سال2030 تک ایچ آئی وی/ایڈز کی وبا کا خاتمہ: بھارت کے لیے صحت کا اگلا بڑا عوامی موقع

 

مصنفہ: محترمہ وی ہیكالی جھیمومی

بھارت ایچ آئی وی/ایڈز کے خلاف اپنی جدوجہد کے ایک اہم موڑ پر کھڑا ہے۔ پہلی بار کوئی معاملہ سامنے آنے کے چار دہائی بعد، ملک نے دنیا کے سب سے وسیع اور مضبوط قومی ایچ آئی وی سے تحفظ اور علاج کے پروگراموں میں سے ایک قائم کیا ہے۔ نیشنل ایڈز اینڈ ایس ٹی ڈی کنٹرول پروگرام (این اے سی پی) نے ناقابلِ تردید کامیابیاں دکھائی ہیں۔2010 کے بعد سے نئے انفیکشن تقریباً نصف تک کم ہو گئے ہیں، ایڈز سے متعلق اموات میں 80 فیصد سے زیادہ کمی آئی ہے، علاج پر موجود مریضوں میں وائرس کی قوت میں اب 97 فیصد سے زیادہ کم ہوگئی ہے، اور بھارت مکمل طور پر ڈولوٹیگراور پر مبنی طریقہء علاج میں منتقل ہو چکا ہے جس نے اسے علاج کی مؤثریت کے اعتبار سے عالمی رہنماؤں میں شامل کر دیا ہے۔

تاہم، اب بھی کسی قسم کی خودتسلی یا غفلت کی گنجائش موجود نہیں۔ جیسے ہی ملک 31–2026 کے لیے نیشنل ایڈز کنٹرول پروگرام کے چھٹے مرحلے(این اے سی پی- VI) میں داخل ہو رہا ہے، اسے اس حقیقت کا سامنا کرنا ہوگا کہ بھارت میں ایچ آئی وی کی وبا اب بھی تبدیل ہو رہی ہے، اور بعض مقامات پر تیزی سے پھیل رہی ہے۔ملکی سطح پر 0.20 فیصد کم اوسط پھیلاؤ  نئے ابھرتے ہوئے ہاٹ اسپاٹس(یعنی زیادہ معاملات والے علاقے) اور کمزوریوں کو چھپا دیتا ہے۔ آسام، اروناچل پردیش، تریپورہ اور پنجاب جیسی ریاستوں میں ایچ آئی وی کے معاملات میں اضافہ سامنے آیا ہے، جس کی بڑی وجہ انجیکشن کے ذریعے منشیات کا استعمال ہے۔انجیکشن لگانے والے افراد میں ایچ آئی وی کا پھیلاؤ قومی اوسط سے چالیس گنا زیادہ ہے، اور کچھ ہاٹ اسپاٹس میں اس میں تیزی سے اضافہ دیکھا گیا ہے۔ اندازے کے مطابق ایک بار سوئی یا سرنج مشترکہ استعمال کرنے سے ایچ آئی وی منتقل ہونے کا خطرہ 160 میں سے ایک ہوتا ہے—اور اگر اس پر فوری اور مؤثر ردعمل نہ دیا جائے تو انجیکشن کے ذریعے پھیلنے والی یہ وبا بہت تیزی سے بے قابو ہو سکتی ہے۔

اس کے علاوہ، نئے انفیکشن کا بڑھتا ہوا حصہ اب ایسے افراد میں سامنے آ رہا ہے جو ایچ آئی وی کو عمومی یا باقاعدہ جنسی ساتھیوں سے حاصل کر رہے ہیں—جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ وبا روایتی’’کلیدی آبادیوں‘‘ سے آگے بڑھ رہی ہے۔بھارت کی نوجوان آبادی—ہر سال 2.25 کروڑ نو عمر افراد 15–25 سال کی عمر کے گروہ میں داخل ہورہے ہیں—اب بھی کمزور ہے، کیونکہ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز تک آسان رسائی نے خطرناک جنسی رویے اور نشہ آور اشیا کے استعمال کے امکانات بڑھا دیے ہیں۔بھارت نے ماں سے بچے میں ایچ آئی وی منتقلی میں کمی کے حوالے سے نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ حاملہ خواتین میں ایچ آئی وی اور سفلس کی عالمی معیار پر جانچ و علاج، شیر خوار بچوں کی بروقت تشخیص، اور بچّوں میں تحفظی اقدامات  نے 2020 میں 25 فیصد سے زائد ماں سے بچے میں منتقلی کی شرح کو 2024 میں کم کرکے 10 فیصد تک پہنچا دیا ہے۔تاہم، یہ شرح اب بھی خاتمے کے لیے مقرر پانچ فیصد کی حد سے زیادہ ہے۔

سادہ الفاظ میں کہا جائے تو وائرس نے خود کو بدل لیا ہے۔ یہ اب زیادہ نوجوانوں کو متاثر کر رہا ہے، زیادہ پھیل چکا ہے، اور نئی کمزوریوں سے فائدہ اٹھا رہا ہے۔ ان چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے ایک نئے نقشۂِ راہ کی ضرورت ہے۔

این اے سی پی- VI کو بھارت کی سب سے جرأت مندانہ اور مستقبل پر نگاہ رکھنے والی ایچ آئی وی حکمتِ عملی کے طور پر تصور کیا گیا ہے۔ یہ 2030 تک ایڈز کو عوامی صحت کے لیے خطرہ نہ رہنے دینے کے ایس ڈی جی 3.3 ہدف کے مطابق ہے—اور چار بڑی تبدیلیوں پر مبنی ہے۔

پہلا، بھارت کے متنوع اور مختلف نوعیت کے کمزوریوں والے منظرنامے کے پیشِ نظر ضروری ہے کہ ایچ آئی وی کی روک تھام کو افراد کے پیچھے چلنے والا بنایا جائے—نہ کہ صرف مخصوص زمروں کے۔ روایتی ’’ہائی رسک گروپس‘‘سے آگے بڑھ کر پروگرام کو اُن باہمی جڑی ہوئی کمزوریوں کو بھی شامل کرنا ہوگا جو سماجی اور ساختی عوامل پیدا کرتے ہیں۔سمپورن سرکشا فریم ورک کے تحت، یونیورسلائزڈ پریوینشن اس بات کو یقینی بنائے گی کہ مداخلتیں لیبلز کے بجائے اصل کمزور افراد تک پہنچیں۔اے آئی پر مبنی خودکار خطرے کا جائزہ، ورچوئل طریقے سے پہنچ، جدید ادویاتی سہولتیں، اور ہاٹ اسپاٹس یا تیزی سے پھیلاؤ کرنے والے مراکز کی نگرانی کے لیے مرض کی نگرانی کے پلیٹ فارمز—یہ تمام عوامل اگلی نسل کی روک تھام اور خدمات کے رابطوں کو تقویت دیں گے۔منشیات کو انجیکشن کے ذریعے استعمال کرنے والوں میں پھیلنے والی وبا سے نمٹنے کے لیے مخصوص حکمت عملیاں این اے سی پی- VI کا مرکزی ستون ہوں گی تاکہ وبا کے پھیلاؤ کا رخ پلٹا جا سکے۔

دوسرا، این اے سی پی- VI کو جلدی تشخیص، مؤثر علاج، اور طوالت تک برقرار رکھنے کے طریقۂ کار کو مزید مضبوط بنانا ہوگا۔ بھارت کی کامیابی کہ اس نے اعلیٰ معیار کا، بالکل مفت اینٹی ریٹرو وائرل علاج (اے آر ٹی) فراہم کیا اور وائرل کمزور کرنے کو بڑے پیمانے پر بڑھایا—بے مثال ہے۔اس کے باوجود، علاج جاری رکھنے اور ابتدائی مرحلے میں تشخیص یقینی بنانے کے چیلنجز اب بھی باقی ہیں۔اے بی ایچ اے ، ٹیلی میڈیسن، اور ڈیجیٹل طریقے سے بعد کے مشوروں کے ذریعے اے آر ٹی کی فراہمی کے لئے مربوط سسٹمز خدمات دینے میں درپیش رکاوٹوں کو کم کرنے میں مدد دیں گے۔ این اے سی پی- VI کا اے بی ایچ اے اور آیوشمان آروگیہ مندروں کے ساتھ انضمام ایک بڑا موقع ہے، جس کے ذریعے ایچ آئی وی کی نگہداشت کو وسیع تر عوامی صحت کے نظام کا مرکزی حصہ بنایا جا سکتا ہے۔

تیسرا، ایچ آئی وی اور سفلس کی عمودی منتقلی (ماں سے بچے میں منتقل ہونا) کا خاتمہ ایک قومی صحت کی ضرورت ہے۔آرایم این سی ایچ+اے پروگرام کے ساتھ ہم آہنگی کو بڑھاتے ہوئے، نجی شعبے سے ڈیٹا کا بہتر اندراج کرتے ہوئے، اور جانچ کِٹس کی مؤثر، غیر مرکزی سپلائی چینز قائم کرتے ہوئے، بھارت 2030 تک اس ہدف کو حاصل کر سکتا ہے۔تاہم، اس کے لیے ضروری ہے کہ ہر حاملہ عورت—چاہے وہ کسی بھی علاقے، ذات، آمدنی یا ازدواجی حیثیت سے تعلق رکھتی ہو—تک پہنچا جائے۔

چوتھا، پروگرام کو بدنامی کے خاتمے پر اپنی توجہ دوبارہ مضبوط کرنا ہوگی۔سماجی دباؤ ہی وہ سب سے بڑی رکاوٹ ہے جو لوگوں کو پوشیدہ رکھتی ہے، تشخیص میں تاخیر کا باعث بنتی ہے، اور علاج کے بغیر انفیکشن کو بڑھاتی ہے۔ایچ آئی وی اینڈ ایڈز (پریوینشن اینڈ کنٹرول) ایکٹ 2017 ایک حقوق پر مبنی قانون ہے جو ایچ آئی وی/ایڈز سے متاثر اور متاثرہ افراد کے تحفظ کے لیے بنایا گیا ہے۔ یہ قانون ایک ایسے ماحول میں خدمات تک رسائی کو فروغ دیتا ہے جو بدنامی اور امتیاز سے پاک ہو۔اس کے باوجود، سماجی دباؤ گھروں، اسپتالوں، کام کی جگہوں، حتیٰ کہ پالیسیوں میں بھی موجود ہے—اور اس کے خاتمے کے لیے مضبوط اور مربوط کوششیں کرنا ناگزیر ہے۔

بھارت کا ایچ آئی وی کی روک تھام کا سفر کئی جرأت مندانہ سنگِ میلوں سے عبارت ہے۔ ایچ آئی وی کے پھیلاؤ کو روکنے اور بچاؤ میں بروقت سرمایہ کاری نے وبا کے رخ کو پلٹ دیا، ایک پوری نسل کو بیماری اور تکلیف سے بچایا، اور صحت مند ڈیموگرافک ڈیوڈنڈ یعنی آبادیاتی منافع کو جنم دیا جس نے ملک کی اقتصادی ترقی میں اہم کردار ادا کیا۔این اے سی پی کی وسیع پیمانے پر خدمات فراہم کرنے کی قابلِ اعتماد کارکردگی اس آخری مرحلے کے لیے مضبوط بنیاد فراہم کرتی ہے۔ اور آج، پہلے سے کہیں زیادہ، سائنس بھارت کے ایچ آئی وی/ایڈز کے خاتمے کے وژن کے ساتھ کھڑی ہے۔ہمارا متحرک بایوٹیکنالوجی اور دواسازی کا شعبہ ادویات، ویکسین، اور تشخیصی آلات کی تیاری اور بڑے پیمانے پر فراہمی کو تیز رفتار بنا سکتا ہے—جو خاتمے کی کوششوں کو ایک آخری طاقت فراہم کرے گا۔

تاہم، ہزار میل کے سفر میں آخری میل ہمیشہ سب سے مشکل ہوتی ہے۔ایچ آئی وی/ایڈز کو عوامی صحت کے لیے خطرہ نہ رہنے دینے کا آخری مرحلہ صرف بایومیڈیکل نہیں—بلکہ سماجی، ڈیجیٹل، طرزِ عمل سے متعلق اور ساختی بھی ہے۔این اے سی پی-VI ایک ایسا مستقبل بین نقشۂِ راہ فراہم کرتا ہے جو تکنیکی طور پر جدید، وبائیاتی طور پر درست، اور سماجی حقیقتوں پر مبنی ہے۔عوامی صحت کے مضبوط نظام اور حکومت کے غیر متزلزل عزم کی بنیاد پر، بھارت اس موقع سے بھرپور فائدہ اٹھانے کے لیے تیار ہے—تاکہ دنیا کو دکھا سکے کہ وبا کا خاتمہ ممکن ہے، جب سائنس، کمیونٹی اور پالیسی ایک ساتھ چلیں۔

مصنفہ، نیشنل ایڈز کنٹرول آرگنائزیشن (این اے سی او)، وزارت صحت و خاندانی بہبود(ایم او ایچ ایف ڈبلیو) میں ایڈیشنل سیکرٹری اور ڈائریکٹر جنرل ہیں۔