بہار اسمبلی انتخابات، 2025 کے اختتام کے بعد محض چند دنوں میں یہ حقیقت پوری وضاحت کے ساتھ سامنے آ گئی ہے کہ نو تشکیل این ڈی اے حکومت، بالخصوص وزیر اعلیٰ نتیش کمار، صرف وعدے کرنے والی سیاست نہیں بلکہ عملی پیش قدمی اور تیزی سے فیصلے نافذ کرنے والی حکمرانی کا نیا نمونہ پیش کرنے کے لئے پوری طرح سے تیار ہیں۔ریاستی حکومت کی تشکیل کے ابھی پندرہ دن بھی مکمل نہیں ہوئے ہیں کہ وہ تمام اہم اعلانات، جو انتخابی مہم کے دوران عوام کے سامنے رکھے گئے تھے، عملی شکل اختیار کرنے لگے ہیں۔تجزیہ کاروں کے مطابق اس سرگرمی نے حکومت کی سنجیدگی، نیت اور انتظامی توانائی پر عوام کے اعتماد کو مضبوط کیا ہے۔
سب سے زیادہ نمایاں سرگرمی’’وزیراعلیٰ خواتین روزگار یوجنا‘‘ کے تحت نظر آئی ہے۔ اگرچہ اپوزیشن نے اسے انتخابی رشوت یا عارضی فائدہ قرار دینے کی کوشش کی تھی، مگر حکومت نے اس پروپیگنڈے کو سختی کے ساتھ زمینی حقائق کے ذریعے بے اثر کر دیا ہے۔ الیکشن کے فوراً بعد ہی مزید دس لاکھ خواتین کے کھاتوں میں دس، دس ہزار روپے منتقل کر دیے گئے ہیں۔ اس سے اپوزیشن کا یہ الزام خودبخود ختم ہو گیا ہےکہ انتخاب کے بعد اسکیم روک دی جائے گی یا رقم واپس لی جائے گی۔ حکومت نے واضح کر دیا ہے کہ یہ کوئی وقتی اعلان نہیں، بلکہ خواتین کی معاشی شمولیت اور دیہی معیشت کے استحکام کے وسیع تر پروگرام کا حصہ ہے۔ مجموعی طور پر 1.56 کروڑ خواتین اس اسکیم سے مستفید ہو چکی ہیں، اور اگلے مرحلے میں کامیاب کاروبار کرنے والی خواتین کو دو، دو لاکھ روپے مزید ملنے والے ہیں۔ یہ یقینی طور پر بہار کی معاشرتی و اقتصادی ساخت کو مضبوط بنیاد فراہم کرے گا۔
اسی طرح نتیش حکومت کے سب سے بڑے وعدوں میں سے ایک،پانچ برس میں ایک کروڑ ملازمتوں اور روزگار کے مواقع،پر بھی نہایت سرعت سے پیش قدمی ہوئی ہے۔ وزیر اعلیٰ نے تمام محکموں اور ڈویژنل کمشنروں کو ہدایت دی ہے کہ31 دسمبر تک تمام خالی عہدوں کی تفصیلات جنرل ایڈمنسٹریشن ڈپارٹمنٹ کو فراہم کر دی جائیں۔ اس کے بعد یہ تمام آسامیاں متعلقہ کمیشنوں کو بھیجی جائیں گی۔ یہ اقدام بہار کی سرکاری مشینری میں نہ صرف شفافیت لائے گا بلکہ نوجوانوں کے لئے روزگار کی منظم راہ ہموار کرے گا۔ انتخابی وعدوں کو فوری عملی شکل دینے کی یہ رفتار بہار کی سیاسی تاریخ میں کم ہی دیکھنے کو ملی ہے۔
ترقی کا ایک اور اہم ستون صنعتی شعبے کی توسیع ہے۔ اس سمت میں بھی حکومت نے برق رفتاری دکھائی ہے۔ چیف سکریٹری کی سربراہی میں ایک اعلیٰ اختیاراتی کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے، جو نئی صنعتی اکائیوں کے قیام کے لیے ضابطوں، اجازت ناموں اور سرمایہ کاری کو تیز رفتار راستہ فراہم کرے گی۔ حکومت نے اے آئی مشن اور آئی ٹی سیکٹر کے فروغ جیسے جدید تقاضوں پر مبنی منصوبوں پر بھی کام شروع کر دیا ہے، جو مستقبل کے معاشی تناظر میں بہار کو نئی جہت دیں گے۔
ترقیاتی رفتار کی ایک تازہ مثال کھپورسلی گڑی ایکسپریس وے کے کام میں تیزی ہے، جو انتخابات کے فوراً بعد دوبارہ پوری رفتار سے شروع ہو گیا ہے۔ یہ 6-لین گرین فیلڈ ایکسپریس وے بہار کے آٹھ اہم اضلاع سے گزرے گا اور اس کی تکمیل سے نہ صرف یوپی بہار کے درمیان آمد و رفت آسان ہو گی، بلکہ پورے خطے کی معاشی سرگرمیوں میں غیر معمولی اضافہ ہوگا۔ مشرقی چمپارن میں زمین کے حصول کا عمل تیزی سے جاری ہے، اور اس پراجیکٹ کے ذریعے ہزاروں لوگوں کو روزگار ملنے کی توقع ہے۔ تقریباً 32 ہزار کروڑ روپے کی یہ سرمایہ کاری بہار کی زمینی، تجارتی اور صنعتی اہمیت کو نئی سطح پر لے جائے گی۔
گزشتہ چند دنوں کے اندر ہونے والی سرگرمیاں اس سمت اشارہ کرتی ہیں کہ بہار کی نئی حکومت انتخابی بیانات کو محض سیاسی نعرے نہیں سمجھتی، بلکہ انہیں پالیسی کی شکل دے کر عملی نتائج میں بدلنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ خواتین کی معاشی بااختیاری، نوجوانوں کے لئے روزگار کے مواقع، صنعتی سرمایہ کاری، بنیادی ڈھانچے کی تعمیر یہ سب مل کر اس بات کی دلیل ہیں کہ بہار ایک نئے دور میں داخل ہو رہا ہے۔ اگر یہی رفتار برقرار رہی تو آنے والے برسوں میں بہار نہ صرف سماجی و معاشی ترقی کی نئی مثال قائم کرے گا، بلکہ پورے ملک کے لئے گورننس کا ایک قابل تقلید ماڈل بھی پیش کرے گا۔

