آج بہار کا فیصلہ کن دن

تاثیر 13 نومبر ۲۰۲۵:- ایس -ایم- حسن

آج 14 نومبر 2025 ہے۔ بہار کی سیاسی فضا میں توقع، جوش اور بے چینی کی ایک طوفانی لہر دوڑ رہی ہے۔ ای وی ایم کے اندر بند قسمت آج باہر نکلنے والی ہے۔ امیدواروں کی دل کی دھڑکنیں تیز ہیں، حامیوں کی آنکھیں جمی ہوئی ہیں اور سیاسی کیمپوں میں خاموشی چھائی ہوئی ہے۔ گزشتہ روز تک جاری ایگزٹ پولز نےاین ڈی اے کو واضح برتری دی، مگرمہاگٹھ بندھننے انہیں یکسر مسترد کرتے ہوئے اپنی جیت کا پراعتماد دعویٰ کیا۔ اب حتمی حقیقت آج سامنے آنے والی ہے۔
مرکزی الیکشن کمیشن اور میڈیا سروے کے مطابق بہار نے اس بار 70 سالہ ریکارڈ توڑ دیا ہے۔ انتخابات کے دوسرے مرحلے میں کل 67.13 فیصد ووٹنگ ہوئی، جس میں خواتین کا حصہ 71.78 فیصد رہا، جو مردوں (62.98 فیصد) سے کہیں زیادہ ہے۔ یہ پہلا موقع ہے، جب پورے صوبے میں کوئی ری پول نہ ہوئی اور نہ ہی تشدد یا دھاندلی کی کوئی قابل ذکر شکایت سامنے آئی۔ الیکشن کمیشن نے 17 نئی اصلاحات متعارف کروائیں، جن میں’ ای سی آئی نیٹ ‘پلیٹ فارم اور 90 ہزار سے زائد پولنگ اسٹیشنز پر ویب کاسٹنگ شامل تھیں۔ یہ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ بہار کی جمہوریت اب بالغ ہو چکی ہے، جہاں عوام کی بھرپور شمولیت نے انتخابی عمل کو مثال بنا دیا ہے۔ این ڈی اےکے رہنما، جیسے مرکزی وزیر گریراج سنگھ اور بی جے پی صدر دیلیپ جیسوال، اسے ترقی اور نریندر مودی و نتیش کمار کے قیادت کی فتح قرار دے رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ عوام نے’’تبدیلی ‘‘کے بجائے استحکام کو ترجیح دی ہے، خاص طور پر خواتین ووٹرز نے جو نتیش  کمارکے ویلفیئر اسکیمز کی وجہ سے ان کی طرف مائل نظر آئیں۔
بہار این ڈی اے میں جشن کا ماحول ہے۔ جے ڈی یو آفس کے باہر’’ٹائیگر ابھی زندہ ہے ‘‘ کے پوسٹرز لگے ہیں،جو وزیر اعلیٰ کی حیثیت سے نتیش کمار کی پانچویں مدت کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ بی جے پی رہنما رام کرپال یادو اور وزیر پریم کمار کا دعویٰ ہے کہ ایگزٹ
پولز سے پہلے ہی عوام کا رجحان واضح تھا، اور نتائج این ڈی اے کی بھاری جیت کی تصدیق کریں گے۔ انہوں نے مٹھائیوں کی تقسیم کے ساتھ جشن کی تیاریاں شروع کر دی ہیں، جبکہ نتیا نند رائے جیسے رہنما کہتے ہیں کہ ترقی کے ووٹ صرف مودی اور نتیش کے ہاتھوں میں محفوظ ہیں۔
اِدھر مہاگٹھ بندھن کی جانب سے ایگزٹ پولز کو سرے سے مسترد کرتے ہوئے اسے ’’دھاندلی کی بنیاد‘‘ قرار دیا جاتا رہا ہے۔ مہا گٹھ بندھن کے لیڈر وں کے ذریعہ کہا گیا ہے کہ تیجسوی یادو 18 نومبر کو وزیر اعلیٰ کا حلف اٹھائیں گے۔اترپردیش کے سابق وزیر اعلیٰ اکھلیش یادو نے اگزٹ پولز کو’’بی جے پی کی سازش‘‘ کہاہے۔تیجسوی یادونے میڈیا کی پرانی غلطیوں کا حوالہ دے کر انہیں مسترد کر دیا ہے۔ راجد رہنما راجیو رنجن کا دعویٰ ہے کہ مہاگٹھ بندھن کو 132 سیٹیں ملیں گی، جبکہ این ڈی اے کو 103۔ یہ اعداد و شما راگزٹ پولز کی متضاد رائے کو ظاہر کرتے ہیں۔ساتھ ہی یہ یاد دلاتے ہیں کہ یہ وہی اگزٹ پولز ہیں ، جو ماضی میں کئی بار غلط ثابت ہو چکےہیں۔سوشل میڈیا کے ذریعہ بھی یہ بتایا جا رہا ہے کہ کانٹےکے مقابلے میں جیت آخر کار مہا گٹھ بندھن کی ہونے والی ہے۔ زیرو گراؤنڈ حقائق کے حوالے سے کہا جا رہاہے کہ کوئی بھی چالاکی مہاگٹھ بندھن کو حکومت بنانے اور تیجسوی کو وزیر اعلیٰ بننے سے نہیں روک سکتی ہے۔ بعض تجزیہ کاروں کا بھی خیال ہے کہ یہ ایگزٹ پولز این ڈی اے کو 150 سے زائد سیٹیں دے رہے ہیں، مگر ووٹر ٹرن آؤٹ کے اونچے گراف اور خواتین کی زبردست شرکت مہاگٹھ بندھن کو فائدہ دے سکتی ہے۔ریاست کے بے روزگار نوجوانوں کی حمایت بھی مہا گٹھ بندھن کے ساتھ رہی ہے۔ایسے میں مہا گٹھ بندھن کے حق میں ہی نتایج آنے والے ہیں۔
بہر حال حتمی نتائج آج آ رہے ہیں۔دیکھنا ہے کی کن کی پیش گوئیاں صحیح ثابت ہوتی ہیں اور کن کی ہوا ہوائی۔آج طے ہو جائے گا کہ بہار کی اکثریت ’’اقتدار کے تسلسل‘‘  کے ساتھ ہے یا ’’اقتدار کی تبدیلی ‘‘  کے ساتھ۔ووٹوں کی گنتی کی تمام تیاریاں کل شام تک مکمل کر لی گئی تھیں۔ تمامتر حفاظتی انتظامات کے درمیان ریاست کے  46 کاؤنٹنگ سینٹرز پر آج صبح آٹھ بجے سے ووٹوں کی گنتی شروع ہو جائے گی۔آج سامنے آنے والے نتائج  یقیناََ بہار کی سیاسی تاریخ ایک نئے باب کا اضافہ کریں گے۔