تاثیر 26 نومبر ۲۰۲۵:- ایس -ایم- حسن
سنبھل، 26 نومبر:ترپردیش کے سنبھل میں 1978 کے فسادات سے متعلق ایک معاملے میں بدھ کو سنبھل کوتوالی علاقے کے ایکتا تھانے کے محمود خاں سرائے کے مرکزی بازار میں واقع کنویں کی کھدائی شروع کر دی گئی ہے۔ تفتیش میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ اس کنویں میں کریانے کے تاجر رامشرن رستوگی کے قتل کے بعد ان کی لاش کو ترازو کے وزنی پیمانہ سے باندھ کر پھینک دیا گیا تھا۔
سنبھل تشدد کی برسی 24 نومبر 2024 کے موقع پر ضلع مجسٹریٹ ڈاکٹر راجندر پنسیا اور پولیس سپرنٹنڈنٹ کرشن وشنوئی نے علاقے کا معائنہ کیا۔ اس دوران انہوں نے پیدل گشت بھی کی۔ متوفی رامشرن رستوگی کے بھتیجے سشیل رستوگی کی اکبر پور منڈی میں کنویں کے بالکل سامنے ایک دکان ہے، جن سے حکام نے بات چیت کی۔ اس کے بعد شکایت کی بنیاد پر ڈی ایم اور ایس پی نے سٹی مجسٹریٹ سدھیر کمار اور میونسپل کارپوریشن کے ایگزیکٹو آفیسر ڈاکٹر منی بھوشن تیواری کو کنویں کی کھدائی کی ہدایت دی۔ جس کے بعد بدھ کو مزدوروں نے دونوں اہلکاروں کی موجودگی میں کنواں کھودنا شروع کر دیا۔
مقتول رامشرن رستوگی کے بھتیجے سشیل رستوگی نے بتایا کہ ان کے چچا کو 1978 کے فسادات کے دوران بے دردی سے قتل کر کے ان کی لاش کو کنویں میں پھینک دیا گیا تھا۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ضلع مجسٹریٹ اور پولیس سپرنٹنڈنٹ (ایس پی) نے اس کے ٹھکانے کے بارے میں دریافت کیا تھا۔ متوفی کے پوتے کپل رستوگی نے بھی حال ہی میں 10 فروری 2025 کو ایس ڈی ایم اور ڈی ایم کو ایک عرضی پیش کر کے انصاف کی التجا کی تھی۔
سٹی مجسٹریٹ سدھیر کمار نے بتایا کہ ضلع مجسٹریٹ (ڈی ایم) اور پولیس سپرنٹنڈنٹ (ایس پی) نے تشدد کی برسی کے موقع پر 24 نومبر کو پیدل گشت کے دوران کنویں کا معائنہ کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ کنویں کی کھدائی کے لیے ہدایات جاری کر دی گئی ہیں اور آج کام جاری ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ کنویں کی ایک طویل تاریخ ہے اور اس کا تعلق 1978 کے فسادات سے ہے۔

