بہار کی نئی حکومت اور عوام کی ڈھیروں امیدیں

تاثیر 20 نومبر ۲۰۲۵:- ایس -ایم- حسن

بہار کی تاریخ میں کل کا دن بہت ہی اہم تھا۔ ریاست کے وزیر اعلیٰ کی حیثیت سے 20 نومبر کو نتیش کمار کی دسویں بار تاجپوشی ہوئی۔ ساتھ ہی 26 رکنی کابینہ کے وزراء نے بھی حلف لیا۔ اس طرح تزک و احتشام کے ساتھ ریاستی حکومت کے ایک نئے عہد کا آغاز ہوا۔مانا جا رہا ہے کہ یہ آغاز ایک نئی صبح کے ساتھ ساتھ ریاست کے عوام کے اعتماد اور امیدوں کا اظہار بھی تھا۔ گاندھی میدان میں منعقد وہ پُرشکوہ تقریب، جس میںپی ایم نریندر مودی سمیت سولہ ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ اور ملک کی اہم شخصیات شریک ہوئیں، خود اس سیاسی لمحے کی اہمیت اور اثر پذیری کو اجاگر کرتی ہے۔ ہزاروں کی تعداد میں موجود عوام کا جوش و خروش اس بات کی علامت تھا کہ بہار اپنے مستقبل کے بارے میں سنجیدہ بھی ہے اور پُرامید بھی۔
ریاست کی نئی حکومت میں این ڈی اے کی تمام اتحادی جماعتوں کو مناسب نمائندگی دی گئی ہے۔ بی جے پی کو 14، جے ڈی یو کو 8، لوک جن شکتی پارٹی (رام ولاس) کو 2، ہندوستانی عوام مورچہ کو 1 اور قومی لوک مورچہ کو 1 وزارت دیتے ہوئے ایک ایسا توازن قائم کیا گیا ہے، جو ایک طرف سیاسی ہم آہنگی کو مضبوط کرتا ہے تو دوسری جانب سماجی و علاقائی توازن کی ضرورت کو بھی پورا کرتا ہے۔ نوجوانوں اور تجربہ کار رہنماؤں کا حسین امتزاج اس کابینہ کی ایک بڑی خصوصیت ہے۔ مانا جا رہا ہے آنے والے برسوں میں اس کے مثبت نتائج سامنے آئیں گے۔اس توازن کی ایک نمایاں مثال 34 سالہ شریاسی سنگھ ہیں، جو شوٹنگ میں کامن ویلتھ گیمز کی گولڈ میڈلسٹ اور سب سے کم عمر وزیر بن کر نئی نسل کی امیدوں کی نمائندگی کر رہی ہیں۔ دوسری جانب 79 سالہ وجیندر پرساد یادو کا تجربہ اور متعدد بار انتخاب جیتنے کا ریکارڈ اس بات کا ثبوت ہے کہ این ڈی اے نے نئے جوش اور پرانے تجربے کو ہم آہنگ کیا ہے۔ اسی طرح جیتن رام مانجھی کے بیٹے سنتوش سمن کو دوبارہ کابینہ میں شامل کر کے، اور لوک موچہ کے دیپک پرکاش کو موقع دے کر، مختلف سیاسی و سماجی طبقات کو ساتھ لے کر چلنے کی کوشش کی گئی ہے۔
پی ایم نریندر مودی کی جانب سے تہنیتی پیغامات، خصوصاً نتیش کمار کو’’ تجربہ کار منتظم ‘‘  قرار دینا، اس نئی حکومت کے لئے مرکز کی سطح پر تعاون اور ہم آہنگی کا اشارہ دیتا ہے۔ ڈپٹی سی ایم کے طور پر بی جے پی کے سمراٹ چودھری اور وجے سنہا کی تقرری بھی اس سیاسی توازن کا حصہ ہے، جو آنے والے برسوں میں این ڈی اے حکومت کی سمت اور اس کے کام کرنے کے طریقے کا تعین کرے گی۔ تقریب میں عوام کی شرکت اور پی ایم کی جانب سے گمچھا لہرائے جانے جیسے علامتی مناظر نے اس دن کو ایک عوامی جشن کی شکل دے دی۔بلا شبہہ  کل کا دن نہ صرف سیاسی تبدیلی کا خوبصورت موقع تھا بلکہ اعتماد اور وابستگی کی ایک نئی کہانی کا آغاز بھی تھا۔ بہار کے عوام نے این ڈی اے کو جو بھرپور مینڈیٹ دیا ہے، اس میں انتخابی وعدوں، ترقیاتی منصوبوں اور امن و انصاف کے عزم کو عملی جامہ پہنانے کی توقع بھی مضمر ہے۔
اب اصل امتحان حکومت کے سامنے ہے۔ بہار کی سماجی و تعلیمی پسماندگی، صنعتی کمی، بے روزگاری، صحت کے شعبے کی کمزوریاں، اور بار بار سیلاب جیسے مسائل اپنے مستقل حل کا انتظار کر رہے ہیں۔ نتیش کمار انتظامی تجربے کے حامل ضرور ہیں، مگر گزشتہ کچھ برسوں میں سیاسی اتار چڑھاؤ نے کئی سوالات بھی کھڑے کیے ہیں۔ اب جب کہ انہیں مرکز کی مضبوط پشت پناہی اور اتحادیوں کا مربوط تعاون حاصل ہے، تو عوام کی توقع یہی ہے کہ پچھلے ادوار کی کمزوریوں کو دور کرنے کی سنجیدہ کوشش کی جائے گی۔
این ڈی اے کے اس نئے دور میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ حکومت سیاسی استحکام برقرار رکھے۔ بہار میں بار بار بدلتی سیاسی وفاداریاں اور اتحاد ٹوٹنے کے واقعات عوام میں بے چینی پیدا کرتے رہے ہیں۔ اگر نتیش کمار اسی خیرسگالی اور مرکز کے ساتھ بہتر تال میل اور تعاون کے جذبے کو برقرار رکھیں، جس کی جھلک کل گاندھی میدان میں نظر آئی ، تو آئندہ پانچ برس بہار کے لئے ترقی، امن اور سماجی ہم آہنگی کا ایک نیا دور ثابت ہو سکتے ہیں۔یہ کتنی اچھی بات ہے کہ بی جے پی کی مضبوط شراکت اور این ڈی اے کے وسیع اتحاد کے ساتھ نتیش کمارکے پاس ایک بہترین موقع ہے کہ وہ بہار کو ایک ایسی ریاست میں بدل دیں ،جس کا مستقبل ہجرت، بے روزگاری اور پسماندگی کے بجائے ترقی، شفافیت اور بہتر طرزِ حکمرانی سے تعبیر ہو۔ کل کا سیاسی آغاز عوام کی امیدوں کا ایک وسیع وعریض دروازہ ضرور کھولتا ہے۔اب ریاست کی نئی حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کے اعتماد اور امیدوں کی کسوٹی پر خود کو کھرا ثابت کرکے دکھائے۔