہلو جسے قابلِ تعریف کہا جا سکتا ہے، وہ ہے جرائم کے مقدمات والے اراکین کی تعداد میں نمایاں کمی۔ 2020 میں جہاں 163 ایم ایل ایز کے خلاف مقدمات درج تھے، اس بار یہ تعداد کم ہو کر 130 رہ گئی ہے۔ یہ کمی، اگرچہ آہستہ مگر مثبت سمت میں قدم ہے۔ سنگین جرائم کے مقدمات کا سامنا کرنے والے اراکین کی شرح بھی 51 فیصد سے گھٹ کر 42 فیصد ہوئی ہے، جو عوامی سوچ میں بتدریج تبدیلی اور پارٹیوں کی انتخابی حکمتِ عملی میں ذمہ داری کے بڑھتے رجحان کی نشاندہی کرتا ہے۔اگرچہ بی جے پی کے 54 اراکین اب بھی مختلف مقدمات کا سامنا کر رہے ہیں، مگر مجموعی طور پر  اس بار 2010 کے بعد سے سب سے کم مجرمانہ ریکارڈ رکھنے والے اراکین  اسمبلی میں موجود ہوں گے۔
بہار اسمبلی انتخابات 2025 کا سب سے روشن پہلوخواتین کی بے مثال انتخابی شمولیت ہے۔ خواتین نے مسلسل چوتھی مرتبہ مردوں سے زیادہ ووٹنگ کی ہے، اور اس بار تو 71.78 فیصد کی شرکت نے ایک نیا ریکارڈ قائم کر دیا ہے، جو مردوں سے تقریباً 9 فیصد زیادہ ہے۔ تاہم، ایوان میں خواتین کی تعداد محض 29 ہے،جو مجموعی نشستوں کے تناسب سے انتہائی کم ہے۔این ڈی اے نے 26 خواتین کو کامیاب کرایا ہے۔ان میں بی جے پی اور جے ڈی یو کی دس دس امیدوار شامل ہیں۔ اس کے برعکس آر جے ڈی نے 24 خواتین امیدوار تو میدان میں ضرور اتارے مگر صرف تین کامیاب ہو سکیں، جبکہ کانگریس،بایا ں محاذ، وی آئی پی اورجن سوراج سے کوئی بھی خاتون چناؤ جیتنے میں کامیاب نہیں ہو سکی ہیں۔یہ تضاد بتاتا ہے کہ ووٹ ڈالنے والی لاکھوں خواتین اب بھی اس رفتار سے ایوان میں جگہ حاصل نہیں کر پا رہیں، جس کی وہ مستحق ہیں۔ یہ صورتِ حال سیاسی جماعتوں کے لئے واضح پیغام ہے کہ محض انتخابی بیانیے میں خواتین کا ذکر کافی نہیں ہے،انہیں فیصلہ سازی میں باوقار جگہ دینا ہوگی۔
مذکورہ تمام رجحانات سے مجموعی طور پر جو تصویر بنتی ہے وہ یہ ہے کہ بہار کا سیاسی منظرنامہ واضح طور پر بدل رہا ہے۔ ایک طرف تجربہ، دولت اور سیاسی استحکام کی طلب بڑھ رہی ہے تو دوسری طرف خواتین اور نوجوان ووٹروں کی بھرپور شمولیت ایک نئے سماجی رجحان کی بنیاد رکھ رہی ہے۔ جرائم پیشہ پس منظر کے امیدواروں میں کمی بھی امید افزا تبدیلی کی طرف اشارہ ہے۔اس انتخاب نے ثابت کیا ہے کہ بہار کا ووٹر اب صرف شناختی سیاست یا مقامی اثر رسوخ تک محدود نہیں رہا، بلکہ وہ کارکردگی، نظم و نسق، شفافیت اور مضبوط حکمرانی کو زیادہ ترجیح دے رہا ہے۔نئی اسمبلی سے عوام کی توقعات بھی اسی نسبت سے زیادہ ہیں۔ اور بہار کے سیاسی مستقبل کا اصل پیمانہ بھی یہی ہے۔