وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے ایم بی بی ایس داخلے پر بی جے پی کے موقف کو مسترد کردیا

تاثیر 24 نومبر ۲۰۲۵:- ایس -ایم- حسن

جموں, 24 نومبر: جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے شری ماتا ویشنو دیوی انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل ایکسیلینس میں پہلی بیچ کی داخلہ فہرست پر بی جے پی کے مؤقف کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ میرٹ کے بغیر ایم بی بی ایس نشستیں دینا آئینی طور پر ممکن نہیں اور ایسا کوئی بھی قدم صرف سپریم کورٹ کی منظوری کے بعد ہی اٹھایا جا سکتا ہے۔
ایک تقریب کے بعد صحافیوں سے گفتگو میں وزیر اعلیٰ نے کہا کہ آئین میں سیکولر کا لفظ درج ہے، اور اگر بعض حلقے ملک کو سیکولر نہیں رکھنا چاہتے تو پہلے اسے آئین سے حذف کرنے کی بات کریں۔
سات چونے کے پتھر کے بلاکس کی ای نیلامی کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے عبداللہ نے شری ماتا ویشنو دیوی انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل ایکسیلینس (ایس ایم وی ڈی آئی ایم ای) میں ایک مخصوص طبقے کے 42 امیدواروں کے انتخاب پر پیدا ہونے والی تنازعے پر حیرت کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ جب اسمبلی نے یونیورسٹی کے قیام کا بل منظور کیا تھا، کہیں بھی یہ نہیں لکھا تھا کہ کسی مذہب کے طلبہ کو اس کے دائرے سے باہر رکھا جائے گا۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ادارے کو رواں سال 50 ایم بی بی ایس نشستیں دی گئی تھیں، جن میں سے 42 نشستوں پر ایک مخصوص طبقے کے امیدواروں کے داخلے پر بعض دائیں بازو تنظیموں اور بی جے پی نے اعتراض اٹھایا اور اسے ’اقلیتی ادارہ‘ قرار دینے کا مطالبہ کیا۔ تاہم حکام کے مطابق ادارے کو اقلیتی درجہ حاصل نہیں، اس لیے داخلے مکمل طور پر میرٹ پر دیے گئے اور مذہبی بنیاد پر کوئی ریزرویشن لاگو نہیں کیا جا سکتا ہے۔