تاثیر 15 نومبر ۲۰۲۵:- ایس -ایم- حسن
واشنگٹن،15نومبر:امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ دیگر ممالک کی طرح جوہری ہتھیاروں کے ٹیسٹ کرے گا، لیکن انہوں نے یہ وضاحت دینے سے انکار کر دیا کہ آیا منصوبوں میں کسی جوہری وار ہیڈ کا دھماکہ شامل ہے یا نہیں۔ٹرمپ نے امریکی صدر کی طیارہ (ایئر فورس ون) میں صحافیوں سے اس وقت گفتگو کی جب وہ فلوریڈا چھٹیوں کے لیے جا رہے تھے۔ انھوں نے کہا: میں آپ کو یہ نہیں بتانا چاہتا، لیکن ہم دیگر ممالک کی طرح جوہری تجربات کریں گے، جیسا کہ ’رائٹرز‘ نے نقل کیا۔
ٹرمپ نے گزشتہ ماہ امریکی فوج کو حکم دیا تھا کہ 33 سال کے توقف کے بعد فوراً جوہری ہتھیاروں کے ٹیسٹ دوبارہ شروع کیے جائیں، یہ اعلان انہوں نے اچانک’ٹروتھ سوشیل‘ پلیٹ فارم پر کیا، جب وہ ہیلی کاپٹر پر کوریا کے بوسان میں چینی صدر شی جن پنگ سے ملاقات کے لیے جا رہے تھے۔
اس وقت ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ جوہری تجربات کرے گا ،اگر دیگر ممالک ایسا کریں اور اس بارے میں انہوں نے تجربات کی نوعیت کے حوالے سے غیر واضح رہنے کو ترجیح دی۔ماہرین کا خیال ہے کہ امریکی صدر کی جانب سے جوہری تجربات دوبارہ شروع کرنے کی کوشش میں کئی سال لگ سکتے ہیں اور اس پر لاکھوں ڈالر خرچ ہوں گے، جبکہ اس کا اسٹریٹجک فائدہ نہ ہونے کے برابرہوگا۔جو ادارہ حقیقت میں یہ تجربات کراتا ہے وہ نیشنل نیوکلیئر سیکیورٹی ایڈمنسٹریشن ہے، یہ وزارت توانائی کے تحت کام کرتا ہے اور لاس ویگاس کے شمال مغرب میں نیواڈا ٹیسٹنگ سائٹ کی نگرانی کرتا ہے، جہاں آخری امریکی جوہری تجربہ ستمبر 1992 میں کیا گیا تھا۔

