جیو کا آئے گاریکارڈ توڑ آئی پی او

تاثیر 6 نومبر ۲۰۲۵:- ایس -ایم- حسن

بینکروں کو ویلویشن170 ارب ڈالر تک ہونے کی توقع۔ بلومبرگ
بیس سو چھببس میں آسکتا ہے جیو پلیٹ فارم لمیٹڈ کا آئی پی او
فہرست سازی کے بعد ملک کی سرفہرست تین کمپنیوں میں ہوسکتی ہے شامل

نئی دہلی، 6 نومبر2025۔ جیو پلیٹ فارمز لمیٹڈ کی ویلیویشن170 ارب ڈالر تک پہنچ سکتی ہے۔ انویسٹمنٹ بینکرز کا خیال ہے کہ کمپنی کی ممکنہ تشخیص اسے ہندوستان کی دو یا تین بڑی کمپنیوں میں جگہ دے سکتی ہے۔ یہ تعداد بھارتی ایئرٹیل جیسی کمپنیوں سے بھی زیادہ ہے۔ ایئر ٹیل کی موجودہ ویلیو تقریباً 12.7 لاکھ کروڑ( 143 ارب ڈالر)ہے۔ جیو پلیٹ فارم لمیٹڈ کاآئی پی او 2006 کے بعد سے ریلائنس سے وابستہ کسی بڑے ادارے کی پہلی عوامی پیشکش ہوگی۔ ریلائنس پٹرولیم کو 2006 میں درج کیا گیا تھا۔
بلومبرگ کے مطابق، انویسٹمنٹ بینکرز نے جیو کے لیے 130 ارب ڈالر سے 170 ارب ڈالر کی قیمت تجویز کی ہے۔ فی الحال بات چیت جاری ہے، اور کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا ہے۔ اس سے پہلے، 27 ستمبر کو، آئی سی آئی سی آئی سیکورٹیز، ملک کے ایک سرکردہ بروکریج ہاؤس نے جیو پلیٹ فارم لمیٹڈ کی ایکویٹی ویلیو کو148 ارب ڈالر تک اپ گریڈ کیا تھا۔
ریلائنس انڈسٹریز کے چیئرمین مکیش امبانی نے اگست میں کہا تھا کہ جیو کی فہرست 2026 کی پہلی ششماہی میں ہو سکتی ہے۔ امبانی 2019 سے ہی جیو کے ممکنہ آئی پی او کے بارے میں بات کر رہے ہیں۔ 2020 میں، میٹا پلیٹ فارم ( فیس بُک) اور الفا بیٹ( گوگل)جیسی کمپنیوں نے جیو میں 10 ارب ڈالر سے زیادہ کی سرمایہ کاری کی۔ ستمبر کے آخر تک، جیو کے تقریباً 506 کروڑ سبسکرائبرز تھے، اور فی صارف اوسط آمدنی (ARPU)۔211.4 روپے تھی۔ اس معاملے پر ریلائنس کی طرف سے کوئی سرکاری تبصرہ نہیں کیا گیا ہے۔