تاثیر 30 نومبر ۲۰۲۵:- ایس -ایم- حسن
لداخ , 30 نومبر:لداخ کے لیفٹننٹ گورنر کویندر گپتا نے کہا کہ خطے کی مشہور پشمینہ صرف ایک تجارتی شے نہیں بلکہ ایک ثقافتی ورثہ ہے جس میں صدیوں پر محیط ہنر اور روایت پوشیدہ ہے۔ انہوں نے یقین دلایا کہ انتظامیہ اس قیمتی اور اعلیٰ معیار کے ریشے کو عالمی سطح پر فروغ دینے کے لیے پوری طرح پرعزم ہے۔
یہ بات انہوں نے اپشی پشمینہ گوٹ فارم کے دورے کے موقع پر کہی، جہاں وہ پشمینہ کی پیداوار کو مضبوط بنانے، مقامی بکری کی نایاب نسل کے تحفظ اور خانہ بدوش برادریوں کی روزی روٹی کے استحکام سے متعلق اقدامات کا جائزہ لینے پہنچے۔
ایک سرکاری ترجمان کے مطابق، دورے کے دوران ڈسٹرکٹ شیپ ہسبینڈری آفیسر صوبانگ مورپ نے لیفٹننٹ گورنر کو فارم کی موجودہ صورتحال، بکریوں کی تعداد، برفانی چیتے سمیت دیگر جنگلی جانوروں سے بچاؤ کے انتظامات، اور سردیوں میں اضافی چارے کی فراہمی کے بارے میں بریفنگ دی۔ انہوں نے بتایا کہ یہ اقدامات پشمینہ بکریوں کی صحت اور بہتر پیداوار کو برقرار رکھنے کے لیے نہایت اہم ہیں۔
لیفٹننٹ گورنر نے افزائشِ نسل کے طریقہ کار، چارہ و خوراک کے انتظام، جانوروں کی طبی دیکھ بھال اور پشمینہ کے معیار اور پیداوار میں اضافہ کرنے والے اقدامات کا جائزہ لیا۔ انہوں نے کہا کہ لداخ کی پشمینہ اپنی نفاست اور عالمی شہرت کی وجہ سے دنیا بھر میں ممتاز مقام رکھتی ہے۔
گپتا نے کہا کہ لداخ کی پشمینہ صرف تجارتی دولت نہیں بلکہ ہمارا ثقافتی خزانہ ہے، اور انتظامیہ اس بات کے لیے کوشاں ہے کہ بلند علاقوں میں رہنے والے چرواہوں اور پشمینہ کو عالیشان مصنوعات میں ڈھالنے والے ہنرمندوں دونوں کا مضبوط اور پائیدار نظام تشکیل دیا جائے۔

