تاثیر 22 نومبر ۲۰۲۵:- ایس -ایم- حسن
بہار کے حالیہ انتخابات نے نہ صرف ریاست کی سیاسی تصویرمیں تبدیلی لائی ہے بلکہ انڈیا اتحاد کی اندرونی کمزوریوں کو ایک بار پھر پوری شدت کے ساتھ بے نقاب کر دیا ہے۔ سخت مقابلے کے باوجود جو نتیجہ سامنے آیا ہے، اس کے تناظر میں اتحاد کی اجتماعی حکمتِ عملی، قیادت کے کردار اور باہمی اعتماد پرسوالات اٹھنے شروع ہو گئے ہیں۔ اب صورتِ حال محض ناراضگی تک محدود نہیں، بلکہ کئی علاقائی جماعتیں کھل کر اتحاد کی سمت، طرزِ قیادت اور فیصلہ سازی کے طریقے پر ا نگلیاں اٹھانے لگی ہیں۔ بہار میں شکست کے بعد اتحاد سب سے بڑے داخلی بحران سے دوچار ہے، اور یہی لمحہ اس کے مستقبل کے تعین میں فیصلہ کن ثابت ہو سکتا ہے۔
اتحاد کے اندرسب سے پہلی دراڑ اُس وقت گہری ہوئی تھی، جب جھارکھنڈ مکتی مورچہ (جے ایم ایم) نے بہار میں نشستوں کی تقسیم کے فارمولے سے خود کو الگ کر لیا تھا۔ پارٹی نے کانگریس سمیت بڑے پارٹنرز پر یہ الزام لگایا کہ انہیں برابر کا شراکت دار سمجھنے کے بجائے ایک حاشیائی قوت سمجھا جاتا رہا اور سابقہ وعدوں کو پورا نہیں کیا گیا۔ اس ناراضگی کی بازگشت ابھی بھی جھارکھنڈ کی سیاسی گلیاروں میں گونج رہی ہے، جہاں جے ایم ایم اپنی آئندہ حکمتِ عملی پر نظر ثانی کر رہی ہے۔ یہ محض ایک صوبائی اختلاف نہیں بلکہ اس بات کی علامت ہے کہ اتحاد کے اندر علاقائی جماعتوں کا اعتماد تیزی سے متزلزل ہو رہا ہے۔دوسری طرف، شیوسینا (یو بی ٹی) نے بہار کے نتائج کو اپوزیشن کےلئے’’خطرے کی گھنٹی‘‘ قرار دیا ہے۔ پارٹی کے سینئر رہنما اس بات پر سخت ناراض ہیں کہ ریاستی سطح پر کانگریس کی بعض یونٹوں نے اتحادیوں سے مشورہ کیے بغیر متعدد نشستوں پر یکطرفہ امیدوار میدان میں اتارے، جس سے مشترکہ حکمتِ عملی متاثر ہوئی۔ یو بی ٹی کا یہ مؤقف بھی کچھ کمزور نہیں ہے کہ اگر بڑے پارٹنرز فیصلہ سازی میں شریک مشاورت کو نظر انداز کریں گے تو اتحاد نہ مضبوط رہ سکتا ہے اور نہ مؤثر۔
سماج وادی پارٹی نے بھی کھل کر کہا ہے کہ مستقبل کے لئے اتحاد میں بنیادی اصلاحات ناگزیر ہیں۔ ایس پی کے صدر اکھلیش یادو نے نہ صرف انتخابی بے ضابطگیوں کی نشاندہی کی ہے بلکہ اس خدشے کا اظہار بھی کیا ہے کہ اگر ایسے انتظامی مداخلتوں کو نہ روکا گیا تو آنے والے انتخابات میں بھی ایسی ہی صورتحال دوہرائی جا سکتی ہے۔ ایس پی اس وقت اس بحث کی قیادت کرتی نظر آ رہی ہے کہ انڈیا اتحاد کو زیادہ غیر مرکزی، شفاف اور سب کو ساتھ لے کر چلنے والی قیادت کی ضرورت ہے،اور یہ مطالبہ صرف سیاسی نہیں بلکہ عملی حقیقت سے جڑا ہے۔دوسری جانب عام آدمی پارٹی، جس نے بہار کے انتخابات سے پہلے ہی الگ راستہ اختیار کر لیا تھا، آج اپنے فیصلے کو درست ثابت ہوتا دیکھ رہی ہے۔پارٹی کا مؤقف ہے کہ اگر نشستوں کی تقسیم اور فیصلہ سازی میںعلاقائی جماعتوںکے جائز خدشات کو نظر انداز کیا گیا تو وہ اپنے راستے الگ کرنے میں ہچکچاہٹ محسوس نہیں کریں گی۔
کانگریس کے لئے یہ لمحہ خاص طور پر مشکل ہے۔ بہار جیسے اہم ہندی بیلٹ ریاست میں خراب کارکردگی نے نہ صرف اس کی پوزیشن کو کمزور کیا ہے بلکہ اس کی سودے بازی کی قوت بھی گھٹا دی ہے۔ کئی اتحادی پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ کانگریس کو اپنے تنظیمی ڈھانچے، امیدواروں کے انتخاب، انتخابی حکمت عملی اور زمینی مشینری میں بنیادی اصلاحات کرنا ہوں گی۔ مزید یہ کہ اتحاد کی فیصلہ سازی میں شفافیت کا فقدان ایک مستقل مسئلہ ہے ،جسے دور کیے بغیر کوئی بھی اپوزیشن محاذ پائیدار نہیں ہو سکتا۔سیاسی مبصرین کا ماننا ہے کہ انڈیا اتحاد ایک ایسے موڑ پر کھڑا ہے، جہاں فوری اور دور رس دونوں طرح کے فیصلے ناگزیر ہیں۔ قلیل مدتی ضرورت یہ ہے کہ اتحادی جماعتوں کے درمیان رابطے کو مؤثر بنایا جائے، اعتماد سازی کے اقدامات کیے جائیں، اور نشستوں کی تقسیم کے فارمولے پر واضح اور اصولی اتفاق رائے قائم ہو۔ طویل مدتی ضرورت اس سے کہیں زیادہ بڑی ہے،اتحاد کو یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ کیا وہ علاقائی جماعتوں کی قوت اور ان کی زمینی حقیقتوں کو تسلیم کرتے ہوئے اپنی ساخت تبدیل کرنے کو تیار ہےیا وہ پرانے طرزِ عمل پر قائم رہ کر مزید شکستوں کا سامنا کرے گا۔
بہر حال بہار کے حالیہ نتائج نے واضح کر دیا ہے کہ محض انتخابی نعرے لگانے، جلسے جلوس منعقد کرنے اور شعوری یا غیر شعوری طور پر’ہم چنیں دیگرے نیست ‘ کی ہواؤں میں اڑنے سے بات بننے والی نہیں ہے۔ اپوزیشن کو اب ایک منظم، اصولی، مشاورتی اور باہمی احترام پر مبنی فریم ورک کی ضرورت ہے۔ اگرچہ انڈیا اتحاد کے لئے یہ راستہ مشکل ضرور ہے، مگر وہ اختیار کر لیتا ہے، تو آنے والے انتخابات میں نئی امید پیدا کی جا سکتی ہے۔ بصورت دیگر ماضی کے کئی سیاسی محاذوں کی طرح یہ اتحا بھی عنقریب ہی تاریخ کے حاشئےمیں کہیںگم ہو جائے گا۔

