تاثیر 7 نومبر ۲۰۲۵:- ایس -ایم- حسن
نیو یارک، دنیا کا وہ شہر جو کبھی خوابوں کا گھر کہلاتا تھا، آج وہاں ایک نئی صبح نظر آرہی ہے۔ 4 نومبر، 2025 کو 34 سالہ ایک نوجوان ظہران کوامے ممدانی نے میئر کا انتخاب جیت کر تاریخ رقم کی ہے۔1892 کے بعد ممدانی نہ صرف شہر کے سب سے کم عمر بلکہ پہلے جنوبی ایشیائی نژاد اور پہلے مسلمان میئر ہیں ۔ظہران ممدانی کی یہ کامیابی کوئی موروثی سیاست کی توسیع نہیں، بلکہ محنت کشوں، تارکین وطن اور مظلوموں کی مشترکہ آواز کی جیت ہے۔ فتح کے بعد اپنے پُرجوش خطاب میں ممدانی نے کہا تھا:’’اگرچہ آج شام نیو یارک پر سورج غروب ہو چکا ہے، مگر میں انسانیت کے لئے ایک نئے دن کی صبح دیکھ رہا ہوں۔‘‘
ظہران ممدانی 18 اکتوبر، 1991 کو یوگنڈا کے کمپالا میں پیدا ہوئے۔ والد محمود ممدانی، افریقی مطالعات کے عالمی ماہر؛ والدہ میرا نائر، ایک مشہور فلم ساز،جن کی فلمیں ’سلام بمبئی‘ اور ’مون سون ویڈنگ ‘نے دنیا کو ہندوستانی ثقافت سے متعارف کرایا ہے ۔ والد اور والدہ دونوں ہندوستانی نزاد ہیں۔ پانچ سال کی عمر میں ظہران ممدانی کی فیملی جنوبی افریقہ منتقل ہوگئی، جہاں’’اپارتھائیڈ (1994۔1948)‘‘ کا رسمی خاتمہ تو ہو چکا تھا، مگر اس کی باقیات ابھی تک زندہ تھیں یعنی سیاہ فام برادریوں میں غربت، بے روزگاری، ناقص تعلیم؛ سفید فاموں کے ہاتھوں میں زمین اور دولت کا ارتکاز؛ اسکولوں اور محلات میں نسل کی بنیاد پر سماجی تقسیم جیسے متعدد مسائل منہ پھاڑے کھڑے تھے۔
کیپ ٹاؤن کے سدرن سبربز میں رہتے ہوئے ظہران نے یہ نابرابریاں قریب سے دیکھیں، جو ان کی سیاسی سوچ کی جڑ بنیں۔ سات سال کی عمر میں نیو یارک آئے۔ برونکس ہائی سکول آف سائنس اور بوڈوئن کالج سے تعلیم حاصل کی، جہاں فلسطین کے حق میں جدوجہد شروع کی۔ ہاؤسنگ کونسلر کے طور پر تارکین وطن کو بے دخلی سے بچایا۔اور یہی تجربہ ایک دن انکے سیاسی سفر کا سامان بن گیا۔
2020 میں نیو یارک اسٹیٹ اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ ڈیموکریٹک سوشلسٹ آف امریکہ کے رکن کے طور پر رینٹ فریز، فری بس سروس اور یونیورسل چائلڈ کیئر کے بل پیش کیے۔ 2025 کی مہم میں اینڈریو کوومو کو پرائمری اور جنرل الیکشن دونوں میں شکست دی۔ انتخاب سے قبل زہران ممدانی نے کہا تھا کہ’’ اس سیاسی اندھیرے کے دور میںنیویارک کو روشنی بننے دینا ہوگا۔ یہ شہر پورے ملک کے لئے ایک مثال ثابت ہوگا۔ ایک ایسا شہر جو ہر طبقے اور ہر برادری کے حقوق کا محافظ بنے۔ چاہے آپ ایک مہاجر ہوں، ٹرانس کمیونٹی سے تعلق رکھتے ہوں، کوئی سیاہ فام خاتون ہوں ،جنہیں ٹرمپ نے نوکری سے نکالا ہے، یا ایک اکیلی ماں ہیں، جو اب بھی راشن سستا ہونے کی امید میں ہیں ، آپ کی جدوجہد، ہماری جدوجہد ہے۔ہماری حکومت ایک ایسا سٹی ہال بنائے گی، جو ہر مذہب اور قوم کے ساتھ کھڑا ہو۔ ہم یہودی شہریوں کے خلاف نفرت کا ڈٹ کر مقابلہ کریں گے، اور نیویارک کے دس لاکھ مسلمانوں کو یہ احساس دلائیں گے کہ یہ شہر ان کا بھی ہے۔ اب وہ دور شروع ہو چکا ہے، جب عوام اپنے رہنماؤں سے بہانے نہیں، بلکہ جرات مندانہ وژن کی توقع رکھیں گے۔ ہم زندگی کے بڑھتے اخراجات کے خلاف ایک ایسا منصوبہ لائیں گے، جو دہائیوں سے اس شہر نے نہیں دیکھا ہے۔ شہر میں 20 لاکھ کرایہ داروں کے لئے کرائے منجمد کیے جائیں گے، بسیں مفت اور تیز ہوں گی، اور ہر بچے کو معیاری تعلیم اور نگہداشت فراہم کی جائے گی۔ ہم ہزاروں نئے اساتذہ بھرتی کریں گے، غیر ضروری اخراجات کم کریں گے، اور پولیس کے ساتھ مل کر جرائم میں کمی لائیں گے تاکہ انصاف اور تحفظ ساتھ ساتھ چل سکیں۔ ایک نیا محکمہ برائے ’’کمیونٹی سیفٹی‘‘ قائم کیا جائے گا ،جو ذہنی صحت اور بے گھری کے بحران کا براہِ راست مقابلہ کرے گا۔‘‘ انھوں نے اس بات کو بار بار دہرایا کہ تنقید کا جواب نفرت نہیں، بلکہ بہتر پالیسی ہے۔
ظہران ممدانی کی تاریخی فتح نے بھارت میں بھی فخر کی لہر دوڑا دی ہے۔یہاں انہیں بھارتی جڑوں کا فخر اور امریکی خواب کی زندہ تصویر قرار دیا جا رہا ہے۔ مشہور فلم ساز میرا نائر کے بیٹے ہونے کی وجہ سے بالی ووڈ اور فنکار برادری نے انھیں گرمجوشی سے مبارکباد دی ہے؛ مشہور اداکارہ اور سماجی کارکن شبانہ اعظمی نے ٹرمپ کی منفی مہم کی مذمت کرتے ہوئے ان کی جیت کو’’امید کی کرن‘‘ کہا ہے۔ انڈیا بلاک نے بھی خوشی کا اظہار کیا ہے۔کانگریس رہنما عمران مسعود کا ماننا ہے یہ ٹرمپ کو مناسب جواب ہے۔ انڈین ایکسپریس اور ٹائمز آف انڈیا جیسے میڈیا نے نہرو کے حوالے سےظہران ممدانی کی فاتحانہ تقریر کو خوب سراہا ہے۔گرچہ چند ’’سخت گیر ہندتو‘‘ حامی ان کی فلسطین نواز ی کے لئے انھیں تنقید کا نشانہ بھی بنایا ہے۔ ویسے مجموعی طور پر، ظہران ممدانی کی یہ جیت بھارتی تارکینِ وطن کے لئے انصاف اور تنوع کی علامت بن گئی ہے، جو سرحدوں سے ماورا انسانی حقوق کی جدوجہد کی یاد دلاتی ہے۔ساتھ ہی یہ بتاتی ہے کہ نیو یارک متنوع شہر ہے۔یہاں یوگنڈا سے آیا مسلمان لڑکا میئر بن سکتا ہے۔ چیلنجز بہت ہیں، تاہم ممدانی نے یہ ثابت کردیا ہے کہ عوامی طاقت سے تبدیلی ممکن ہے۔ وہ انسانیت کی نئی نسل کی نمائندگی کرتے ہیں، جو نسل، مذہب اور سرحدوں سے ماورا انصاف کی طلب گار ہے۔نیو یارک کی یہ فتح پوری دنیا کےلئے یہ پیغام ہے کہ جب مظلوم مضبوطی کے ساتھ متحد ہوں تو تاریخ بدل سکتی ہے۔ یقین ہے ،یکم جنوری 2026 کو حلف اٹھاتے ہوئے ظہران ممدانی صرف میئر نہیں، انسانیت کی ایک بڑی امید بنیں گے۔
**************

