سب کے لیے صحت کی دیکھ بھال: جی ایس ٹی اصلاحات کس طرح بھارت کی بہبود کی کہانی کو ازسرِ نولکھ رہی ہیں

تاثیر 7 نومبر ۲۰۲۵:- ایس -ایم- حسن

پروفیسر بیجون کمار مشرا

56 ویں جی ایس ٹی کونسل کا فیصلہ معیاری اور محفوظ صحت کی دیکھ بھال کو ہر بھارتی کے لیے سستا اور قابل رسائی بنانے میں ایک اہم موڑ کی نشان دہی کرتا ہے۔
بعض پالیسی فیصلے نظام میں ترمیم کرتے ہیں، اور بعض ایسی نایاب اصلاحات لاتے ہیں جو زندگیوں کو نئی شکل دینے کی طاقت رکھتی ہیں۔ 56 ویں جی ایس ٹی کونسل کی جامع ہیلتھ کیئر ٹیکس اصلاحات فیصلہ کن طور پر مؤخر الذکر زمرے میں آتی ہیں۔ ایک ایسے فرد کے طور پر جس نے چار دہائیوں سے زیادہ عرصے تک بھارت کے ہیلتھ کیئر کے منظر نامے کو ارتقا پذیر ہوتے ہوئے دیکھا ہے، میں یقین کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ یہ ایک انقلاب آفریں فیصلہ ہے۔

جب حکم رانی رحم دلی سے ہم کنار ہوتی ہے

ٹیئر-2 انڈیا میں ایک ماں کا تصور کریں جو اپنے بچے کو ایک نایاب جینیاتی بیماری سے جوجھتے ہوئے دیکھ رہی ہے۔ کچھ عرصہ پہلے تک، علاج کی آسمان چھوتی لاگت کا مطلب ناممکن انتخاب تھا – آبائی گھر بیچنا، کچل کر رکھ دینے والی سود کی شرحوں پر قرض لینا، یا بے بسی سے ہاتھ ملنا۔ زندگی بچانے والی 36 ادویات کو جی ایس ٹی سے مکمل طور پر مستثنیٰ کرنے کا حکومت کا فیصلہ اس ظالمانہ صورت حال کو مکمل طور پر بدل دیتا ہے اور اس ماں

کے چہرے پر مسکراہٹ لاتا ہے۔

یہ کوئی اضافی رد بدل نہیں ہے۔ کینسر کے علاج، عوارضِ قلب کی ادویات، جینیاتی عارضوں اور نایاب بیماریوں کا علاج – یہ سب اب مکمل طور پر جی ایس ٹی سے مسثنیٰ ہیں۔ جب کم یاب امراض کی قومی پالیسی کے ساتھ مل کر جو 50 لاکھ روپے تک کی مالی امداد فراہم کی جاتی ہے، تو ہم نایاب بیماریوں سے متاثرہ 72 ملین بھارتیوں کے لیے ایک جامع سیفٹی نیٹ کا مشاہدہ کر رہے ہیں۔ یہ انسانیت کی ہمدرد حکم رانی ہے۔

امید کی ریاضی

اعداد و شمار بسا اوقات انسانی کہانیوں کو دھندلا دیتے ہیں، لیکن اس معاملے میں، وہ انھیں روشن کرتے ہیں۔ غور کریں کہ عملی طور پر ان اصلاحات کا کیا مطلب ہے:
جینیاتی کولیسٹرول ڈس آرڈر کا علاض کروانے والا ایک مریض سالانہ تقریباً 48,000 روپے کی بچت کرتا ہے۔ فیبری بیماری سے لڑنے والے کسی شخص کے لیے، جو گردوں، دل اور اعصابی نظام کو متاثر کرنے والی ایک نایاب بیماری ہے، علاج کی لاگت میں سالانہ 19 لاکھ روپے تک کی کمی آسکتی ہے۔ یہاں تک کہ زیادہ عام دائمی عوارض کے لیے بھی، یہ راحت بہت بڑی ہے، ذیابیطس اور ہائی بلڈ پریشر کے مریضوں کے لیے سالانہ 6،000 روپے تک کی بچت ہوتی ہے۔
یہ بچتیں نہ صرف بجٹوں میں راحت دیتی ہیں، بلکہ زندگیاں بھی بچاتی ہیں۔ بچایا جانے والا ہر روپیہ وہ روپیہ ہے جو علاج پر جمے رہنے کو یقینی بناتا ہے، خاندانوں کو طبی دیوالیہ پن میں پڑنے سے محفوظ رکھتا ہے، اور مریضوں کو بیماری سے لڑتے ہوئے وقار و تحفظ کو برقرار رکھنے میں مدد دیتا ہے۔

طبی کابینہ سے آگے

ان اصلاحات کی ذہانت ان کی جامع رسائی میں مضمر ہے۔ ضروری ادویات پر جی ایس ٹی کو 12 فیصد سے کم کر کے 5 فیصد، طبی آلات پر جی ایس ٹی کو 18 فیصد / 12 فیصد سے کم کر کے 5 فیصد کر کے حکومت نے ہیلتھ کیئر کی پوری ویلیو چین کو حل کیا ہے۔ صحت اور زندگی کی انشورنس پریمیم کی مکمل استثنیٰ خاص طور پر اہم ہے – یہ تسلیم کرتا ہے کہ مالی تحفظ اتنا ہی اہم ہے جتنا کہ خود علاج۔
یہ صرف آج ہیلتھ کیئر کو سستا بنانے کے بارے میں نہیں ہے۔ یہ اسے مستقبل کے لیے پائیدار بنانے کے بارے میں بھی ہے۔ ضروری اور پیچیدہ جنرک ادویات کی مقامی مینوفیکچرنگ کی ترغیب دے کر، یہ اصلاحات ’آتم نربھر بھارت‘ سے ہم آہنگ ہیں جب کہ یہ یقینی بناتی ہیں کہ بھارت درآمدی انحصار کے لیے یرغمال نہ بنا رہے۔ ایک آسان ٹیکس ڈھانچے کا مطلب یہ ہے کہ دواساز کمپنیاں تعمیل جمناسٹکس کے بجائے جدت اور معیار پر توجہ مرکوز کرسکتی ہیں۔

رِپل ایفیکٹ

مجھے جو چیز سب سے زیادہ پرجوش کرتی ہے وہ یہ ہے کہ یہ اصلاحات اچھا چکر پیدا کرتی ہیں۔ کم اخراجات کا مطلب علاج کی بہتر پابندی ہے۔ علاج پر بہتر جمے رہنے کا مطلب ہے صحت کے بہتر نتائج۔ بہتر نتائج کا مطلب ہے طویل مدتی ہیلتھ کیئر کے بوجھ میں تخفیف۔ سستی احتیاطی دیکھ بھال کا مطلب ہے ابتدائی مداخلت۔ ابتدائی مداخلت کا مطلب ہے بہتر تشخیص اور کم مجموعی اخراجات۔
یکایک یومیہ اجرت پر کام کرنے والے مزدور کو دواؤں اور کھانے میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنے کی ضرورت نہیں رہی۔ متوسط طبقے کے خاندان کو صحت کی ہنگامی صورت حال کے لیے بچت چلانے کی ضرورت نہیں رہی۔ بوڑھوں کو طبی اخراجات کے لیے مکمل طور پر بچوں پر انحصار کرنے کی ضرورت نہیں رہی۔ ہیلتھ انشورنس قابل رسائی بن جاتا ہے، تمنائی نہیں۔

وکست بھارت کے لیے ایک سانچہ

چوں کہ بھارت 2047 تک ایک ترقی یافتہ ملک بننے کا خواہشمند ہے، یہ اصلاح ایک اہم بصیرت پیش کرتی ہے: صحت کی حفاظت کے بغیر اقتصادی ترقی ایک کھوکھلی پیش رفت ہے۔ 56 ویں جی ایس ٹی کونسل نے تسلیم کیا ہے کہ ’وکست بھارت‘ سب سے پہلے ایک صحت مند بھارت ہونا چاہیے – ایک ایسا بھارت جہاں طبی تشخیص مالی تباہی کا باعث نہ بنے، جہاں علاج کا تعین صلاحیت کی ادائیگی کے بجائے طبی ضرورت سے ہو۔
انقلابی حکم رانی ایسی ہی نظر آتی ہے – حاشیے پر چھوٹی موٹی ترمیمیں نہیں بلکہ بنیادی اصولوں کو ازسر نو سوچنا۔ یہ اس بات کو تسلیم کرنے کے بارے میں ہے کہ ہیلتھ کیئر ٹیکس لگانے کے لیے ایک پرتعیش چیز نہیں بلکہ شہریوں کو فعال کرنے کے لیے ایک بنیادی ضرورت ہے۔

آگے کا راستہ

یقیناً صرف ٹیکس اصلاحات ہی بھارت کے ہیلتھ کیئر کے تمام چیلنجوں کو حل نہیں کریں گی۔ ہمیں اب بھی مزید ڈاکٹروں، بہتر انفراسٹرکچر، مضبوط بنیادی صحت کے مراکز، دواسازی کی جدت طرازی اور تخلیقی ہیلتھ انشورنس کے پراڈکٹس کی ضرورت ہے۔ لیکن مغالطے میں نہ پڑیں: جی ایس ٹی کی ان اصلاحات نے سوئی کو نمایاں طور پر حرکت دی ہے۔ انھوں نے دکھایا ہے کہ جب پالیسی رحم دلی اور وژن کے ساتھ گوندھی جاتی ہے تبھی حقیقی تبدیلی ممکن ہوتی ہے۔جیسے جیسے اصلاحات کے بعد فروخت کے اعداد و شمار اور کیس اسٹڈیز سامنے آرہے ہیں، ہم اس چیز کی توثیق دیکھ رہے ہیں جو ہمیشہ اخلاقی طور پر واضح تھی: قابل رسائی ہیلتھ کیئر صرف اچھی اخلاقیات نہیں ہے – یہ اچھی معاشیات ہے۔ صحت مند شہری ثمر آور شہری ہوتے ہیں۔ محفوظ خاندان مستحکم خاندان ہوتے ہیں۔ ایک بیمہ شدہ آبادی ایک پراعتماد آبادی ہوتی ہے۔
56 ویں جی ایس ٹی کونسل نے بھارت کو ٹیکس سے کہیں بڑھ کر راحت دی ہے۔ اس نے لاکھوں خاندانوں کو کہیں زیادہ قیمتی چیز دی ہے: امید۔ امید اس کی کہ بیماری کا مطلب غربت نہیں۔ امید اس کی کہ علاج ممکن ہے۔ امید اس کی کہ کل آج سے زیادہ صحت مند ہو سکتا ہے۔
وکست بھارت کے سفر کی کہانی میں، اس اصلاح کو ایک اہم موڑ کے طور پر یاد رکھا جائے گا – وہ لمحہ جب ہیلتھ کیئر نے صحیح معنوں میں مراعات سے حق تک، امنگ سے حقیقت تک اپنا سفر شروع کیا تھا۔
یہ محض ایک اچھی پالیسی نہیں ہے، یہ تبدیلی کی قیادت ہے۔

*********
(پرروفیسر بیجون کمار مشرا نیشنل لا یونیورسٹی حیدرآباد میں اعزازی پروفیسر ہیں)