جہیز کی مانگ سے تنگ آکر نو شادی شدہ خاتون نے کی خودکشی

تاثیر 9 نومبر ۲۰۲۵:- ایس -ایم- حسن

سہرسہ(سالک کوثر امام) ضلع کے سمری بختیار پور تھانہ حلقے میں پیر کی رات ایک نوشادی شدہ خاتون کی اس کے سسرال میں موت ہو گئی۔ متوفیہ کے اہل خانہ نے اس کے شوہر اور سسر پر جہیز کے لیے قتل کا الزام لگایا ہے۔ واقعے کے بعد سے سسرال کے تمام افراد فرار ہیں۔ پولیس نے لاش کو تحویل میں لے کر تفتیش شروع کر دی ہے۔
متوفیہ کی شناخت 18 سالہ روپم کماری کے طور پر کی گئی ہے جو سمری بختیار پور تھانہ حلقہ کے ایکپرہا وارڈ 8 کے رہنے والے بھگوان گوسوامی کی بیوی ہے۔ روپم سات بہن بھائیوں میں سب سے چھوٹی تھی۔ اس کی شادی اسی سال اگست کے مہینے میں ہندو رسم و رواج کے مطابق ہوئی تھی۔ اس کا شوہر دہلی میں مزدوری کرتا ہے، لیکن واقعہ کے دن وہ گاؤں میں تھا۔
کھگڑیا ضلع کے مریا تھانے کے تحت بلتھا گاؤں کے وارڈ نمبر 11 میں رہنے والے متوفیہ کے چچا نے بتایا کہ ان کی بھانجی کی شادی میں کچھ تحفہ دیا گیا تھا، لیکن داماد بھگوان گوسوامی موٹر سائیکل کا مطالبہ کر رہا تھا۔ اس مطالبہ کو لے کر روپم کو گزشتہ ایک ہفتے سے ہراساں کیا جا رہا تھا۔
پیر کو روپم کے سسر اور شوہر نے اسے اپنے والدین کے گھر سے بائیک لانے کو کہا۔ روپم نے بتایا کہ اس کے والد کے پاس پیسے نہیں تھے۔ اس کے بعد گھر والوں کو اطلاع ملی کہ روپم نے پھانسی لگا کر خودکشی کر لی ہے۔ جب اس کے والدین اس کے سسرال پہنچے تو گھر کے سبھی لوگ بھاگ چکے تھے اور روپم کی لاش صحن میں پڑی تھی۔
تھانہ سمری بختیار پور کی پولیس نے جائے وقوعہ پر پہنچ کر لاش کو قبضے میں لے لیا۔ تھانہ انچارج امرناتھ کمار نے بتایا کہ لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے بھیج دیا گیا ہے۔ موت کی اصل وجہ پوسٹ مارٹم رپورٹ آنے کے بعد ہی معلوم ہو سکے گی۔ پولیس فی الحال ضروری کارروائی کر رہی ہے۔