تاثیر 18 نومبر ۲۰۲۵:- ایس -ایم- حسن

تحریر: ہردیپ سنگھ پوری
بہار کے عوام نے ایک ایسا فیصلہ دیا ہے جس کا تجزیہ محض نشستوں کی تعداد کا حساب کتاب لگانے سے نہیں کیا جا سکتا۔ نیشنل ڈیموکریٹک الائنس نے قانون ساز اسمبلی کی 243 سیٹوں میں سے 202 سیٹیں جیت کر اپنی واضح برتری ثابت کی ہے، جبکہ بھارتیہ جنتا پارٹی نے اکیلے 89 نشستیں حاصل کی ہیں، جو ریاست میں اس کی اب تک کی بہترین کارکردگی ہے۔ مہاگٹھ بندھن، جو دہائیوں تک مختلف اتحادوں کی شکل میں بہار کی سیاست پر غالب رہا، اس بار صرف 34 نشستوں تک محدود رہ گیا ہے۔ 7 کروڑ 40 لاکھ سے زائد رجسٹرڈ ووٹروں میں سے 67.13 فیصد کی شرکت نے اس انتخاب کو ریاست کی حالیہ تاریخ کے سب سے سخت مقابلے والے انتخابات میں شامل کر دیا ہے اور اس نتیجے کو حقیقی جمہوری وسعت اور اہمیت عطا کی ہے۔
برسوں تک بہار کے بارے میں کیے جانے والے بیشتر تبصروں نے اس ریاست کو یوں پیش کیا، گویا اس میں وقت کے ساتھ ایک ٹھہراؤ ہو۔ انتخابات کو ذات پات کی صف بندی کی ایک مشق تصور کی جاتی رہی، جہاں یہ فرض کر لیا جاتا تھا کہ سماجی آبادیات خودکار طور پر سیاسی نتائج میں ڈھل جائیں گی۔ وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں بھارتی سیاست کا تصور واضح طور پر ترقی، شمولیت اور ریاستی صلاحیت کی طرف منتقل ہوا ہے اور بہار کے ووٹروں نے اس تبدیلی کا غیر معمولی وضاحت کے ساتھ جواب دیا ہے۔ 2025 کے نتائج ایک زیادہ توقعات رکھنے والے ووٹروں کو سامنے لاتا ہے، جو عدم تحفظ اور مفلوج ہوچکے بہارکے نظام حکومت اور بہتر حکمرانی والے بہار کے درمیان واضح فرق کو بغور دیکھ سکتے ہیں۔ بہت سے شہریوں نے اپنی بات چیت اور ووٹ کی شرکت کے رجحانات میں یہ بھی ظاہر کیا کہ اس انتخاب میں، خاص طور پر 2024 کے عام انتخابات میں توقع سے کم ووٹر شرکت کے بعد ایک ذمہ داری کا احساس تھا۔ انہوں نے خود یہ نتیجہ اخذ کیا کہ وہ بہار کو ملک کے وسیع تر سفر میں کس مقام پر دیکھنا چاہتے ہیں۔
حکمرانی کی ترسیل نے اس تبدیلی کو بنیاد فراہم کی ہے۔ گزشتہ دہائی کے دوران بہار میں 55 ہزار کلومیٹر سے زیادہ دیہی سڑکیں تعمیر کی گئیں یا ان کی توسیع کی گئی، جنہوں نے گاؤوں کو منڈیوں، اسکولوں اور صحت کے مراکز سے جوڑ دیا ہے۔ کروڑوں گھرانوں کو مرکزی اسکیموں اور ریاستی پروگراموں کے امتزاج کے ذریعے بجلی، پینے کا پانی اور سماجی تحفظ فراہم کیا گیا ہے۔ سوبھاگیہ اور اس سے متعلق اقدامات کے تحت بہار میں 35 لاکھ سے زیادہ گھرانوں کو بجلی فراہم کی گئی، جس سے ریاست تقریباً ہر گھر تک بجلی پہنچانے کے ہدف کے قریب پہنچ گئی۔ پردھان منتری آواس یوجنا کے تحت بہار کے لیے 57 لاکھ سے زیادہ پکےمکانات کی منظوری دی گئی ہے، جن میں سے کئی خواتین کے نام پر رجسٹر کیے گئے ہیں۔ ایسے اعداد وشمار ایک ٹھوس تبدیلی کا منہ بولتا ثبوت ہیں،جسے لوگ دیکھ اور محسوس کر سکتے ہیں:سڑکیں، جو ہر موسم میں کارآمدہوں، روشنی جو مسلسل جلتی رہے، نل جس سے پانی بہتا رہے، ایک گھر جو عزتِ نفس عطا کرے۔
جیسے جیسے ان عوامی سہولیات کی توسیع ہوتی ہے، پرانی پہچان اپنے آپ معدوم پڑنے لگتی ہے۔ بہار کا معاشرہ بدستور متنوع اور کثیر جہتی ہے، تاہم انتخابی اعتبار سے یہ جہتیں اب پہلے کی طرح ایک دوسرے سے مکمل طور پر الگ تھلگ بند خانوں کی مانند برتاؤ نہیں کرتیں۔ مختلف سماج سے تعلق رکھنے والی خواتین اب تحفظ، نقل و حرکت اور مواقع کے بارے میں ایسی توقعات رکھتی ہیں جو مشترک ہیں۔ وہ نوجوان جو سماجی درجہ بندی کے دو مخالف سروں سے تعلق رکھتے تھے، اب خود کو یکساں کوچنگ کلاسوں اور روزگار کےمواقع سے ہمکنارپاتے ہیں۔ ان کے روزمرہ کے تجربات انہیں امنگوں کی ایک مشترکہ فضا میں لے آتے ہیں۔ اس فضا میں وہ سیاست سے جو سوال پوچھتے ہیں، ان کا تعلق روزگار، بنیادی ڈھانچے، استحکام اور انصاف سے ہوتا ہے۔
ان نتائج نے خاندانی سیاست کے بارے میں بھی ایک واضح پیغام دیا ہے۔ وہ جماعتیں جو خاندانی کرشمے اور موروثی گٹھ جوڑ پر انحصار کرتی رہی تھیں، ان کی قانون ساز حیثیت میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔ بہار نے کئی دہائیوں تک اس طرح کی سیاسی تشکیلوں کا نزدیک سے مشاہدہ کیا ہے اور ان کی حدود کو بخوبی سمجھتا ہے۔ 2025 کے نتیجے سے ظاہر ہوتا ہے کہ ووٹر اس بات کو دیکھ رہے ہیں کہ قائدین حکومت میں اپنے آپ کو کس طرح پیش کرتے ہیں، بحرانوں میں کس طرح ردّعمل دیتے ہیں، اداروں کے ساتھ کس طرح جڑتے ہیں اور عوامی وسائل کا استعمال کیسے کرتے ہیں۔ جہاں خاندانوں کا پس منظر وسیع تر نیشنل ڈیموکریٹک الائنس کے اندر موجود ہے، وہاں اسے بڑھتی ہوئی حد تک محنت، تنظیمی صلاحیت اور خدمت کے ریکارڈ کی کسوٹی پر پرکھا جا رہا ہے۔
نوجوان ووٹروں کا طرزِ عمل اس تبدیلی کے مرکزی مقام پر ہے۔ بہار کی آبادیاتی ساخت ہندوستان کی سب سے کم عمر آبادیوں میں شمار ہوتی ہے اور 2000 کے بعد پیدا ہونے والے لاکھوں شہریوں نے اس انتخاب میں اپنی رائے دہی کا استعمال کیا ہے۔ یہ وہ نسل ہے جو ایک ایسے ہندوستان میں پروان چڑھی ہے جہاں ایکسپریس ویز، ڈیجیٹل ادائیگیاں، مقابلہ جاتی وفاقیت اور حوصلہ مند فلاحی اسکیمیں توقعات کو تشکیل دیتی ہیں۔ وہ ریاستوں کا تقابل کرتے ہیں، اعلانات پر نظر رکھتے ہیں اور اس رفتار کی بنیاد پر قائدین کا محاسبہ کرتے ہیں جس کے ساتھ وعدے نظر آنے والی تبدیلی میں تبدیل ہوتے ہیں۔ ان کے لیے وقت پر تعمیر کی جانے والی سڑک اور فائلوں سے کبھی باہر نہ آنے والی سڑک کے درمیان فرق بالکل واضح ہے۔ وہ اس فرق کو ہر روز محسوس کرتے ہیں، جب وہ کالجوں، کوچنگ مراکز یا کام کی جگہوں تک سفر کرتے ہیں اور جب وہ اپنے گھروں میں کنیکٹیویٹی اور فلاحی اقدامات کے ثمرات اپنے خاندانوں تک پہنچتے دیکھتے ہیں۔
یہ نسل قومی یکجہتی کے لیے ایک تیز شعور بھی لے کر آئی ہے۔ نوجوان ووٹر اس بیان بازی کے بارے میں چوکس رہتے ہیں جو اداروں کو کمزور کرے، علیحدگی پسندانہ رجحانات سے کھیلتی ہو یا قومی سلامتی کو غیر سنجیدہ بناتی ہو۔ وہ بے روزگاری اور عدم مساوات سمیت پالیسی مباحثوں میں تنقیدی انداز میں حصہ لیتے ہیں، لیکن وہ اس تنقید اور اُن بیانیوں کے درمیان واضح لکیر کھینچتے ہیں جو جمہوریہ کو بہتر بنانے کی نیت رکھتی ہیں اور وہ جو اس کی یکجہتی کے بارے میں لاتعلق دکھائی دیتی ہیں۔ بہار کا فیصلہ اس امتیاز کی عکاسی کرتا ہے۔ ووٹروں نے ایک ایسی سیاسی تشکیل کو غیر معمولی وضاحت کے ساتھ قبول کیا ہے جو ترقی اور قومی مقاصد، دونوں کی زبان بولتی ہے۔
نظم و نسق ایک اور وضاحتی جہت کی نشاندہی کرتے ہیں۔ بہار کے انتخابات ایک زمانے میں بوتھ کیپچرنگ اور تشدد سے جڑے سمجھے جاتے تھے۔ حالیہ برسوں میں اور خاص طور پر اس انتخابی مرحلے میں، یہ تصویریں بڑی حد تک کم ہو گئی ہیں۔ شورس سے متعلق سرگرمیوں سے متاثرہ علاقوں کو مضبوط حفاظتی اقدامات اور اقتصادی ترقی کے مشترکہ اثرات کے ذریعے پیچھے دھکیل دیا گیا ہے۔ تاجر اپنی دکانیں دیر تک کھلی رکھتے ہیں طلبہ زیادہ پر اعتماد ہوکر سفر کرتے ہیں اور خاندان عوامی زندگی کو کم اضطراب کے ساتھ محسوس کرتے ہیں۔ ایک ایسا ووٹر جو اس بہتری کا مشاہدہ کر چکا ہے، اپنے نمائندے منتخب کرتے وقت اسے نظر انداز نہیں کرتا۔
اپوزیشن کے بعض حلقوں کا ان تبدیلیوں پر ردعمل بھی قابل غور ہے۔ اپنے حمایتیوں کے نقصان کی وجوہات پر غور کرنے کی بجائے، کچھ رہنماؤں نے الیکشن کمیشن، ووٹر لسٹوں یا خود انتخابی عمل کی شفافیت پر شک ظاہر کرنا ترجیح دی ہے۔ یہ رویہ بہار کے ووٹروں کی ذہانت اور شعور کے ساتھ انصاف نہیں کرتا۔ اس سے یہ حقیقت بھی نظر انداز ہو تی ہے کہ یہی ادارہ جاتی ڈھانچہ دیگر ریاستوں میں اپوزیشن کے حق میں نتائج پیدا کر چکا ہے۔ رائے دہنگان توقع کرتے ہیں کہ ان کے مسائل پر سنجیدہ توجہ دی جائے، نہ کہ اس نظام کی عام مذمت کی جائے جسے انہوں نے ابھی جوش و خروش کے ساتھ استعمال کیا ہے۔
بہار کے نتائج کو قومی اور عالمی تناظر میں رکھنے سے ایک ابھرتا ہوا رجحان مضبوط ہوتا ہے۔ ایسے وقت میں جب کئی جمہوریتیں تعصب ، اقتصادی بحران اور ادارہ جاتی تھکن سے نبردآزما ہیں، بھارت مسلسل زیادہ عوامی شرکت، مستحکم قیادت اور ترقی، شمولیت اور قومی قوت پر مبنی پالیسی کے راستے کو برقرار رکھ رہا ہے۔ بہار کا نتیجہ اس راستے کو جمہوری توثیق کی ایک اور جہت فراہم کرتا ہے۔ یہ ظاہر کرتا ہے کہ بھارت کی سب سے سیاسی طور پر باشعور ریاستوں میں سے ایک کے ووٹر اپنے ذاتی ترقی کو ملک کے بڑے سفر کے ساتھ منسلک دیکھتے ہیں، جو 2047 تک ایک ترقی یافتہ اور پراعتماد بھارت کی طرف بڑھ رہا ہے۔
نیشنل ڈیموکریٹک الائنس کے لیے یہ نتائج نہ صرف حوصلہ افزا ہیں بلکہ ہدایت بھی ہے۔ یہ بنیادی ڈھانچے، فلاحی ترسیل اور تحفظ پر زور دینے کی توثیق کرتا ہے، تاہم یہ تیز تر روزگار پیدا کرنے، وسیع تر اصلاحات کرنے اور ادارہ جاتی بہتری کے تسلسل کے لیے توقعات بھی بڑھاتا ہے۔ مخالفین کے لیے، یہ فیصلہ حکمت عملی، قیادت اور پروگرام کے بارے میں سنجیدہ سوالات کھڑا کرتا ہے۔ بہار کے ووٹروں نے یہ اشارہ دیا ہے کہ وہ ایسی سیاست کی توقع رکھتے ہیں جو حکمرانی، سنجیدگی اور قومی یکجہتی کے احترام پر مبنی ہو۔ یہ توقعات آنے والے برسوں میں ہندوستانی سیاست کے رجحان کو تشکیل دینے کا امکان رکھتی ہیں۔
(مضمون نگار بھارت کے پیٹرولیم اور قدرتی گیس کے وزیر ہیں)

