تاثیر 26 نومبر ۲۰۲۵:- ایس -ایم- حسن
دہلی ایک بار پھر زہریلی ہوا کے قید خانے میں بدل چکی ہے۔آج 27 نومبر کی صبح دارالحکومت مسلسل بارہویں دن ’’بہت خراب‘‘ فضائی کیفیت کے ساتھ جاگی ہے۔ شہر کا اوسط اے کیو آئی 353 تک پہنچ جانا صرف ایک ماحولیاتی اطلاع نہیں بلکہ ایک اجتماعی انتباہ ہے کہ دہلی اب محض فضائی آلودگی کا نہیں، صحت کے شدید بحران کا سامنا کر رہی ہے۔ بچوں کے اسپتالوں میں سانس کی خرابی کے کیسز بڑھ رہے ہیں، معمر افراد کھانسی اور بخار سے نڈھال ہیں، اور ڈاکٹروں نے گھر سے باہر نکلنے پر ماسک لازمی قرار دے دیا ہے۔ سوال یہ نہیں کہ حالات کتنے خراب ہیں، اصل سوال یہ ہے کہ ہر سال اسی طرح کی تشویشناک صورتحال کا سامنا کیوں کرنا پڑتا ہے ؟
کمیشن فار ایئر کوالٹی مینجمنٹ (سی اے کیو ایم) نے ہنگامی قدم اٹھاتے ہوئے سرکاری و نجی دفاتر میں صرف 50 فیصد عملہ کی جسمانی موجودگی کی اجازت دی ہے، باقی ملازمین گھر سے کام کریں گے۔ یہ فیصلہ وقتی ریلیف تو دے سکتا ہے مگر مسئلے کا مستقل حل نہیں ہے۔ دہلی میں جی آر اے پی کے اسٹیج-III کے تحت اسٹیج-IV کے کچھ سخت اصول نافذ کیے گئے ہیں،ٹریفک کی رفتار کم کرنا، غیر ضروری گاڑیوں کی نقل و حرکت روکنا اور دفتری اوقات میں لچک پیدا کرنا۔ لیکن یہ وہ اقدامات ہیں، جو اس وقت کیے جاتے ہیں جب شہر پہلے ہی ایمرجنسی موڈ میں داخل ہو چکا ہو۔
اصل سوال یہ ہے کہ دہلی ہر نومبر میں اسی سانس گھونٹ دینے والی کیفیت تک کیوں پہنچتی ہے؟ ٹریفک کا دھواں، تعمیراتی گرد، صنعتی اخراج، ناقص شہری منصوبہ بندی اور پڑوسی ریاستوں میں پرالی جلائے جانے جیسے عوامل برسوں سے پہچانے ہوئے ہیں، مگر ان پر مستقل حکمتِ عملی اب تک مرتب نہیں کی جا سکی ہے۔ حکومتیں ہر سال عارضی پابندیاں لگاتی ہیں، مگر آلودگی کے ڈھانچے کو جوں کا توں رہنے دیتی ہیں۔ نتیجہ یہ کہ دہلی بار بار انھی سخت ہدایات، انھی ماسکوں اور اسی خوف کے ساتھ موسمِ سرما کا استقبال کرتی ہے۔
دلچسپ مگر تشویشناک حقیقت یہ ہے کہ اس سال فضائی کیفیت پر ایک نئے بیرونی عنصر کا بھی اثر ممکن ہے، اور وہ ہےایتھوپیا کے آتش فشاں ہایلی گبّی کے پھٹنے سے اٹھنے والی راکھ۔ اگرچہ موسمیاتی ماہرین کے مطابق یہ راکھ چین کی جانب بڑھ رہی ہے اور بھارت پر بڑے پیمانے پر اثر کا امکان کم ہے، مگر بھارتی محکمہ موسمیات (آئی ایم ڈی) نے دہلی-این سی آر، پنجاب، ہریانہ اور راجستھان پر اس کے ممکنہ اثرات کا عندیہ ضرور دیا ہے۔ یہ صورتحال واضح کرتی ہے کہ دہلی کا فضائی بحران اب صرف مقامی مسئلہ نہیں، بلکہ بدلتے عالمی ماحولیات کے تناظر میں مزید پیچیدہ ہو چکا ہے۔
ایک تشویشناک حقیقت یہ بھی سامنے آئی ہے کہ منگل کے روز دہلی کے آلودگی میں سب سے بڑا، تقریباً 20 فیصد سے زیادہ حصہ گاڑیوں کا تھا۔ اس کے مقابلے پرالی جلانے کا حصہ محض ڈیڑھ فیصد رہا۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ دہلی خارجی سے کہیں زیادہ اپنی داخلی آلودگی سےپریشان ہے۔ بے ہنگم گاڑیوں کا ازدحام، کمزور پبلک ٹرانسپورٹ اور تیزی سے محدود ہوتے سبزہ زار وغیرہ ایسے عوامل ہیں،جن کی وجہ سے آلودگی بے قابو ہو گئی ہے۔دوسری طرف، شہر کی توسیع اور تعمیراتی سرگرمیوں نے فضا میں مسلسل گرد اور دھول شامل کی ہے۔ قوانین موجود ہیں مگر ان پر عمل نہ ہونے کے برابر ہے۔ ماحولیات کے ماہرین بارہا کہہ چکے ہیں کہ دہلی کو ایک مربوط ایئر مینجمنٹ سسٹم کی ضرورت ہے، جس میں این سی آر کی تمام ریاستیں برابر کی شریک ہوں۔ آلودگی ہوا کی طرح سرحدوں کو نہیں مانتی، مگر پالیسیاں اب بھی صوبائی دیواروں میں قید ہیں۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ دہلی کے شہری خود بھی اس بحران میں شریک ہیں۔ ذاتی گاڑیوں پر انحصار، پبلک ٹرانسپورٹ سے لاپرواہی، کھلے میں کچرا جلانے کی روایت اور سبزہ کاری سے بے رغبتی نے صورتحال کو مزید بگاڑا ہے۔ ایسے میںصرف حکومت کو ذمہ دار ٹھہرا کر سانسیں بحال نہیں ہو سکتیں۔وقت کا تقاضا یہ ہے کہ حکومتی اقدامات وقتی ردعمل سے نکل کر مستقل منصوبہ بندی کی شکل اختیار کریں۔ پبلک ٹرانسپورٹ کو مضبوط بنانا، ڈیزل اور پٹرول گاڑیوں کی تعداد کو کم سے کم کرنا، تعمیراتی سائٹس کے لئے سخت مانیٹرنگ، اور سبز پٹیوں میں اضافہ،یہ سب اقدامات الفاظ کے بجائے عملی صورت میں نظر آنے چاہئیں۔چنانچہ دہلی کے لوگ اب صرف ماسک اور دعاؤں کے محتاج نہیں رہ سکتے۔ اگر آج بنیادی وجوہات کا مؤثرعلاج نہ کیا گیا تو آنے والے برسوں میں دہلی صرف دھند میں ہی نہیں ڈوب جائے گی بلکہ صحت سے متعلق کئی طرح کے سنگین مسائل سے بھی دوچار ہو جائے گی ۔فضا کو صاف کرنے کا وقت آج ہے،کل شاید بہت دیر ہو چکی ہوگی !

