تاثیر 9 نومبر ۲۰۲۵:- ایس -ایم- حسن
گرچہ بہار اسمبلی انتخابات کا تشہیری شور سناّٹے میں تبدیل ہو چکا ہے، مگر ریاست کی چناوی ہلچل میں ذرا بھی کمی نہیں آئی ہے۔یعنی ہر طرف سنّاٹا بھی ہے اور اس کے اندر چناوی جنگ کا شور بھی۔اسی فضا میں کل 11 نومبر کو دوسرے مرحلے کی ووٹنگ ریاست کے 20 اضلاع کی 122 نشستوں پر ہونے جا رہی ہے۔ان میں ترہت ،سیمانچل اور مگدھ کے علاقے سب سے زیادہ اہمیت کے حامل ہیں۔ ان تین خطوں کے نتائج نہ صرف بہار میں اقتدار کا فیصلہ کریں گے بلکہ آنے والے برسوں میں ریاست کی سیاسی ساخت پر بھی اثر انداز ہوں گے۔ترہت کی 40 نشستیں، سیمانچل کی 24 اور مگدھ خطےکی 26 نشستیں مجموعی طور پر اس انتخابی جنگ کا مرکز بن چکی ہیں۔ 2020 کے انتخابات میںترہت میں این ڈی اے نے زبردست کامیابی حاصل کی تھی، جب کہ مگدھ میں مہاگٹھ بندھن نے اپنی مضبوط گرفت برقرار رکھی تھی۔ حالانکہ سیمانچل میں مسلم اکثریتی ووٹوں کی تقسیم نے مہاگٹھ بندھن کو شدید نقصان پہنچایاتھا۔وہاں آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (ایم آئی ایم آئی ایم) کی غیر متوقع کامیابی نے انتخابی نقشہ بدل دیا تھا۔
اس بار انتخابی فضا میں صورتحال پہلے سے کہیں زیادہ دلچسپ ہو چکی ہے۔سیمانچل کے چار اضلاع، کشن گنج، ارریہ، کٹیہار اور پورنیہ، میں اوسطاً 35 سے 60 فیصد تک مسلم ووٹر زہیں۔ یہی ووٹرز فیصلہ کن کردار ادا کر سکتے ہیں۔ 2020 میں ایم آئی ایم آئی ایم نے یہاں پانچ سیٹوں پر جیت درج کر کے آر جے ڈی اور کانگریس کو زبردست دھچکا پہنچایا تھا، تاہم بعد میں چار ارکانِ اسمبلی آر جے ڈی میں شامل ہو گئے تھے۔ اب 2025 میں ایک بار پھر ایم آئی ایم آئی ایم اپنی کھوئی ہوئی زمین واپس لینے کی کوشش کر رہی ہے، جبکہ پرشانت کشور کی جن سوراج پارٹی سیمانچل اور پورنیہ کے علاقوں میں نئی سیاسی طاقت کے طور پر ابھر کر سامنے آنے کے لئے تیار ہے۔
ترہت کی سر زمین اس بار بھی این ڈی اے کے لئے مضبوط مانی جا رہی ہے۔یہاں 2020 کے انتخابات میں اسے 40 میں سے 31 سیٹوں پر کامیابی ملی تھی۔ مانا جا رہا ہے کہ یہاں کا نتیجہ اس بار بھی ریاستی اقتدار کا دروازہ کھولنے میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔ مگدھ کے خطے میں، جس میں گیا، اورنگ آباد، نوادہ، جہان آباد اور ارول جیسے اضلاع شامل ہیں، مہاگٹھ بندھن کے امیدوار اپنی پرانی گرفت برقرار رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ گیا ضلع میں جیتن رام مانجھی کی پارٹی ’ہم‘ کے لئے یہ الیکشن در اصل وجود کا امتحان ثابت ہونے والا ہے۔یہاں تین اہم نشستوں پر اس کے امیدواروں کو سخت مقابلے کا سامنا ہے۔سیاسی ماہرین کے مطابق، اس بار انتخاب کا دائرہ دو نہیں بلکہ تین یا چار سمتوں میں بٹا ہوا ہے۔ این ڈی اے اور مہاگٹھ بندھن کے ساتھ ساتھ ایم آئی ایم آئی ایم اور جن سوراج جیسے نئے متبادلوں نے کئی حلقوں میں مثلثی یا چہار رخی مقابلے کا ماحول بنا کر این ڈی اے اور مہا گٹھ بندھن دونوں کی بولتی بند کر دی ہے۔حالانکہ بی جے پی نے مسلم اور یادو اکثریتی علاقوں میں نئے امیدواروں کو سامنے لا کر سماجی مساوات کے روایتی توازن کو بدلنے کی کوشش کی ہے۔ ادھر آر جے ڈی اور کانگریس نے سیمانچل میں اپنے ’کور ووٹ بینک‘ کو منظم رکھنے کے لئے متواتر جلسوں، پد یاترا اور عوامی رابطہ مہم کا سہارا لیا ہے۔
دوسرے مرحلے میں متعلقہ حلقوں کے ووٹرز کل 11 نومبر کو صبح سات بجے سے شام پانچ بجے تک ووٹ ڈالیں گے۔ اس کے لئے الیکشن کمیشن نے سیکورٹی کے سخت انتظامات کیے ہیں، اور اس بار ’ڈیپ فیک‘ ویڈیوز، افواہوں اور سوشل میڈیا پروپیگنڈا پر بھی کڑی نظر رکھی جا رہی ہے۔ پولیس کے سائبر سیل نے 150 سے زائد مشتبہ اکاؤنٹس کی نشاندہی کی ہے، جو فرضی خبریں اور گمراہ کن ویڈیوز پھیلا رہے تھے۔ انتخابی عمل کی شفافیت کے لئے یہ قدم نہایت اہم ہے۔
قابلِ غور ہے کہ 2020 کے مقابلے میں اس بار نوجوان ووٹروں کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ اگر یہ طبقہ فعال انداز میں حصہ لیتا ہے تو نتائج میں نیا توازن پیدا ہو سکتا ہے۔ دوسری طرف، دیہی علاقوں میں مہنگائی، روزگار، اور مقامی ترقی کے سوالات عوامی ترجیحات پر اثر انداز ہو رہے ہیں۔ گرچہ گزشتہ 6 نومبرکو ہوئی پہلے مرحلے کی ووٹنگ اور کل 11 نومبر کو ہونے والی دوسرے مرحلے کی ووٹنگ کا نتیجہ 14 نومبر کو سامنے آئے گا، مگر اس کے سیاسی اشارے پہلے سے ہی محسوس کیے جانے لگے ہیں۔ اگر این ڈی اےترہت میں اپنی برتری برقرار رکھتے ہوئے مگدھ کی جانب اپنا قدم بڑھانے کامیاب ہوتا ہے، یا مہاگٹھ بندھن سیمانچل کے اپنے قلعے کو واپس جیت لیتا ہے، تو اقتدارکا تنا بانا یکسر بدل سکتا ہے۔ چناؤ کا یہ دوسرا مرحلہ صرف ایک انتخابی مرحلہ نہیں بلکہ عوامی شعور کا امتحان بھی ہے۔ چنانچہ عوام کے ووٹ ہی یہ طے کرنے والے ہیں کہ 2025 کے بعد بہار امن و امان، ترقی، اتحاد اور شفافیت کے راستے پر گامزن ہوگا یا پھر ذات پات ، دھرم مذہب اور سیاسی مفادات کےجال میں الجھ کر رہ جائے گا۔
*******************

