پاکستان کی سیکورٹی فورسز نے خیبر پختونخوا میں تین دن میں ٹی ٹی پی کے 38 لڑاکوں کو ہلاک کر دیا

تاثیر 19 نومبر ۲۰۲۵:- ایس -ایم- حسن

اسلام آباد، 19 نومبر: پاکستان کی سیکورٹی فورسز نے گزشتہ تین دن میں دہشت گردوں کی تلاش کے دوران شورش زدہ صوبے خیبر پختونخوا میں ممنوعہ تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے 38 باغی لڑاکوں کا صفایا کر دیا۔ فوج کے شعبہ رابطہ عامہ انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (آئی ایس پی آر) نے اسے بڑی کامیابی قرار دیا ہے۔ صدر اور وزیراعظم نے اس کامیابی پر سیکورٹی فورسز کی تعریف کی ہے۔
ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق، آئی ایس پی آر نے منگل کی شام کہا کہ خیبر پختونخوا میں تین دن کے عرصے میں چار مختلف خفیہ اطلاعات پر مبنی آپریشنز (آئی بی او) میں ٹی ٹی پی کے 38 ارکان مارے گئے۔ 15 اور 16 نومبر کے آپریشنز میں بڑی کامیابی حاصل ہوئی۔ پہلے آپریشن میں سیکورٹی فورسز نے ڈیرہ اسماعیل خان ضلع کے کولاچی علاقے میں دہشت گردوں کے ٹھکانے پر قبضہ کر لیا۔ یہاں ٹی ٹی پی کے خزانچی عالم محسود سمیت دس ارکان مارے گئے۔آئی ایس پی آر نے بتایا کہ شمالی وزیرستان ضلع کے دتہ خیل میں آپریشن کے دوران فوجی اہلکاروں نے مزید پانچ ارکان کو مار گرایا۔ اس کے بعد ایک الگ بیان میں آئی ایس پی آر نے کہا کہ 17-16 نومبر کے درمیان باجور ضلع اور بنوں ضلع میں دو آپریشن کیے گئے۔ ان میں بالترتیب 11 اور 12 ٹی ٹی پی کے لڑاکے مارے گئے۔ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ان کا سرغنہ سجاد عرف ابو ذر بھی باجور آپریشن میں مارا گیا۔